bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / تصدیقی سرٹیفکیٹ

تصدیقی سرٹیفکیٹ

کراچی میں کھیلے گئے تازہ ترین راؤنڈ میں فائدہ صرف ایم کیو ایم کو ہوا ہے۔فاروق ستار کی تہلکہ خیز پریس کانفرنس کے بعد جواب میں جو کچھ مصطفےٰ کمال نے کہا اس کا نقصان بھی بڑی حد تک خود انکی سرپرست اسٹیبلشمنٹ کو ہی پہنچاہے۔یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی دھینگامشتی کے نتیجے میں پوری مہاجر کمیونٹی پورے ملک اور پوری دنیا کے سامنے کھل کر آگئی کہ سیاست کے نام پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب اسٹیبلشمنٹ کا کیا دھرا ہے۔بات اشارے کنایوں سے نکل کر کھلے عام بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر ہونا اس امر کا تصدیقی سرٹیفکیٹ جا ری کرنے کے مترادف ہے۔نہیں معلوم کہ مصطفےٰ کمال کی جانب سے کی جانے والی باتیں طاقت کے زعم میں مبتلا اسٹیبلشمنٹ کی منشا کے تحت تھیں یا پھر وہ خود بھی بہک گئے۔ماضی میں بھی وہ کئی مرتبہ بات بات پر بھڑکنے کی عادت کے باعث تنقید کا نشانہ بنتے نظر آئے لیکن اس مرتبہ تو معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ مصطفی کمال ہوں یا پھر انکی پاک سرزمین پارٹی بچے بچے کو علم ہے کہ اسکے پیچھے کون ہے۔مصطفی کمال کو پاکستان کون لایا اور اس قدر عجلت میں میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا کہ پریس کانفرنس میں قومی پرچم بھی وہ لہرانا پڑا جو نہایت سلیقے سے استر ی کرکے تہہ کیا گیا تھا۔سب کو پتہ ہے کہ ایسے پرچم عموماًفورسز کے زیر استعمال ہوتے ہیں۔پھر کراچی میں سرزمین پارٹی سب کو للکارتی پھری۔ایم کیو ایم کے لوگوں کو توڑا۔تحریک انصاف کے ایک رکن سندھ اسمبلی کو بھی اچک لیا۔یہ سب کسی بہت بڑی اور منظم قوت کی پشت پناہی کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔پاک سرزمین پارٹی کے قیام کا واحد مقصد ایم کیو ایم کو ہڑپ کر کے نام ونشان تک مٹانا تھا۔مصطفی کمال اپنی سیاست کے باعث کراچی میں ایم کیو ایم کے بعض دیگر رہنماؤں کی طرح خود ایک متنازعہ کردار تھے۔انکی میئر شپ کے دوران قتل و غارت گری کی بے تحاشا وارداتیں ہوئیں جس کا وہ بڑے فخر سے علانیہ دفاع کرتے تھے۔لندن بیٹھے الطاف حسین پاکستان مخالف نعرہ لگا کہ راندہ درگاہ بن گئے تو دبئی میں اثاثے کے طور پر مقیم کمال کو پارٹی سونپنے کیلئے میدان میں اتارا گیا۔الطاف حسین کی طرح سے ہی مصطفی کمال نے بھی کراچی کی جغرافیائی حیثیت میں کسی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے جو باتیں کھلے عام کررکھی ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔اس لیے تو بعض لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کے سابقین منحرفین اور موجودہ ارکان کسی نہ کسی شکل میں الطاف ٹولے کا حصہ ہیں۔ابھی چند روز قبل ہی ایم این اے سلمان مجاہد بلوچ کا ضمیر بیدار کرایا گیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ فاروق ستار نے ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی الطاف حسین کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔یقیناً ہیپی برتھ ڈے بھی کہا ہوگا۔اس سے تاثر ملتا ہے کہ لندن گروپ سے الگ ہو کر بھی ایم اکیو ایم کے رہنمابشمول کسی نے کسی ذریعے سے رابطے میں ہیں ۔بالکل حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اگر کل کلاں کو یہ انکشاف ہو کہ’’ فرشتوں‘‘ کی تیارکردہ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال بھی لندن والی سرکار کے بدستور نیاز مند ہیں۔خیر یہ تو جب ہو گا سب کے سامنے آجائے گا مگر اسٹیبلشمنٹ کا فوری ٹارگٹ تو یہی تھا کہ الطاف حسین کو مائنس کر نے کے بعد ایم کیو ایم کے نام کو بھی حرف غلط کی طرح سے مٹا دیا جائے۔ایک نئی جماعت بنا کر مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والے تمام کردار اکٹھے کیے گئے۔عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے نئی جماعت کو کسی قومی دھارے والی جماعت جیسا نام دیا جانا تھا۔فاروق ستار خود اپنے پارٹی حلقوں اور میڈیا کے لوگوں سے کہتے پائے جا رہے تھے کہ ان پر بہت پریشر ہے کہ ایم کیو ایم کو ختم کردیا جائے۔یقینی طور پر اس صورتحال میں ایم کیو ایم کو اپنی سیاست بچانے کیلئے بعض سمجھوتے کرنا تھے۔کھیل شاید اس لیے خراب ہواکہ ایم کیو ایم کو انڈر اسٹیمیٹ کیا گیا۔جلدی میں پریس کانفرنس طلب کرکے ایک پارٹی،ایک نشان کے تحت عام انتخابات میں جانے کا اعلان کیا گیا تو تقریب کے آخر میں اس وقت فاروق ستار نے دبے دبے الفاظ میں کہہ ڈالا کہ اتحاد ہو سکتا ہے مگر ایم اکیو ایم بطور جماعت اپنی شناخت برقرار رکھے گی۔منصوبہ سازوں کو یہ ا لفاظ تیر کی طرح لگے تو دوسری جانب ایم کیو ایم کی صفوں میں بھی کھلبلی مچ گئی۔فاروق ستار کو بد ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، بعض ساتھیوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جیل تو کیا انہیں اپنی جان کی بھی پروا نہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ کسی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا ،اپنے ہی لوگوں کے اس شدید رد عمل نے فاروق ستار کا خوف خود اعتمادی میں تبدیل کردیا۔پھر انہوں نے نہ صرف دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی بلکہ شہری سندھ میں اپنی پارٹی کی مہاجر ازم کی سیاست کو پوری طرح زندہ کر دیا۔وہ کھل کر سامنے آئے اور ان کا مخاطب اسٹیبلشمنٹ تھی ،اپنی شناخت اور پہچان کسی طور ترک نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے وارننگ دی کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران جو کچھ ہوتا رہا ہے اس کے متعلق وزیر اعظم ،آرمی چیف ،ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کو خط لکھے جا چکے ہیں۔زیادہ دباؤ ڈالا گیا تو وہ اس خط کے مندرجات اوپن کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔تاثر یہی ہے کہ اس خط میں نہ صرف ترتیب سے بعض واقعات درج کیے گئے ہیں بلکہ ان عہدے داروں کے نام اور رینک بھی لکھے گئے جو مختلف مواقع پر رابطے کرتے رہے۔فاروق ستار نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ مجلس وحدت المسلمین کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے پاس جائیں گے کیونکہ ان کی اپنی جماعت کے کئی رہنما اور کارکن ابھی تک ان لوگوں کے پاس ہیں جو کسی کو بغیر وجہ بتائے اٹھا لیے ہیں،یہ کہہ کر تو پوری بات ہی واضح کر دی کہ انجینئرڈسیاست نہیں چلے گی۔انہوں نے باور کرایا کہ 5نومبر کو ایم کیو ایم کا بڑا جلسہ دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ نے ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کیے کہ پارٹی کا نام ختم کیا جاسکے۔پورے ملک کی سیاسی جماعتوں کو علاقائی و لسانی قرار دیتے ہوئے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا گیا کہ مہاجر عوام کو ان کی شناخت دی جائے۔سادہ الفاظ میں علیحدہ صوبے کا مطالبہ کیا گیا۔اس مقصد کے لیے تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا۔ساتھ ہی یہ کہہ کر اسٹیبلشمنٹ کو ایک پیغام دیا کہ شہداء کے قبرستان جانے پر پابندی قبول نہیں کرتے،فاتحہ خوانی کے لیے لازماً جائیں گے۔واضح رہے اس قبرستان میں ایم کیو ایم کے کئی ایسے کارکن مدفون ہیں جو فورسز کے ہاتھوں مبینہ مقابلوں میں مارے گئے تھے۔انہوں نے یہ بتایاکہ پارٹی ختم کرنے کے لیے انہیں 16گھنٹے تک یرغمال بنایا گیااور کہا گیا کہ تمہیں ایس ایس پی راؤانوار کے حوالے کر دینگے۔ڈی جی رینجرز کے ساتھ مقابلے کی مختصر داستان بھی سنائی اور یہ بھی بتایا کہ چند روز قبل ہی ڈیفنس کے ایک سیف ہاؤس میں ایک افسر نے مصطفی کمال کو ساتھ بٹھا کر ان سے کیا مطالبے کئے۔ 
اہم بات یہ تھی کہ اس میٹنگ میں ایک پی ٹی آئی لیڈر بھی موجود تھا، اس سے یہ بھی مزیدکلیئر ہو گیا کہ پی ٹی آئی کس کی پارٹی ہے؟ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں موجود پی ٹی آئی لیڈر فیصل واوڈاتھا،وہی جو ایک طویل عرصے سے ایم کیو ایم کے خلاف بڑی سخت زبان میں بولتے ہیں،شاید وہ بہادر بھی ہوں مگر مقامی حلقوں کو علم ہے کہ وہ طاقتور اداروں کے اعلیٰ افسروں کے لیے کاروباری معاونت کی ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہیں،ان کی جرأت کا اصل راز یہی ہے۔فاروق ستار کی اس پریس کانفرنس کے دوران شرکاء نے جیے مہاجر کے نعرے لگا کر وہی پرانی سیاست بحال کرنے کا اعلان کردیا۔یہ بھی طے ہو گیا کہ کراچی کو فتح کرنے کے لیے ’’محمد بن قاسم‘‘بنا کر لائے جانے والے مصطفی کمال اپنی پارٹی سمیت فیل ہو گئے ہیں،انہیں آسرا دینے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کو ساتھ ملانا نا گزیر ہو چکا۔فاروق ستار کی یہ گفتگو اس قدر دھماکہ خیز تھی کہ مصطفی کمال جو بہت زیادہ بولنے کی عادت میں مبتلا ہیں منظر سے ہی غائب ہوگئے،اور اگلے روز ہدایات لے کر جو کچھ کہا وہ بھی الٹاپڑتا نظر آرہا ہے۔5نومبر کو ایم کیو ایم پاکستان کے بڑے جلسے او ر پھر جمعہ کو فاروق ستار کی سر گرمیوں کے بعد یہ تو واضح ہوگیا کہ اگر الطاف حسین مائنس ہو بھی جائیں تو کراچی شہر اور اس کا ووٹر ابھی تک وہیں کھڑ ا ہے۔ایم کیو ایم کو توڑنے کی کوشش یوں تو 1992ء سے ہی ہو رہی ہے۔جنرل آصف نواز مرحوم نے بڑے زور شور سے اس کام کی ابتدا کی مگر ناکام رہے۔بے نظیر بھٹو دور میں بھی بہت بڑا آپریشن ہوا۔پھر جنرل مشرف کا زمانہ آیا تو سرپرستی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔حتیٰ کہ2004ء میں الطاف حسین نے بھارت جا کر قیام پاکستان کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دے ڈالامگر کسی عسکری عہدیدار کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔اب پھر ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مصطفی کمال پارٹی کے ذریعے ایسا کرنا ممکن نہیں،حالانکہ اسے ہر طرح سے اکاموڈیٹ کیا جارہاہے۔آنے والے دنوں میں یہ خبر بھی سننے کو مل سکتی ہے کہ سینکڑوں افراد کو زندہ جلانے کی واردات (سانحہ بلدیہ ٹاؤن ) کے مرکزی کردار حماد صدیقی بھی سرزمین پارٹی میں شامل ہو کر ’’پوتر‘‘ ہو گئے ہیں۔
آزاد تجزیہ کاروں کے نزدیک جو کچھ ہو رہا ہے وہ مسئلے کا حل نہیں ،پابندی لگانے سے بات ٹلے گی نہیں ۔فاروق ستار کی صورت میں مہاجر قیادت ایک بار پھر اپنے حلقہ انتخاب کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو رہی ہے کہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ملک دشمنوں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنا چاہیے مگر اس کی آڑ میں کروڑوں مہاجر ووٹوں کو تو بحیرہ عرب میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ہر ادارہ آئین اور قانون پر چلتا رہتا تو آج یہ نوبت ہی نہ آتی،اختیارات پر مکمل قبضے اور دوسروں کو مفتوح بنا کر رکھنے کا یہ شوق ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گا۔شہری سندھ کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ نمائندہ جماعتوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر سیاست کرنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہونگے۔جبر کے ذریعے میل ملاپ کرا کے ایک ایک آدھ الیکشن لڑبھی لیا گیا تو اس سوچ کو ختم کرنا ممکن نہ ہوگاجو دانستہ یا نا دانستہ طور پرپروان چڑھائی جا رہی ہے۔مصنوعی قیادت چل نہیں سکتی،جنرل مشرف کو تھوپنے کی کوشش بھی بیک فائر کرے گی۔اس طر ح کی سرگرمیاں بظاہر 2018ء کے عام انتخابات کے من پسند نتائج حاصل کرنے کیلئے ہو رہی ہیں مگر لگتا یہ ہے کہ منصوبے پر پوری طرح سے عمل درآمد کرانے کی راہ میں رکاوٹیں ابھی سے پیدا ہونی شروع ہو گئی ہیں۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments