bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / کرپشن : بین الاقوامی پیمانے پر

کرپشن : بین الاقوامی پیمانے پر

ا بھی پا نا مہ لیکس کے کیس کی شد ت میں نہ آ نے پا ئی تھی کی دستاویزات کے ایک بڑے مجموعے نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ٹیکس بچانے کے محفوظ مقامات کا انکشاف کیا ہے جس سے دولت اور طاقت کا تعلق واضح ہوجاتا ہے اور اس میں پاکستانیوں کے آف شور اکاؤنٹس کے معاملے میں بھی وسعت آگئی ہے۔ نئی دستاویزات میں شوکت عزیز کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے ایک غیر اعلانیہ ٹرسٹ میں اس وقت پیسے چھپائے جب وہ ملک کے وزیر اعظم تھے۔ نئی لیک ہونے والی دستاویزات کو ’’پیراڈائز لیکس‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا کے کئی دارالحکومت ہل گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک کروڑ چونتیس لاکھ دستاویزات جاری کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ارب پتی وزیر تجارت کے روسی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات، کنیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے لیے فنڈ جمع کرنے والے سرکردہ شخص کی خفیہ سرمایہ کاری ملکہ برطانیہ اور ملکہ اردن اور دنیا بھر کے 120 سیاست دانوں کی آف شور سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ان دستاویزات میں سوشل میڈیا کی معروف سائٹس جیسا کہ ٹوئٹر اور فیس بک کو بھی اسکروٹنی کے دائرے میں لایا گیا ہے جنہوں نے روس کی سرکاری کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ بات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امریکی کانگریس ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے جعلی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ان خبروں نے امریکی صدارتی الیکشن پر فیصلہ کن اثر مرتب کیا تھا۔ ان دستاویزات کے ذریعے عوام کو یہ معلومات بھی مل سکیں گی کہ کس طرح ایپل، اوبر، نائیکی اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کو یہ سہولتیں دی گئیں کہ وہ آف شور کمپنیوں کو اپنا منافع منتقل کرکے ٹیکس سے بچ سکتی ہیں۔ نئی جاری ہونے والی دستاویزات جرمن اخبار سودوش زائتونگ نے حاصل کیں اور انہیں بین تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسور شیم (آئی سی آئی جے) کے ساتھ دنیا کے 67 ملکوں کے 380 دیگر صحافیوں کے ساتھ شیئر کیا۔ 
غیر قانونی ذرائع سے دولت کمانا اور اس میں بیش از بیش اضافہ کرتے چلے جانا جو دوسروں کی حق تلفی کے بغیر ممکن نہیں اور جس کی مختلف اقسام کے لیے عرف عام میں ایک ہی لفظ کرپشن استعمال کیا جاتا ہے ۔ سادہ سی با ت ہے کہ ا مراء کے خزا نے بھرنے کے لئے دو لت کو ئی ا و پر سے تو نہیں ا تر تی۔ یہ ا سی دنیا میں ر ہ کر حا صل کی جا تی ہے۔ با لفر ض یہ تسلیم بھی کر لیا جا ئے کہ د و لت کما نے کے لئے کو ئی ناجا ئز ہتھکنڈ ہ ا ستعما ل نہیں کیا گیا، تب بھی سو ا ل ا ٹھتا ہے کہ ایک فرد و ا حدمنا فع کا اتنا بڑا حصہ ا ینٹھ لیتا ہے کہ ا س کے ا و ر دیگر ا فر ا د کے د ر میا ن د و لت کی ا س قد ر بڑھی خلیج حا ئل ہو جا تی ہے۔نتیجہ کے طو ر پر و ہ د یگر ا فر ا د جنہیں عر ف عا م میں غر باء کہا جا تا ہے ، ز ند گی بھر آ ٹے د ا ل کے چکر سے ہی نہیں نکل پا تے۔آج پورے عالمی انسانی معاشرے کو درپیش گہرے منفی مضمرات کا حامل ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ حکمراں اور مقتدر طبقات اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ٹیکس چوری، کمیشن خوری اور دوسرے مجرمانہ ہتھکنڈوں سے جس طرح اپنے ہی ملکوں میں قومی وسائل کو لوٹتے یا عالمی سطح پر قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ناجائز دولت کے انبار جمع کرتے اور پھر اس کالے دھن کو سفید کرنے کے لے جن چور دروازوں سے استفادہ کرتے ہیں، پچھلے عشروں میں اس کی تفصیلات کا منکشف ہونا ایک امر محال تھا لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے تحقیق و تفتیش کے نئے نئے راستے کھول کر اس ناممکن کو ممکن بنادیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے حیرت انگیز انکشافات سامنے آرہے ہیں جن کا تصور بھی کچھ عرصہ پہلے تک محال تھا۔ صحافیوں کی ایک بین الاقوامی تحقیقات تنظیم کی کوششوں سے دو سال پہلے پانامہ پیپرز لیکس نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں تہلکہ برپا کردیا جبکہ اسی تنظیم نے گزشتہ روز پیراڈائز لیکس کے نام سے ایک کروڑ چونتیس لاکھ دستاویزات کو منظر عام پر لا کر کئی ملکوں کے سابق اور موجودہ حکمرانوں سمیت سینکڑوں ممتاز شخصیات کی ناجائز دولت کی نشاندہی کی ہے۔ اس فہرست میں امریکی وزیر خارجہ اور وزیر تجارت، ملکہ برطانیہ، ملکہ اردن، پرنس کریم آغا خان، ترک وزیر اعظم کے دو بیٹوں، کینیڈا اور جاپان کے سابق وزرائے اعظم، انڈونیشیا کے سابق صدر کے بچوں، آسٹریا کے سابق چانسلر، بھارتی وزیر ہوابازی جبکہ پاکستان سے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، ایاز خان نیازی، صدرالدین ہاشوانی، میاں منشاء اور حسین داؤد سمیت متعدد ممتاز افراد کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے اپنی پاک دامنی کا دعویٰ کیا اور وضاحتیں جاری کی ہیں تاہم ان کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ منصفانہ اور شفاف تحقیقات ہی سے ہوسکتا ہے۔ کرپشن کے حوالے سے ایک اور بہت بڑا دھماکہ ایک برادر مسلم ملک کے شاہی خاندان کے افراد، کابینہ کے ارکان اور اہم مناصب پر فائز درجنوں افراد کے خلاف کھربوں کی مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری کی شکل میں ہوا ہے جس کی تفصیلات نہایت ہوش ربا ہیں۔ مقتدر اور طاقتور طبقات کی مالی بدعنوانیاں فی الحقیقت آج کسی خاص ملک یا علاقے کا نہیں پوری انسانی دنیا کا مسئلہ ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر غربت اور امارت کا فرق ہولناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ممتاز عالمی تجزیاتی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق آج دنیا کی پچاس فی صد دولت کرۂ ارض کی محض ایک فیصد آبادی کے پاس ہے۔ سال رواں کے اوائل میں آکسفیم نامی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کے آٹھ امیر ترین لوگوں کی دولت دنیا کی باقی آدھی آبادی کی دولت کے مساوی ہے۔ اس صورت حال کا بنیادی سبب پوری دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام کا تسلط ہے جو بجائے خود امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے والا نظام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دولت مند طبقے کے لیے ناجائز ذرائع سے دولت کمانے اور چور راستوں سے اسے جائز کرلینے کے دروازے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ دنیا میں روز بروز بڑھتا ہوا دولت کا یہ تفاوت محروم طبقات میں بے چینی، نفرت اور انتقام کے جذبات کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ یہ حالات محروم طبقات کو انقلاب فرانس اور انقلاب روس کی طرح وسائل سے مالا مال طبقات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ لہٰذا عالمی انسانی معاشرے کو تباہی کی راہ پر آگے بڑھنے سے بچانے کے لیے ایسے بین الاقوامین قوانین کی تشکیل اور نفاذ وقت کا ناگزیر تقاضا ہے جو ناجائز دولت چھپانے اور کالے دھن کو سفید کرنے کے تمام حربوں کو ناکام بناسکیں اور جن کی موجودگی میں ناجائز دولت کے ڈھیر لگانے والے قارونوں کے لیے کوئی محفوظ جنت بنانا قطعی محال ہوجائے۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments