bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / بڑے گھروں کے مکیں

بڑے گھروں کے مکیں

یہ کہنا تو درست نہ ہوگا کہ ماسٹر محمد نثا رنے جہلم شہر کے مشین محلہ نمبر 2 میں یہ مکان اپنے اچھے وقتوں میں بنالیا تھا۔ پانچ بچوں کے باپ ماسٹر نثار پہ معاشی اعتبار سے دراصل اچھا وقت کبھی آیا ہی نہ تھا۔ تو تین مرلے کا یہ مکان بس بن گیا تھا۔ کیسے بنا؟ نہیں معلوم۔ اسی مکان میں اس نے اپنے دو بڑے بیٹوں کی شادیاں کیں۔ مناسب سفارش نہ ہونے اور معمولی نوکری کی بناء پر دونوں بیٹے اپنی بیویوں کے ہمراہ وہیں رہائش پذیر رہے۔ اب ان دونوں کے چار چار بچے ہوچکے تھے۔ جس روز بھائیوں کے بچوں کے درمیان لڑائی والا یہ واقعہ پیش آیااس روز گھر میں ساہیوال سے چار مہمان آئے ہوئے تھے۔ جگہ کی کمی کے باعث بڑے بھائی محمد رحیم کا بیٹا اس جگہ چادر بچھا کر جا سویا تھا جہاں چھوٹا بھائی محمد کریم اپنی بائیسکل کھڑی کیا کرتا تھا۔ مجبوراً محمد کریم نے بائیسکل باورچی خانے میں جا کھڑی کی۔ صبح جب بڑے بھائی محمد رحیم کی بیوی ناشتہ بنانے کے لیے باورچی خانے میں گئی تو وہاں محمد کریم کی بائیسکل دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ اور پھر اس کے اور محمد کریم کی بیوی کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ یہی جھڑپ بڑھتے بڑھتے دونوں بھائیوں اور ان کے بچوں کے درمیان لڑائی کی صورت میں جا پہنچی۔ تب ہی محمد کریم نے طیش میں آکر چھریوں کے پے درپے وار کرکے محمد رحیم کو قتل کردیا۔ سفید پوش ماسٹر محمد نثار سے یہ صدمہ اور ذلت برداشت نہ ہوسکی اور اس نے خود کشی کرلی۔ قارئین کرام! اپنے ملک میں یہ خبر کوئی انوکھی نہیں۔ ایسی ہی اور اس سے ملتی جلتی خبریں آپ آئے دن اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں۔ اپنے ملک کی آبادی کا 80 فیصد حصہ تقریباً اتنی ہی مکانیت کے مسائل کا شکار ہے۔ مکان تین مرلے کے ہوں گے، پانچ مرلے کے ہوں اور سات مرلے کے ہوں اور افراد خانہ کی تعداد اسی کے لگ بھگ ہوگی۔ مگر ہمارے رہنما جو ہمیں اسلام کے زریں اصولوں کی مثال دیتے ہوئے غریبوں کی دردمندی کی بات کرتے ہوئے نہیں تھکتے کیا خود بھی اسی طرح کے مسائل کا شکار ہیں؟ ان سب کی محل نما بڑی بڑے بڑے رقبوں پہ محیط رہائش گاہیں ایک دوسرے کو شرماتی ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کا رائے ونڈ میں، لندن مے فیئر کے اربوں روپے مالیت کے فلیٹس، سعودی عرب میں شریف پیلس، پھر آصف علی زرداری کا سرے محل، پاکستان میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے بحریہ ٹاؤنز میں محلات، او رعمران خان کا بنی گالہ میں 300 کنال پر محیط محل، وہ مثالیں ہیں جو صرف ہمارے تین سب سے بڑے سیاسی رہنماؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ کہ دنیا بھر کے مسلمان رہنماؤں کا یہی وطیرہ ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے۔ عرب میں سینکڑوں، ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اور چاندی کی دیواریں ہیں۔ ذرا پاکستان کو پھر ملاحظہ فرمائیے۔ ایوان صدر کو دیکھیں، وزیراعظم ہاؤس جس کے باتھ روم کو جدت سے آراستہ کرنے کے لیے اڑھائی کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کردی گئی۔ پھر گورنر ہاؤسز کے رقبوں اور شان و شوکت کو دیکھیں۔ جی ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب بڑے گھر ہیں۔ پاکستان ہی کے ایک ضلع میں 18 ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر 106 کنال پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کے وزیراعظم کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا بڑا ہے۔ لاہور کا گورنر ہاؤس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے اور ایوان صدر جس کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے، کئی ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ پھر ان سب رہائش گاہوں سے ہٹ کر ان کے مکینوں کے لائف سٹائل کو دیکھیں اور اس کا مقابلہ ترقی یافتہ قوموں کے لائف سٹائل سے کریں۔
بل گیٹس دنیا کا امیر ترین آدمی ہے۔ دنیا بھر میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے زیادہ ہیں۔ باقی 192 ممالک اس سے کہیں زیادہ غریب ہیں۔ لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، اپنے برتن خود دھوتا ہے۔ سال میں ایک یا دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اس کا دفتر مائیکروسوفٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں۔ وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے۔ اس کے پاس 50 برس پرانا اور چھوٹا گھر ہے اور اس کے پاس 1980ء ماڈل کی پرانی گاڑی ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈ روم کا گھر ہے۔ جرمنی کی چانسلر کو سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک ڈرائنگ روم پر مشتمل رہائش گاہ ملی ہے۔ اسرائیل کا وزیر اعظم ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے اور کبھی کبھار اس کی بجلی بھی کٹ جاتی ہے۔ چلئے یہ بھی جانے دیجئے، یہ بتائیے آپ نے کتنی مرتبہ بھارت کے وزیراعظم کے بارے میں سنا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کی غرض سے یورپ یا امریکہ گئے۔ جب کہ ہمارے وزیراعظم اور دوسرے رہنماؤں کا لندن جائے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ خدائے برتر کی قسم ان رہنماؤں کے لائف سٹائل پہ کبھی اعتراض نہ ہوتا اگر ہمارا سابقہ ماسٹر نثار کی خودکشی اور اس کے بڑے بیٹے کے قتل کی خبروں سے نہ پڑتا۔ اگر رکشا گاڑیوں اور سڑکوں کے کنارے چادر تان کر مفلس خواتین بچوں کو جنم نہ دیتیں۔ آپ متوسط درجے اور نچلے درجے کے طبقوں کے گھروں میں میاں بیوی کی لڑائیوں کا تجزیہ کرکے دیکھ لیں۔ 80 فیصد لڑائیوں کی وجہ معاشی تنگی ملے گی۔ اور پھر کروڑوں کی تعداد میں جھونپڑیوں کے مکین، جنہوں نے احتجاج تک کرنا چھوڑ دیا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاج ان کے حق سے اوپر کی شے ہے۔ دور مت جائیے، صرف اپنے اردگرد کے ماحول کو ملاحظہ فرمائیے۔ آپ دیکھیں گے کہ ؂
یہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلے
ہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صدا
ہر ایک گھر میں بھوک اور افلاس کا شور
ہر ایک سمت پہ انسانیت کی آہ و بکا
یہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میں
ہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہ
بے شک مایوسی کفر ہے، مگر اس ماحول میں کوئی کی ملی شادمانی کی توقع رکھے۔ چند روز قبل عمران خان ٹی وی پر بتارہے تھے کہ ہمارے وزیر اعظم کا غیرملکی دورے کے دوران ایک دن کا خرچہ 27 لاکھ روپے پہ مشتمل ہوتا ہے۔ گویا اس غریب ملک میں ہر ماہ کروڑوں روپے صرف ہمارے وزیراعظم غیرملکی دوروں پر لٹا دیتے ہیں۔ مگر کم دورے تو عمران خان کے بھی نہیں ہوتے۔ یعنی یہ وہ حمام ہے جہاں یہ سب ننگے ہیں۔ یہاں ایک کو چور کہہ کر دوسرا برسراقتدار آنا چاہتا ہے۔ یہ چھوٹے گھروندوں میں رہنے والوں کے مسائل ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر اپنے محلوں سے نکلنے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما سیاسی طور پر تو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آئیں گے، مگر نجی تقریبات میں ایک دوسرے کے مہمان نظر آئیں گے۔ یہ ماسٹر نثار کی خودکشی کے اور اس کے بیٹے کے قتل کے بعد تو شاید، شاید، شاید اس کے گھر کا دورہ کرلیں، لیکن اس کی زندگی کے دوران اس کے مسائل پہ نظر ڈالنے کی کبھی تکلیف نہ کریں گے۔ یہ بھولے ہوئے ہیں کہ یہ وہی ماسٹر ہے جس سے علم حاصل کرکے وہ اس مقام پہ پہنچے ہوئے ہیں۔ مگر کیا انہوں نے ماسٹر کے علم سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا یقین کیا؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ماسٹر تو انسانی مساوات اور معاشی ہمواری کا سبق دیا کرتا تھا ۔ مگر ان کے اعمال میں کہیں بھی انسانی مساوات اور معاشی ہمواری نظر نہیں آتی۔ ان کے محلوں کی چار دیواریاں نہایت بلند و بالا ہیں وہاں چھوٹے گھروندوں اور جھونپڑیوں میں بسنے والوں کی آہ و بکا پہنچ ہی نہیں سکتی۔

About abdul waheed

Share your Comments

comments