bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / دو ہزار ایک میں 11 ستمبر کا دن

دو ہزار ایک میں 11 ستمبر کا دن

آ ج سے ٹھیک سو لہ بر س پہلے نیویارک میں منگل کا د ن ا یک عا م سا د ن تھا ۔ یہ ۱۱ ستمبر 2001ء کا دن تھا۔ زیادہ تر لوگ دفتروں اور کاروباری مراکز میں پہنچ چکے تھے۔ کچھ ابھی راستے میں تھے۔ پھر پونے نو بجے کے لگ بھگ یا اگر ٹھیک ٹھیک وقت کا تعین کیا جائے تو 8 بج کر 46 منٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی گونج اتنی تھی کہ جس کسی نے وہ گونج سنی اس کا کہنا تھا کہ اتنی گونج زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنی۔ یہ گونج تھی بوئنگ 767 ائیر کرافٹ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاورز میں سے شمالی ٹاور کے ساتھ ٹکرانے کی۔ لوگ ابھی حیرانی اور پریشانی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکل نہ پائے تھے کہ ٹھیک 17 منٹ بعد 9 بج کر 03 منٹ پر ایک اور طیارہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا۔ یہ بھی بوئنگ 767 تھا۔ پوری دنیا کے نیوز چینلز نے اپنی معمول کی نشریات کو روک کر America Under Attack کے تحت لائیو کوریج شروع کردی۔ کچھ ہی دیر میں خبر آئی کہ ایک تیسرا طیارہ پینٹا گون سے جا ٹکرایا ہے۔ یہ 9 بج کر 37 منٹ کا وقت تھا۔ یہ بوئنگ 757ایئر کرافٹ تھا۔ پھر خبر آئی کہ ایک اور بوئنگ 757 اغوا ہوچکا ہے۔ اور وہ بجائے اپنی منزل کے واشنگٹن ڈی سی کی طرف محو پرواز ہے۔ تاہم یہ اس سے پہلے پنسلوینیا میں 10 بج کر 30 منٹ پر گر کر تباہ ہوگیا۔ بعد کی خبروں سے معلوم ہوا کہ مسافر کی ہائی جیکروں سے ہاتھا پائی کی بنا پر یہ واشنگٹن ڈی سی میں وہائٹ ہاؤس تک نہ پہنچ پایا۔ ادھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ گرد و غبار اور دھوئیں کے بادل اتنے گہرے تھے کہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ جب یہ بادل چھٹے تو لوگوں نے دیکھا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاوروں کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا۔ انہیں منہدم ہونے میں 42 منٹ لگے۔
ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرانے والے امریکن ایئر لائن فلائٹ کے بوئنگ 767 طیارے میں 76 مسافر اور ایئر کریو کے گیارہ ممبر سوار تھے۔ پانچ ہائی جیکر اس کے علاوہ تھے۔ جنوبی ٹاور سے ٹکرانے والے یونائیٹڈ ایئرلائن فلائٹ 175 کے بوئنگ 767 میں 75 مسافر اور کریو کے گیارہ ممبر سوار تھے جبکہ پانچ ہائی جیکر اس کے علاوہ تھے۔ پینٹا گون سے ٹکرانے والے امریکن ایئرلائن فلائٹ 77 کے بوئنگ 757 میں 53 مسافر اور کریو کے چھ ممبر سوار تھے۔ پانچ ہائی جیکر اس کے علاوہ تھے۔ پنسلوینیامیں گر کر تباہ ہونے والے یونائیٹڈ ایئرلائن فلائٹ 93 کے بوئنگ 757 میں 33 مسافر اور کریو کے سات ممبر سوار تھے۔ چار ہائی جیکر اس کے علاوہ تھے۔ اس دوان 9 بج کر 42منٹ پر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے فوری احکامات جاری کیے کہ پورے براعظم امریکہ کی فضاؤں میں کوئی ہوائی جہا ز موجود نہیں ہونا چاہیے۔ یو ایس اے میں جو جہاز پہلے سے محو پرواز ہوچکے تھے، ان کا رخ کینیڈا اور میکسیکو کی جانب موڑ دیا گیا۔ بین الاقوامی آنے والی پروازوں کو یا تو واپس بھیج دیا گیا یا پھر کینیڈا اور میکسیکو اترنے کا کہا گیا۔ پھر تین دن تک بین الاقوامی پروازوں پر یو ایس اے میں اترنے کی پابندی لگا دی گئی۔ حادثے کے گزرجانے کے بعد معلوم ہوا کہ صرف طیاروں مین سوار جو لوگ لقمہ اجل بنے ان کی تعداد 246 تھی۔ جبکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون کے متوفیوں سمیت یہ تعداد 2990 تھی۔ پھر چند ہفتوں بعد آنے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ اصل میں لقمہ اجل بن جانے والوں کی تعداد چھ ہزار سے زائد تھی۔
دنیا کی جانب اس وقت کے امریکن صدر جارج ڈبلیو بش کا جو ردّ عمل سامنے آیا اس میں انہوں نے امریکہ کے حالت جنگ میں ہونے کا اعلان کیا، اور پوری دنیا کو للکارتے ہوئے کہا، کوئی بھی اس جنگ میں غیرجانب دار نہیں ہوسکتا۔ آپ کو ہمارے دشمن اور ہم میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ہے۔ آپ کے چناؤ کو میں آپ پہ چھوڑتا ہوں۔ قارئین! اس بحث میں پڑنے سے پہلے کہ یہ کس کی کارروائی تھی اور اس کے محرکات کیا تھے، اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے کہ آیا یہ امریکہ کی اپنی ہی کارروائی تھی؟ نا ئن ا لیو ن کے سلسلے میں سب سوالوں سے زیادہ یہ سوال اس لیے قابل توجہ ہے کہ حملے کے چند روز بعد ہی خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ امریکہ کی اپنی ہی کارروائی ہے۔ یہ دعویٰ کرنے والوں سے جب یہ پوچھا جاتا کہ امریکہ نے ایسا کیونکر کیا؟ تو جواب ملتا کہ مظلوم بن کر وہ عراق اور افغانستان پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ اس سلسلے میں سائنسی توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔ واقعات کا تسلسل اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ سوئی امریکہ پر جاکر رکتی ہے۔ لیکن ایک موٹا سا سوال یہ ہے کہ آیا افغانستان اور عراق پہ حملہ کرنے کے لیے اتنا سب کچھ کرنے کی بجائے اپنا صرف ایک طیارہ خود سے تباہ کروالینا کافی نہ ہوتا؟ پھر سائنسی طور پر بیان کیاجاتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے طیاروں کے ٹکرانے کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادوں میں تباہ کن دھماکہ خیز کیمیکلز استعمال کیے گئے۔ یہ کہ لیبارٹری کے تجزیوں سے انکشاف ہوا ہے کہ وہاں انتہائی اونچے درجے کی حرارت پیدا کرنے والا کیمیائی مادہ NanoThermite موجود تھا۔ کیمیاء کے اصول کے مطابق حرارت پیدا کرنے والا یا دھماکہ کرنے والا مادہ جتنا زیادہ باریک ہوگا، وہ مجموعی طور پر اتنی زیادہ حرارت یاد ھماکہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ Thermite ایسا ہی ایک مادہ ہے اور Nano Thermite اس کی انتہائی باریک شکل ہے۔ کیا یہ مادہ ٹریڈ سنٹر کی بنیادیں کھوکھلی کرکے اس کو گرانے کا سبب بن سکتا تھا۔ تو اس کا جواب سائنسدان نہیں میں دیتے ہیں۔ باوجود دھماکہ خیز مواد ہونے کے، یہ مادہ اتنی زیادہ صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ تو پھر یہ وہاں موجود کیوں تھا؟
دراصل یہ مادہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تعمیر کے دوران فولادی ستونوں کو افقی طور پر کاٹنے کے لیے استعمال ہوا تھا۔ جب کہ ٹریڈ سنٹر کو گرانے کے لیے فولادی ستونوں کو عمودی طور پر پگھلانا ضروری تھا۔ بالفرض محال اگر یہ مادہ ستونوں کو عموی طور پر پگھلا کر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو تباہ کرنے کا سبب بنتا تو خود بھی تو جل کر خاکستر ہوجاتا۔ اس کے یہ ذرے باقی نہ بچتے۔
مزید یہ کہ اس سائنسی بحث میں پڑنے کی بجائے امریکی حکومت اور اس کے عوام کے ردّ عمل پہ نظر دوڑاتے ہیں۔ واقعے کے چند روز بعد ہی حکومتی سطح پر چرچ سروسز کی تقاریب ہوئیں۔ ایک ایسی تقریب میں حکومت کے موجودہ اور سابقہ اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ وہاں کی حکومت کے سب سابقہ صدور بھی اس میں موجود تھے۔ صدر بش نے اس سے خطاب کیا تھا۔ یہ ایک انتہائی جذباتی تقریب تھی۔ دبی ہوئی سسکیاں نمایاں تھیں۔ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ سب ڈرامہ تھا؟ کیا امریکہ کے سب ہی حیات سابقہ صدور بھی جانتے بوجھتے اس ڈرامے کا حصہ تھے؟ کسی جنگ میں اپنے فوجیوں اور عوام کا کام آجانا ایک الگ بات ہے، لیکن بغیر کسی جنگ کے اپنے چھ ہزار نہیں تو تین ہزار ہی سہی، لوگوں کی قربانی دینا کیسے سمجھ میں آنے والی بات ہوسکتی ہے؟ پھر جانی نقصان کے علاوہ معاشی نقصان نے امریکہ کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ اس کی تفصیل پہ روشنی ڈالنے کے لیے کالم کی طوالت اجازت نہیں دیتی۔ یہاں پر یہ بتانا مقصود ہے کہ بجائے اس بحث میں پڑنے کے کہ کیا یہ امریکہ کی اپنی ہی کارروائی تھی یا نہیں، یہ غور کیا جاتا اور امریکہ کو باور کرایا جاتا کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ جس کسی نے بھی کیا آخر اسے کیا تکلیف پہنچائی گئی تھی۔ پھر امریکہ کو بتایا جائے کہ کیا کبھی اس نے یا کسی اور نے سوچا تھا کہ اس کی یکطرفہ کارروائیوں کا یہ جواب بھی آسکتا ہے؟ انگریزی کی ایک ضرب المثل ہے “Never Corner The Rat” چوہے کو کبھی گوشے میں مت دھکیلو۔ وہ پلٹ کر یوں بھی کرسکتا ہے۔ امریکہ تو خوش ہوگیا کہ اس کی اُن زیادتیوں پہ پردہ پڑا رہ گیا، جن کے جواب میں نا ئن ا لیو ن ہوا۔ اور دنیا اس بحث میں الجھ گئی کہ یہ امریکہ نے خود کروایا تھا یا نہیں؟

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments