bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / برما کے مسلما نو ں کی پکا ر

برما کے مسلما نو ں کی پکا ر

کیا یہ اب بھی د نیا بھر کے ا نسانوں، یا کم از کم مسلما نوں کے چو نکنے کا وقت نہیں آیا؟ مسلما نو ں سے خصو صی طو ر پہ یہ سوال میں میانما رمیں بد ھ مت ا و ر فو ج کے ہا تھو ں جا ر ی ر و ہنگیا کے مسلما نو ں کی نسل کشی کے حو ا لے سے پو چھ ر ہا ہو ں۔تا ہم کیا کیا جا ئے کہ مسائل کی طر ف سے گر د ن مو ڑ کر چلنا ہم مسلما نوں کی تا ر یخ بن چکی ہے۔ا و ر یہ تا ر یخ ہے عباسی دور خلافت کے ا س ا و ا خر کی جب مسلمانوں نے جدید سائنسی اور طبی علوم پر مہارت تو حاصل کرلی تھی لیکن ان سائنسدانوں کی اکثریت کا تعلق بظاہر لبرل یا ’غیر مولوی‘ طبقے سے تھا، چنانچہ ایک ایک کرکے ان سائنسدانوں پر کبھی کفر کا فتوی لگا تو کبھی ان کی تصانیف کو گستاخی سے تعبیر کرکے جلایا جانے لگا۔ مسلمانوں میں انتہا پسندی بڑھنے لگی تو ہر دوسرا شخص فتوی جاری کرنے لگ گیا۔ پھر جب ان فتووں کا فکری ٹکراؤ ہونے لگا تو گروہ بندی شروع ہوگئی۔ شیعہ سنی کی تقسیم ہوئی پھر سنیوں اور شیعوں میں بھی مزید گروہ بندیاں ہونے لگیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب مسلمانوں کے دارلخلافہ بغداد میں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی موضوع پر مناظرے ہونا شروع ہوگئے جنہیں دیکھنے کیلئے لوگ اپنی گروہ بندیوں کے حساب سے موجود ہوتے اور پھر ہر مناظرے کے بعد مخالفین میں باقاعدہ تلواروں اور نیزوں سے جنگ ہوتی۔ غالباً سن 1258ء کا ایک ایسا ہی چمکدار دن تھا جب دارالخلافہ بغداد کی چار گلیوں میں بیک وقت چار اہم موضوعات پر مناظرے ہورہے تھے۔ پہلا مناظرہ اس بات پر تھا کہ سوئی کی نوک پر بیک وقت کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔ دوسرا مناظرہ اس اہم موضوع پر ہورہا تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام؟ تیسرے مناظرے میں یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہئے؟ ایک طبقے کا خیال تھا کہ یہ بالشت سے چھوٹی نہیں ہونی چاہئے جبکہ دوسرے گروہ کے خیال میں بالشت سے چھوٹی مسواک بھی جائز تھی۔ چوتھے مناظرے میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جارہا تھا کہ عربی میں ’’والضالین‘‘کہتے وقت ض کیلئے آواز دال کی نکالنی ہے یا ذال کی؟ اور یہ کہ ض کی ادائیگی کیلئے زبان کو کتنے زاویئے پر موڑنا واجب ہے؟ ابھی یہ مناظرے زور و شور سے جاری تھے کہ اچانک ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاریوں کا لشکر بغداد کی گلیوں میں داخل ہوا اور سب کچھ تہس نہس کرگیا۔ مسواک کی حرمت بچانے کی کوششوں میں مصروف لوگ خود بوٹی بوٹی ہوگئے۔ سوئی کی نوک پر فرشتے گننے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار بن گئے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ کوے کے گوشت کی بحث کرنے والوں کے مردہ جسم کووں نے نوچ ڈالے، ض کی درست آواز نکالنے کی کوشش کرنے والوں کی چیخوں سے زمین گونج اٹھی۔
پچھلے دنوں سوشل میڈیا کا موضوع سخن یہ تھا کہ کیا عیدالاضحی پر جانور کی قربانی ہی کی جائے یا اس رقم سے کسی غریب کی مدد کی جانی چاہئے؟ بڑے بڑے جغادری، قادری، حافظ، ملا، مولانا، قاری، ہاشمی، الغرض جس کے پاس فیس بک کا اکاؤنٹ تھا، اس نے اس موضوع پر طبع آزمائی ضرور کی لیکن نتیجہ لاحاصل۔ آخر میں سب کے حصے میں کفر اور جہالت کے فتوے آئے۔ اب مسلمانوں کو ایک اور اہم موضوع مل گیا ہے کہ عرفات کا روزہ سعودی عرب کے ساتھ رکھا جائے یا مقامی چاند کی تاریخ کے حساب سے رکھنا ہوگا؟ ایک مرتبہ پھر سب ملا حضرات خم ٹھونک کر میدان میں آگئے اور فتوی سازی شروع ہوگئی۔ ہلاکو خان کو بغداد تباہ کئے سینکڑوں برس بیت گئے لیکن قسم لے لیں جو مسلمانوں نے تاریخ سے رتی برابر بھی سبق سیکھا ہو۔ اس جہالت نے ہماری دنیا بھی خراب کردی اور آخرت میں بھی جوتے پڑوا کر رہے گی۔ لیکن ا س و قت ا س ڈر سے کہ کہیں ز یر نظر کا لم تنقید ی مضمو ن کی شکل ا ختیا ر نہ کر لے ، کیو ں نہ غو ر کیا جا ئے کہ برما کے مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے؟ گو اس موضوع پر کافی کچھ پڑھا دیکھا اور سنا جا چکا ہے، تاہم جو حل میرے ذ ہن میں ہے، اس کا دس نکاتی خلاصہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ کچھ یو ں ہے:
(1) سب سے اہم اور اولین بات یہ ہے کہ ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ہر نماز کے بعد، راتوں کو اٹھ کر اور دعا کی قبولیت کے اوقات میں۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کی ذات ہر چیز پر قادر ہے اور اگر ہمارے دلوں میں واقعی ان کا درد ہے تو ضرور وہ ہمیں ان مواقع پر یاد رہیں گے اور اگر یہ دعوے محض زبانی دعوے ہیں تو پھر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ (2) سوشل میڈیا استعمال کرنے والے تمام مسلمان اگر یکجا اور یکسو ہوکر منظم طریقے سے اس مسئلہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں تو بہت فرق پڑسکتا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ان ہیش ٹیگز کو زیادہ سے زیادہ اپنی پوسٹس میں استعمال کیا جائے اور فضول پوسٹنگ سے بچتے ہوئے اپنی دلچسپی کا محور اسی کو بنایاجائے۔ #saverohingyamuslims#SAVEROHINGYA۔ (3) پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اپنی بساط کی حد تک اس مسئلے کو اجاگر کیاجائے۔ اس معاملے میں کسی بھی اخبار یا چینل سے وابستہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حصے کا کام کرے۔ کوئی مضمون لکھ سکتا ہے، رپورٹ بناسکتا، پیکج بناسکتا ہے، ڈاکیومینٹری بناسکتا ہے تو بنائے۔یہ ہرگز نہیں کہنا چاہیے کہ میرے کرنے سے کیا ہوجائے گا؟ اس لیے کہ قیامت میں آپ سے آپ ہی کے عمل کا پوچھا جائے گا اور آپ کے بس سے زیادہ کسی چیز کا نہیں پوچھا جائے گا۔ (4) پاکستانی حکومت ،اقوام متحدہ ،او آئی سی اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم ممالک کو اپنے موثر احتجاج اور میڈیا کے ان سارے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے متوجہ کیاجائے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے برمی حکومت کو قتل عام روکنے پر مجبور کرے اور انڈونیشیا کے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی مانند اراکان کو آزادی دلوائے۔ (5) اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں موجود ہر ایک رکن اسمبلی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اسمبلی میں اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ عوام اپنے متعلقہ رکن اسمبلی کو اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کریں اور ہر رکن اسمبلی اس کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرے۔ (6) ترکی نے اس موقع پر بھی قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ بنگلہ دیش اگر اپنے بارڈر ان مسلمان بھائیوں کے لیے کھول دیتا ہے تو بڑی حد تک ان کی داد رسی کی جاسکتی ہے اور یہ سارے اخراجات ترکی حکومت برداشت کرے گی۔ (7) بے گھر ہوکر جنگلوں میں یا بنگلہ دیش کے بارڈر پر پناہ گزینوں کی انسانی ضروریات کو پورا کرنا بھی اس مشن کا حصہ ہونا چاہیے۔ دواؤں ،کھانوں اور دیگر ضروریات کی کفالت کے لیے مناسب بندوبست کیا جائے ۔ اس سلسلے میں حضرت مولانا نورالبشر صاحب دامت برکاتہم (مہتمم معہد عثمان بن عفان کورنگی) سے رابطہ کرکے ممکنہ طریقہ کار کے بارے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔(8) جو لوگ اور ادارے اس حوالے سے کوشش کررہے ہیں ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے۔ (9) برما کے سفارت خانے میں فون، میسج ای میل اور فیکس کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ رابطہ نمبر اور پتا درج ذیل ہے۔ جواب موصول ہونے پر اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ (10)سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اراکین بھی احتجاج کا آئینی و جمہوری حق استعمال کریں اور عوام الناس میں بیداری اور آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس بارے میں ایکشن لینے پر مجبور کرے۔

About Quratulann Shakoor

I am freelance content writer. I am very passionate in writing good stuff. I have done my BS in mass communication. Currently I am a blogger at express tribune blog, having three adorable kids gave me sense on writing good stuff & sharing my parenting journey in different magazine also. My hobbies are reading writing and traveling. I tweets @annyshahid19

Share your Comments

comments