bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / وزیراعظم کا دوسرا دورہ دفترِ خارجہ

وزیراعظم کا دوسرا دورہ دفترِ خارجہ

رضی نامہ
وزیراعظم کا دوسرا دورہ دفترِ خارجہ
رضوان الرحمن رضی
تاریخ اشاعت : 03 جولائی 2017ء
سال 2013میں تیسری دفعہ وزارت عظمیٰ کی زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی ، وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے جب دفترِ خارجہ میں جاکر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بریفنگ چاہی تو انہیں یہ جوابِ لاجواب ملا کہ اس نام کا جانور سرے سے تحریری شکل میں موجود ہی نہیں۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے یقینناً کہا تو نہیں گیا اور نہ ہی میڈیا کے کسی حصے میں رپورٹ ہوا مگر بین السطور پیغام یہی تھا کہ سارے معاملات تو جی ایچ کیو والوں نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں، ہمارا اس سے کیا لینا دینا؟
اس پر ووٹ کے نشے میں سرشار نومولود جمہوری حکومت نے حکم جاری فرمایا کہ ’’چلیں آپ تیاری فرمائیں ، جب یہ دستاویز تیار ہو جائے تو ہمیں بتا دیجئے گا، ہم آ جائیں گے‘‘۔ پھر یہ دستاویز تیار ہوئی، اس پر بریفنگ بھی دی گئی، اور یوں ہم جیسے کوڑھ مغزعوام نے فرض کر لیا کہ اب معاملات خالصتاً حب الوطنی ،خارجہ امور کے پیشہ روانہ طریقے اور میرٹ سے آگے بڑھائے جایا کریں گے۔ اس وقت کے سیکرٹری خارجہ نے کمال مہارت سے اسی سنیارٹی کے اصول کے تحت امریکہ میں سفارت کاری پر بھی ہاتھ صاف کر لیا، جب کہ ان صاحب کی مبلغ اہلیت و قابلیت اس وقت عیاں ہو گئی جب وہ نہ صرف کہ پاکستان سے جانے والے اپنے باس طارق فاطمی سے ملاقات کا وقت ہی نہ لے سکے بلکہ انہیں نومنتخب امریکی صدر کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی پیش کرنے کے لئے وقت بھی کافی تاخیر اور بعد از خرابی بسیار مل پایا۔ ظاہر ہے ساری عمر کے ہڈحراموں نے جب کام نہیں کیا ہوگا تو پھر ملک اور اپنی ذات کے لئے یہ ’’عزت افزائی‘‘ تو ایک لازمی امر تھا۔
خیر میاں صاحب کی طرف سے اس طے شدہ پالیسی نے ابھی اطلاق کے آنکھ بھی نہیں کھولی تھی کہ طارق فاطمی اور جناب سرتاج عزیز میں گھمسان کا رن پڑ گیا اور پھر دونوں ایک دوسرے کو ’’کاٹتے ‘‘ اور اپنے پسندیدہ افسران کو آگے بڑھانے کے ایک غیر اعلان شدہ لیکن بہت ہی واضح ’’یدھ ‘‘ میں یوں مصروف ہوئے کہ خارجہ پالیسی نے دوبارہ جی ایچ کیومیں ہی پناہ لینے میں عافیت جانی۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، حسبِ عادت و حسبِ روائت معاملات کے خرابی کی اتھاہ گہرائیوں تک ڈوب جانے کے منتظر رہے اور چار سال تک پلٹ کر دیکھا بھی نہیں پوچھا کہ اس خارجہ پالیسی کا کیا حال ہے۔ اس دوران اوفا میں سرتاج عزیز کی مودی کے ہاتھوں درگت کی ویڈیو اور خبر جہاں فاطمی صاحب کے گروہ نے مقامی میڈیا کو فراہم کرکے ان کی دھنائی کروائی تو دوسری طرف سرتاج عزیز کے ساتھیوں نے فاطمی صاحب کی ٹرمپ سے ملاقات نہ ہو سکنے پر دوسرے گروہ نے خوب تالیاں بجائیں۔ اور تو اور ڈان لیکس پر جب دفترِ خارجہ کی طرف سے قربانی کے بکرے کا نام مانگا گیا تو سرتاج عزیز لابی نے جناب طارق فاطمی کا نام آگے بڑھایا اور ان کی بیگم کی این جی او کی تفصیلات بھی میڈیا کو جاری کر دیں۔
اب پتہ چلا کہ معاملات اس سطح پر چلے گئے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی نقاط یعنی افغانستان ،کشمیر اور فلسطین کے بارے میں معروضی حالات بالکل ہی تبدیل ہو گئے ہیں۔ تو پھر ہمارے وزیر اعظم کو اپنے اقتدار کے چوتھے سال ایک مرتبہ پھر یاد آیا کہ خارجہ پالیسی نامی بھی کوئی جانور ہوتا ہے اور وہ بطور وزیر خارجہ ، بذاتِ خود اس جانور پر سواری کے مقلد ہیں۔ لہٰذا وہ اپنے ہاتھوں میں پلے اپنے لاڈلے نواسے کی گریجوایشن کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ملتوی کر کے اور اپنا دورہ برطانیہ مختصر کرتے ہوئے پاکستان پلٹے اور سیدھے دفترِ خارجہ جا دھمکے ۔جہاں انہیں پتہ چلا کہ انہیں تو نئے مالی سال کے پہلے دن تاجکستان کے دورے پر جانا ہے۔
ہمارا خیال تو یہ تھا کہ اگربھارت چین، روس اور امریکہ کے علاوہ عربوں اور ایران کے ساتھ بیک وقت ایک جیسے تعلقات رکھ سکتا ہے تو ہمیں بھی ایسا ہی کوئی تماشا دکھانا اور لوہے کی تار پر چلنا سیکھ لیا ہوگا۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ ریمنڈ ڈیوس اور اس جیسے جاسوسوں کی ملک بدری کے بعد ہمارے اداروں کی طرف سے تیس ارب روپے سالانہ کے راتب پر یہی کردار ادا کرنے، بگرام کے فوجی اڈے سے احکامات کی ان کی روح کے مطابق عمل، اور حسبِ سابق تمام اغوا(یا گرفتار) کئے گئے لوگوں کو فدویانہ انداز میں امریکی فوجی حکام کے سامنے پیش کرنے کے باوجود بھی ، پاکستان یہ سب کچھ نہ کرنے والے بھارت کے مقابلے میں امریکی پالیسی میں کہیں زیادہ معتوب ہے۔ اور داعش کے ساتھ سرکاری طور پر تجارتی اور تزویراتی تعلقات کی حامل دنیا کی واحد ریاست ، بھارت ، اس تنظیم کے خلاف جنگ میں مصروف تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر رکھے ہوئے ہے۔ جب کہ ہمارے لئے یہی پیغام ہے کہ داعش پاکستان میں سراٹھا رہی ہے اس کو کچلا جائے اور ہماری سی ٹی ڈی اور نمبر ۱، القاعدہ برصغیر، القاعدہ العالمی اور لشکرِ جھنگوی العالمی نامی پردوں میں کوڑا چننے والے غریبوں اور گداگروں کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرکے امریکیوں سے ملنے والے سالانہ ساٹھ ارب روپے کے راتب کو حلال کرنے میں مصروف ہے۔
پنجابی کا ایک محاورہ ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جن باغوں کے باغبان نہیں ہوتے وہاں تمام معاملات گلہریاں سرانجام دیتی ہیں۔ اور گلہری تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ پھل کی کتنی دشمن ہوتی ہے؟ جی ایچ کیو اپنی مبلغ عقل و فہم کے مطابق اپنی متوازی خارجہ پالیسی چلاتے ہوئے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ چین کے علاوہ کوئی ہمسایہ ہمیں منہ لگانے کو تیار نہیں۔ اسکے مقابلے میں سول حکومت نے سی ٹی ڈی کو کھڑا کیا لیکن وہ کیا ہے اسکے افسران چھوٹی موٹی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے غیر ملکی شہریت سمیٹنے، مالی مفادات اینٹھنے میں اس حد تک چلی گئیں کہ کراچی کا راو انوار دبئی کا پراپرٹی ٹائیکون اور لاہور کا ایک ڈی آئی جی امریکی شہریت لینے کے علاوہ کینیڈا میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کرتا پایا گیا۔
ایسی صورت میں تو اس ملک کو ایک نہیں بلکہ دو دو (ایک مکمل وزیر خارجہ اور ایک وزیر مملکت برائے خارجہ) وزرا کی ضرورت تھی لیکن یہاں پر ایک معاونِ خارجہ کے دیہانت کے بعد اسے محض ایک مشیر سے کام چلایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کو کھل کر بتانا چاہیے تھاکہ کون ان کو وزیر خارجہ کی تقرری نہیں کرنے دیتا اور پھر اوپر سے جوتے بھی برسا رہا ہے یاپھر اس کو ایک ذمہ دار حکمران کی طرح لے کر چلنا چاہیے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پارہا۔جس کا سب سے زیادہ نقصان مملکتِ خدادا، جمہوریت اور جمہوری حکومت کو ہی ہورہا ہے۔

About Rizwan Razi

Share your Comments

comments