bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / پنجاب کے کسان اورسر سبز انقلاب

پنجاب کے کسان اورسر سبز انقلاب

تحریر: راؤ شکیل
کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کا انحصار زراعت اور اس سے وابستہ صنعت سے ہوتا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی دیہات پر مشتمل ہے۔ دیہات میں رہنے والوں کی اکثریت زراعت کے شعبے سے منسلک ہے ان کی شبانہ روز محنت کی بدولت زرعی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زراعت کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جن کی معاشی ترقی کا انحصار بنیادی طور پر زراعت ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں اس شعبے کا 24 فیصد حصہ ہے جبکہ دیہی آبادی کی آمدنی میں زرعی شعبے کا 30 سے 40 فیصد تک حصہ پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں 40 فیصد آبپاشی والے رقبے سے کل زرعی پیداوار کا 90 فیصد حصہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ قومی برآمدات میں زراعت کا 60 فیصد حصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہترین وسائل سے نوازا ہے پاکستان کی زمین زرخیز ہے ۔ خاص طور پر پنجاب کی زمین اپنی زرخیزی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کے سالوں میں ملکی زرعی شعبے کا کل پیداوار میں 50 فیصد حصہ تھا جو آج کم ہو کر 24 فیصد تک رہ گیا ہے۔ یہ ہمارے لیے بڑا المیہ ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی زراعت کا شعبہ کل ملکی پیداوار کا 45فیصد حصہ ہے۔پنجاب ملک کا بڑا صوبہ ہے۔ ملک کی 50 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح زراعت کا شعبہ ملکی ترقی میں بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ صوبہ پنجاب کے شہری علاقوں کے 45 فیصد جبکہ دیہی علاقوں کے 65 فیصد لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے یہی شعبہ ملکی آبادی کے لیے خوراک اور روز مرہ کی ضروریات فراہم کر رہا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر حکومت کی ترجیحات میں زرعی ترقی کو اولیت حاصل ہے۔ پنجاب حکومت نے خادم پنجاب کسان پیکیج پر عملدرآمد کیلئے 50کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کررہی ہے۔خادم پنجاب کسان پیکیج کے تحت کسانوں کو کھاد کی بوری پر سبسڈی دی جارہی ہے۔-14 ارب روپے سے ٹیوب ویل کے بجلی کے بلوں پر رعائتی نرخ مقرر کئے گئے ہیں اور سولرٹیوب ویل کی تنصیب کے لئے 14.5 ارب روپے بلا سود قرضہ جات بھی فراہم کئے جارہے ہیں ۔ حکومت پنجاب شعبہ زراعت کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی او ر فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات کررہی ہے اور کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔چھوٹے کاشتکاروں کیلئے بلا سود قرضوں کی فراہمی کا پروگرام زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اوراس پروگرام کے تحت صرف6 ماہ کی قلیل مدت میں 1 لاکھ 60ہزارسے زائد چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دےئے جارہے ہیں جبکہ مجموعی طورپر ساڑھے 12ایکڑ تک اراضی کے کاشتکاروں کیلئے ایک سو ارب روپے کے بلاسود قرضے دےئے جارہے ہیں اورپنجاب بھر میں 6لاکھ چھوٹے کسان بلاسود قرضے کے اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔پنجاب حکومت نے بلا سود قرضوں کی فراہمی کے پروگرام سے چھوٹے کاشتکار کو اس کا حق دیا ہے اور بلا سود قرضوں کی فراہمی کا پروگرام کاشتکارکو با اختیار بنانے کی جانب اہم اقدام ہے ۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار چھوٹے کسانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے شاندار پروگرام پر تیزی سے عملدرآمد کیا جا رہاہے اور بلا سود قرضوں کی فراہمی کے اس پروگرام سے زرعی پیداوار بڑھے گی اور چھوٹا کاشتکار خوشحال ہو گا اوریہ پروگرام پنجاب میں حقیقی معنوں میں سبز انقلاب برپا کرنے کا باعث بنے گا۔ زراعت کو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ زراعت کو فروغ دے کر معیشت کو مضبوط بنیادوں پراستوار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے کاشتکاروں کیلئے ان اقدامات کا اعلان کرکے زرعی شعبے کے استحکام اور چھوٹے کاشتکاروں کی خوشحالی کی جانب انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے۔ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔ کسان پیکیج کے تحت کاشتکاروں کو ریلیف کی فراہمی سے زراعت کے شعبہ کی ترقی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ امدادی رقوم کی ادائیگی کرکے چھوٹے کاشتکاروں کو ان کا حق دیا جا رہا ہے۔پنجاب حکومت نے دیہی آبادی کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سڑکو ں کی تعمیر و بحالی اور پینے کے صاف پانی جیسے انقلابی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ ملکی معیشت کے استحکام میں یہ منصوبے گیم چینجر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے مثالی اقدامات کئے ہیں ۔ یہ اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب کی کسان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں ہزاروں کلو میٹرکارپٹڈ دیہی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں اوراربوں روپے کی لاگت سے اس پروگرام سے دیہی آبادی کو آمدو رفت کی بہتر سہولتیں ملی ہیں اوراس پروگرام نے روایتی دیہی طرز زندگی کو جدید بنانے میں اہم کردارادا کیا ہے ۔ دیہی سڑکوں کی تعمیر سے دیہی معیشت بہتر ہوئی ہے اور زراعت کے شعبے پر بھی اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ اس پروگرام سے کاشتکاروں کو اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک لیجانے کی بھی سہولت ملی ہے ۔ کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے سابقہ دور حکومت کی طرح موجودہ حکومت میں بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی پالیسیوں کی بدولت صوبہ میں گندم، کپاس ، گنا، چاول، فروٹ و سبزیاں سمیت دیگر فصلوں کی پیداواروں میں سالانہ اضافہ پایا جا رہا ہے۔ ملکی کل پیداوار کا صوبہ پنجاب گندم 76 فیصد ،کپاس 71 فیصد، چاول 56 فیصد گنا 65 فیصد ، مکئی 78 فیصد ،آم 78فیصد ، کینوں 82 فیصد ، کھجور 34 فیصد پیدا کر رہا ہے۔ جو ملکی ضروریات کے عین مطابق ہے ملک زرعی اجناس میں خود کفیل ہو رہا ہے بلکہ برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے ای ایگریکلچر کریڈٹ سکیم کے تحت پہلے مرحلہ پر چھوٹے بڑے کسانوں کو 75,000سمارٹ فونز دئیے جائیں گے جن میں اُن کے استعمال کی بنیادی اپلیکیشنز پہلے سے موجود ہوں گی۔سمارٹ فونز کی مدد سے قرضوں کی آن لائن سسٹم کے تحت وصولی و ادائیگی اور فصلوں کی دیکھ بھال،کیڑے مار ادویات، موسمی اثرات سے تحفظ اور پیداوار میں اضافے جیسی ضروری معلومات تک رسائی کو ممکن بنایا جائے گا ۔ای ایگریکلچر کریڈٹ سکیم سبز انقلاب کا ذریعہ بنے گی ۔ پنجاب کی معیشت کا بیشتر انحصار زراعت پر ہے یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت مقامی پیداوار میں اضافے اور کسان کے اطمینان کے لیے ہر ممکن قدم اُٹھانے کے لیے تیار ہے۔
مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے ہمیشہ کاشت کاروں کے مفادات کاتحفظ کیاہے اوراس ضمن میں مسلم لیگ (ن )کی حکومت نے کسانوں کی فلاح وبہبود اورریلیف کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کا پیکیج دیاہے جس کے زرعی شعبہ پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے تاریخ ساز اقدامات کئے ہیں ۔ اگر ہم زراعت کو ترقی دیں تو ہم اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ خطے میں معاشی ترقی حاصل کرنے والے ممالک کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر پاکستان متوسط آمدنی والے ممالک کی صف میں شامل ہونے کا خواہاں ہے تو اسے لازماً زرعی شعبے کی تیز تر ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہونگے۔ تب ہی ہمارا ملک زراعت کے میدان میں ترقی کرسکتا ہے۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments