bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / لو ڈ شیڈ نگ کا جن بو تل سے با ہر

لو ڈ شیڈ نگ کا جن بو تل سے با ہر

سچ تو یہ ہے کہ حا لیہ بر س کا ستمبر ا و ر ا کتو بر بجلی کی لو ڈ شیڈ نگ کے حو الے سے نہا یت پر سکو ن گذرا۔ لگ ر ہا تھا کہ لو ڈ شیڈ نگ کا جن بو تل میں ہمیشہ کے لئے قید ہو چکا ہے۔ مگر یہ کیا کہ نو مبر کے شر و ع ہو تے ہی یہ جن پھر سے بو تل سے با ہر آ گیا ہے۔ وطن عز یز کے با سی ان د نو ں پہلے ہی سمو گ کے چنگل میں بر ے سے پھنسے ہو ئے تھے کہ حا لیہ لو ڈ شیڈنگ نے ا ن کے مصا ئب کو د و چند کر دیا۔ ذ ر ا ئع کا کہنا ہے کہ گردشی قرضوں میں تیزی سے اضافے کے باعث حکومت نے فرنس آئل اور ڈیزل پر چلنے والے مہنگے پاور پلانٹس بند کردیئے، جس کی بناء پر بجلی کی لا ئنو ں پر لو ڈ خطر نا ک حد تک بڑھ گیا۔ لوڈ کے یو ں بڑھنے کی بناء پر چشمہ کے چاروں ایٹمی بجلی گھر بھی ٹرپ کرگئے، چنانچہ 7 ہزار میگاواٹ بجلی اچانک سسٹم سے نکل جانے سے بجلی کے ایک نئے بحران نے جنم لیا۔ اس وقت ملک میں بجلی کی طلب 16 ہزار میگاواٹ جبکہ پیداوار 9 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔ لیسکو ذرائع کے مطابق لیسکو کا کوٹہ یک دم 2200 میگاواٹ سے کم کرکے 1100 میگاواٹ کردیا گیا ، لہٰذا نئے شیڈول کے تحت تمام گھریلو، صنعتی اور کمرشل فیڈرز 12, 12 گھنٹے بند رہیں گے۔ معلوم ہوا کہ اس وقت گردشی قرضے 800 ارب روپے سے بڑھ چکے ہیں، ان میں سے 400 ارب روپے پاور ہولڈنگ کمپنیوں اور 400 ارب روپے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ گردشی قرضوں کے حجم میں اضافہ حکومتی پاور کریش کمپنیوں (جنکوز) کو مسلسل مہنگے فرنس آئل سے چلائے جانے کے باعث ہوا، حکومتی آئل مارکیٹنگ کمپنی نے حکومتی پاور جنریشن کمپنیوں سے 276 ارب روپے کے بقایا جات وصول کرنا ہیں جبکہ آئی پی پیز کے واجب الادا بقایا جات اس کے علاوہ ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ حکومتی ادارے واجبات ادا نہیں کرتے، ہمیں اپنے سسٹم کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔
لکھنے کی ضر و ر ت نہیں کہ بجلی مو جو دہ د و ر کے لوازمات میں سے نہ صر ف ایک اہم ترین بلکہ نا گز یر لازمہ ہے، جس کے بغیر اب ترقی و خوشحالی تو دور کی بات پرسکون طریقے سے زندگی گزارنے کا بھی تصور محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہالیانِ پاکستان ایک عرصہ سے بجلی کے بحران کے باعث ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔ یہا ں تک کہ پی پی پی کے گذ شتہ دو ر حکو مت میں لو ڈ شیڈنگ کا دو را نیہ لا ہو ر جیسے بڑ ے شہر میں با ر ہ گھنٹے سے تجا و ز کر کے ا ٹھا ر ہ گھنٹے تک جا پہنچا تھا۔اس طو یل د و ر ا نیہ کی لوڈ شیڈ نگ نے ہم و طنو ں کو ڈ پر یشن جیسے مہلک مر ض میں مبتلا کر دیا تھا۔ معیشت کی تبا ہی ا س کے علا و ہ تھی۔ ا ب بھی حا لیہ لو ڈ شیڈنگ سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سب پر عیاں ہیں۔ بجلی کے بحران کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھی تو لامحالہ اس کا اثر ایکسپورٹ پر پڑا اور جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے باوجود زرمبادلہ کمانا تو دور کی بات ملکی معیشت الٹا عدم استحکام کا شکار ہوگئی۔ پاکستان کی ایکسپورٹ میں زیادہ حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے لیکن توانائی کے بحران نے ایک چوتھائی صنعتوں کو تالے لگوا دیئے جس سے بیروزگاری کو مہمیز ملی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری پچھلی تین حکومتیں یہ مسئلہ حل کرنے میں کامیابی نہ ہو پائیں؟ ماہرین اس کی بنیادی وجہ گردشی قرضہ (سرکلر ڈیٹ) کو قرار دیتے ہیں۔ یہ گردشی قرضہ کیا ہے؟ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی سرکاری و نجی کمپنیاں جو مجموعی طور پر جنکوز کہلاتی ہیں، تیل پیدا کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں سے تیل خریدتی اور بجلی پیدا کرکے اسے بجلی خریدنے والے قومی ادارے ’’سی پی پی اے‘‘ کو فروخت کردیتی ہیں۔ بجلی کی پیداواری لاگت اس قدر زیادہ ہے کہ حکومت براہِ راست یا بالواسطہ اس کی قیمت کم کرکے عوام تک پہنچاتی ہے۔ علا و ہ ا ز یں بجلی کی چو ر ی حکو مت کی پشت پر ا س مد میں مز ید ا ضا فے کا با عث بنتی ہے۔ یو ں حکو مت قیمت خرید دیگر اخراجات اور پیداواری لاگتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس طرح اخراجات اور وصولی میں براہ راست ایک خلیج پید اہوجاتی ہے۔ اس کو گردشی قرضے کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ رقم حکومت ادا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں بجلی کی قیمت خریدار سے پیداواری یونٹ تک پہنچنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اس دوران رقم کا بندوبست کرنا اور پیداواری یونٹ تک پہنچانا بھی حکومت کے ذمے آجاتا ہے۔ پھر یہ بھی کہا نی کا ا ختتا م نہیں بلکہ ایک اور قباحت یہ بھی ہے کہ ’’سی سی پی اے‘‘ کو تقسیم کار اداروں سے جو محاسل ملتے ہیں وہ انتہائی کم ہوتے ہیں، لہٰذا تیل کمپنیوں کو مطلوبہ رقم نہ دینے پر تیل کی ترسیل کا عمل رک جاتا ہے جسے جاری رکھنے کے لیے حکومت سبسڈی دیتی ہے۔ لیکن محاصل کی وصولی کا غیرمنظم ہونا گردشی قرضے بڑھاتا چلا جاتا ہے جو اس وقت 800 ارب روپے سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ افسوس کہ اکیسویں صدی میں جب دنیا توانائی کے حصول کے لیے جدید ترین ذرائع استعمال کررہی ہے ہم ہنوز فرنس آئل سے بجلی بنارہے ہیں بلکہ بجلی کی پیداوار کا زیادہ انحصار فرنس آئل سے بنائی جانے والی بجلی پر ہے اور یہ بجلی بنانے کا مہنگا ترین ذریعہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے فرنس آئل مہنگا ہوتا ہے تو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی بھی مہنگی ہوجاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا موجودہ سسٹم فرسودہ ہوچکا ہے اور پندرہ ہزار میگاواٹ اس کی آخری حد ہے۔ یہ سارا سسٹم تبدیل کرنا تو لازمی بات ہے کہ ایک طویل اور صبر آزما کام ہے۔ البتہ فوری مسائل کے حل کے لیے گھریلوں استعمال کی بجلی شمسی توانائی سے پیدا کرنے کی عوام کو ترغیب دی جائے تو صنعتی و اقتصادی امور کے لیے کچھ نہ کچھ اضافی بجلی بہ سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔
کیا اس حقیقت سے کو ئی ا نکا ر کر سکتا ہے کہ بجلی کی قلت کو دو ر کر نا حکو مت کی ا و لیں تر جیح ہو نی چا ہیے۔ تا ہم ایسا بھی نہیں کہ حکومت نے اس ضمن میں اقدامات نہیں کیے۔ حکومت نے حتی المقدور کوشش کی، لیکن یہ نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ حکومت موجودہ پیداوار سے دس گنا بجلی بھی بنالے تو اسے ممکنہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مزید سعی کرنی ہوگی۔ اس نظام کی اصلاح پر بہر طور کام تو کرنا ہی ہوگا علاوہ ازیں دیگر جدید ذرائع سولر انرجی، ونڈ انرجی اور اٹامک انرجی کے ساتھ ساتھ چھوٹے، بڑے ڈیم بنانے پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے کہ اس سے بجلی ہی نہیں بقدر ضرورت پانی بھی حاصل ہوگا۔ ا ب و قت آ گیا ہے کہ حکومت کو اس سارے نظام کو تبدیل کرنے کا جامع منصوبہ بنانا ہوگا اور آ ئیند ہ بھی جو حکومت آئے اس کا فرض ہو گا کہ وہ اس منصوبے کو پا یہ تکمیل تک پہنچا نے میں کو ئی کسر ا ٹھا نہ ر کھے۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments