bodrum escort escort bodrum yalıkavak
Home / Urdu Columns / 2014ء ابھی ختم نہیں ہوا

2014ء ابھی ختم نہیں ہوا

حروف
نوید چودھری
لاہور اور گردونواح میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے ۔ ایسے موسم میں بھی سیا سی منظر نامہ واضح سے واضح ہو تا جارہا ہے ۔ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے اور ن لیگ کی جانب سے اس پر شدید ردعمل سے اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ حالات کس رخ پر جارہے ہیں ۔ بنیادی بات پھر وہی ہے کہ اگرچہ ہم 2017ء کے آخری دو مہینوں کے دوران ہونے والی سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں مگر ماحول وہی ہے جو 2014ء کے دھرنا پلان کے موقع پر تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس حوالے سے ہم آج بھی 2014ء سے باہر نہیں آئے ۔ 2014ء کے دھرنا پلان کا بنیادی مقصد حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔ 120روز تک وفاقی دارالحکومت میں جو تما شا لگایا گیا وہ ہماری تاریخ کا سیا ہ باب بن چکا ہے ۔ اصل منصوبہ اس وقت بھی یہی تھا کہ دھرنوں ،دنگوں کے ذریعے دباؤ بڑھا کر نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جائے ۔ پلان کا ایک اہم حصہ یہ بھی تھا کہ اگر مار دھاڑ کے باوجود مطلوبہ مقصد حاصل نہ ہو سکے تو پھر عدلیہ سے فیصلہ حاصل کرکے حکومت کی چھٹی کر ادی جائے گی ۔ دھرنوں کے عین عروج میں جاوید ہاشمی نے سار ابھانڈا پھوڑ ڈالا ۔ صرف یہ ہی نہیں بتایا کہ دھرنوں کا ہدایت کار اور منصوبہ ساز کون ہے ؟ بلکہ یہ تہلکہ خیز انکشاف بھی کر دیا کہ حکومت کی رخصتی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے حاصل کرنے کیلئے ارینجمنٹ کرلیا گیا ہے ۔ سازش ایسی ڈھکی چھپی بھی کہاں تھی؟سب کچھ کھلم کھلا ہو رہا تھا ،مگر صورتحا ل پلٹا کھاگئی ۔ ان دھرنوں کے حوالے سے الگ الگ سرپرستوں نے اپنی اپنی امیدیں باندھ رکھی تھیں ۔ کچھ مقاصد حل ہوئے کچھ باقی رہ گئے ۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ سے قبل ہی دھرنوں کی شدت نہ ہونے کے برابررہ گئی تھی کیونکہ کھیل میں شریک5اہم کردار میدان میں موجود نہ رہ سکے ۔ ایک عارضی نوعیت کا ٹھہراؤ ضرورآیا مگر سول حکومت کو عملاًعضو معطل بنا دیا گیا ۔ وہ تمام فیکٹرز جن کے ذریعے اس امر کا تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ فریقین کے درمیان مفاہمت کا لیول کیا ہے اس امر کی نشاندہی کرتے رہے کہ ٹانگیں کھینچنے کا عمل جاری ہے ۔ پھر وہ نوبت بھی آئی جب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نواز شریف سے بار بار استعفیٰ طلب کیا مگر من کی مراد پوری نہ ہوسکی اور سعودی عرب جا کر نئی نوکری حاصل کرلی ۔ جنرل راحیل شریف کے آخری دنوں میں ڈان لیکس کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا تو سول حکومت ایک موقع پر پوری طرح سے محاصرے میں پھنسی نظر آئی ۔ اس کی باقاعدہ انکوائری ہوئی اور کمیٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے وہی فوجی افسران شامل تھے جوبعدازاں شہرہ آفاق جے آئی ٹی کے ممبر بنے ۔ حیرت کی بات ہے کہ ابھی تک ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی حالانکہ فوجی ترجمان کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ یہ خالصتاً حکومت کی صوابدید ہے ۔ دوسری جانب اِن لیکس کے حوالے سے الزامات کا نشانہ بننے والی مریم نواز شریف ہیں جوایک سے زائدمرتبہ کہہ چکی ہیں کہ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔ اب تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس سازش کا مرکزی کردار اپنے انجام کو پہنچ چکا ۔ ان کا اشارہ واضح طور پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ر) رضوان اخترکی جانب ہے ۔ مگر اب اس حوالے سے کوئی ہلچل نہیں ہورہی ۔ لگتا ہے کہ کسی بھاری بوجھ نے رپورٹ دبا رکھی ہے ۔ خیر کوئی رپورٹ آئے یا نہ آئے نواز شریف کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں
تو ادھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے ۔‘‘
جیسے شعر اور نواز شریف کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس نے ن لیگ کو بطور پارٹی سخت جواب دینے پر مجبور کر دیا ۔ نواز شریف نے یہ کہہ کر بھڑاس نکالی کہ تفصیلی فیصلے سے ججوں نے اپنا بغض ظاہر کردیاہے اور تاریخ میں سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ کسی بھی طرح عمران خان‘ شیخ رشید ‘ طاہر القادری اور اس طرح کے دیگر کرداروں کے انداز گفتگو سے مختلف نہیں۔ ہم جسے غیر پارلیمانی زبان سمجھ رہے تھے وہ تو ریاستی اداروں کی زبان نکلی۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اب انصاف کے ایوانوں سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کیلئے ریلیف کی کوئی زیادہ امید باقی نہیں رہ گئی ، درخواستیں دھڑا دھڑ مسترد ہونگی اور کسی مناسب موقع پر سزا بھی سنا دی جائے گی۔ اپیل کہاں کرنی ہے ؟ شاید اسی لیے بعض زیرک سیاستدانوں اور اہم وکلاء نے مشورہ دیا تھا کہ اپنے بچاؤ کی جنگ عدالت کے اندر اور باہر دونوں جگہ پر لڑیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کھل کر کہہ دیا تھا کہ نوازشریف کو ریلیف صرف عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر ہی ملے گا۔ آزاد سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے بھی بالکل یہی تھی کہ اگر اس تمام معاملے کا آغاز 2014ء سے ہی کیا جائے تو نوازشریف نے پہلی غلطی اس وقت کی جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود سازشی عناصر کے خلاف کارروائی سے گریز کیا اگر ایسا کسی کے کہنے پر کیا تھا تو جان لیا جائے کہ وہ ٹریپ ہو گئے تھے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ جب ان کو اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ انہیں چھوڑا نہیں جائے گا تو پارٹی کارکنوں اور اتحادی سیاسی جماعتوں کو متحرک انداز میں ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا۔ وہ ایسا بھی نہ کرسکے، کارکنوں تو کجا ارکان اسمبلی اور وزراء تک سے دور ہوتے گئے۔ تیسری غلطی اس وقت کی جب سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر سفر کے ذریعے عوامی رابطہ مہم شروع کی تو چودھری نثار اور شہباز شریف اور ان کے چند دیگر ہم خیال رہنماؤں کے کہنے پر اسے آگے بڑھانے سے گریز کیا۔ کلثوم نواز شدید علیل اور بیرون ملک زیر علاج ہیں پھر بھی تمام تر مشکلات کے باوجود عوامی رابطہ مہم جاری رکھا جانا سیاسی طور پر زندہ رہنے کے لئے ناگزیر تھا اور ہے۔ نوازشریف نے اگر کہیں بیچ میں موقف نرم کرنے کا سوچا بھی تو دوسری جانب سے ایسی کوئی رعایت نظر نہیں آئی۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں جو زبان استعمال کی گئی اس سے ن لیگ کی ساری خوش فہمی ہوا ہوجانی چاہیے۔ پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے ٹھوس اور تہلکہ خیز حقائق سامنے لانے والے صحافی احمد نورانی کو سر پر لوہے کے راڈ مار کر معذور بنانے والوں نے یہی پیغام دیا کہ طاقت کا استعمال پرانے انداز بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حکومتی جماعت کے ارکان اسمبلی کو فون کر کے دھمکایا جا رہا ہے کہ پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس اہم موقع پر مسلم لیگ ن کے لئے قومی اسمبلی میں کورم پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔این آر او کیلئے بظاہر ایک ہی شرط ہے کہ نوازشریف خاندان سمیت ملک اور سیاست سے باہر ہو جائیں۔ کہا جا رہا ہے شہباز شریف قابل قبول ہیں مگر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ شہباز شریف کو قابو کرنے کیلئے حدیبیہ پیپرملز اور ماڈل ٹاؤن کیس لٹکا دیئے گئے ہیں، ایسے کیس نہ بھی ہوں تو کوئی نیا بنا کر بھی پھنسانا کتنا مشکل ہے؟ بس معاملہ عدالت میں لے جانے کی دیر ہے شہباز شریف نااہل بھی ہو جائیں گے اور اندر بھی۔ ملک میں اس وقت جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس پر کئی حلقوں کی گہری نظر ہے۔ اگرچہ دو تین اہم سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی میں مصروف ہیں مگر کئی لابیاں ایسی ہیں جو چاہتی ہیں کہ پہلے اختیارات کی تقسیم اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کے معاملات طے کئے جائیں۔ ان سب کیلئے نوازشریف کو عوامی رابطہ مہم نہ صرف فوری طور پر چلانا ہو گی بلکہ آگے بڑھ کر خطرات مول لینا ہوں گے۔پارٹی ارکان اسمبلی کا ٹوٹنا نقصان دہ ضرور ہے مگر اس سے زیادہ اہمیت ان کارکنوں اور ایسے حلقوں کی حمایت برقرار رکھنے کی ہے جو سسٹم کے تضادات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ مخالف عاصمہ جہانگیر گروپ کا کلین سویپ صرف ایک کمیونٹی کی سوچ کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ مختلف مکاتب فکر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے پریشر گروپ جو کسی طور پر ایسے کم وسیلہ بھی نہیں معاملات کو سدھارنے کیلئے ساتھ چلنے پر تیار ہیں۔ نوازشریف تین غلطیاں کر چکے چوتھی مرتبہ پھر غلطی کی تو اپنا ہی نقصان کریں گے کیونکہ اختیارات پر 70سال سے قابض قوتوں کی گرفت اب ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید تنقید کی زد میں آئے گی اور ڈھیلی پڑتی جائے گی اس ٹیم کی قیادت کیلئے کوئی اور سامنے آجائے گا۔ تاریخ رقم ہو رہی ہے وقت کا پہیہ الٹا نہیں گھوم سکتا۔ اس کا یہ مقصدہرگز نہیں کہ احتساب کا عمل روک دیا جائے، پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ جس جس نے ملک کو لوٹا ہے اسے بلا لحاظ کٹہرے میں لایا جائے۔ اعتراض محض اتنا ہے کہ کسی ایک کو فکس کرنے کیلئے بعض دوسروں کے خلاف نمائشی کارروائیاں کرکے ماحول بنانا اچھی بات نہیں۔ ہم افراتفری کے حوالے سے 2014ء کے دور میں ہی ہیں۔ خفیہ ہاتھ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی جتھہ بندیاں کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ شدت پسند گروہوں کو بھی سیاسی نام دے کر متحرک کیا جارہا ہے۔ دھرنے کسی وقت بھی ہو سکتے ہیں فیصلہ ساز طے نہیں کر پا رہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اسی لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ نادیدہ قوتوں کی حکمت عملی اس وقت کچھ یوں نظر آرہی ہے کہ سیاسی چیلنج بننے والے سوالوں سے ایک ایک کرکے نمٹا جائے۔ مخصوص میڈیا کو استعمال کرکے کردار کشی کی مہم زوروں پر ہے۔ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے کا معاملہ نیا نہیں۔ ایوب خان نے 1962ء میں سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے بارے میں فتویٰ دیا کہ وہ ایک بیرونی گماشتہ اور شرپسند ہے اور پھر 1964ء میں ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ دیا کہ فاطمہ جناح بھارت کے زیر اثر ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک پوری داستان موجود ہے۔90 ہزار فوجی قیدیوں کو بھارتی قید سے رہائی دلوانے اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والا بھٹو بھی غدارقرار پایا۔ بینظیر کو بھی ایجنٹ قرار دیا گیا۔ قوم پرستوں نے گلے شکوے کئے تو انہیں بھی غدار کہہ کر دھتکارا گیا اور مقام افسوس کہ اس سلسلے میں بعض گھٹیا صحافتی ہرکاروں نے گھناؤنا کردار ادا کیا۔ لگتا ہے کہ نوازشریف کا سیاسی کردار ختم کرنے کے لئے آنے والے دنوں میں مودی کا یار اور غدار کا کھیل ایک بار پھر سے کھیلا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے اس میں کچھ نیا نہیں!

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments