Home / Corporate Corner / چیئر مین فیڈرل بورڈ آف رینیو( ایف بی آر) طارق محمود پاشا نے ریگولیڑی ڈیوٹی کے نفاذ میں تکنیکی غلطیوں کا اعتراف کر لیا

چیئر مین فیڈرل بورڈ آف رینیو( ایف بی آر) طارق محمود پاشا نے ریگولیڑی ڈیوٹی کے نفاذ میں تکنیکی غلطیوں کا اعتراف کر لیا

کراچی(کامرس رپورٹر)چیئر مین فیڈرل بورڈ آف رینیو( ایف بی آر) طارق محمود پاشا نے ریگولیڑی ڈیوٹی کے نفاذ میں تکنیکی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ہے کہ غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کوشش کی جا رہی ہے، ریگولیڑی ڈیوٹی محاصل میں اضافے بلکہ درآمدات میں کمی کے لیے لگایا ہے،700 اشیا پر ریگولیڑی ڈیوٹی کے نفاذ کا متنازعہ بنایاگیا ہے،411 اشیا پر پہلے سے ہی ریگولیڑی ڈیوٹی عائد تھی،289 اشیا کو بھی ریگیو لیڑی ڈیوٹی کی فہرست میں شامل کیا گیا،ریگولیڑی ڈیوٹی لگانا حکومت کا فیصلہ ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں کے سوالوں کے جوابات اور گفتگو کے دوران کیا۔اس موقع ہر کراچی چیمبر کے صدر مفسرعطاملک،سابق صدور زبیرموتی والا،ہارون فاروقی،ہارون اگر،عبداللہ ذکی،انجم نثار،عبدالباسط عبدالرزاق،ریحان حنیف،آغاشہاب احمدخان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔چیئرمین ایف بی آرارق محمود پاشا نے کہا کہ صنعتی شعبے نے بہتر کارگردگی دکھائی ہے، ٹیکس محاصل میں اضافہ بزنس کمونٹی کی وجہ سے ہے،سیلز ٹیکس میں اضافے کا فائد اگلے سال انکم ٹیکس کی شرح نمو میں نظر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ اشیا ضروری اور اشیا پر تعیش پر ریگولیڑی ڈیوئی کے نفاذ میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں،ان غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔انکا کہنا تھا کہ لاکھوں کمانے والے بہت سے لوگ ٹیکس چور ہیں تاہم ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 26 فیصد کا اضافہ ہوا ہے،پچھلے سال ساڑھے سات لاکھ 41 ہزار انکم ٹیکس ریٹرن جمع ہوئے تھے جو اب بڑھ کر 10 لاکھ 76 ہزار ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہر سال اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر عمل ہوتا ہے،بزنس کمونیٹی کی سفارشات کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا ہے،میںآڈٹ سے مطمئن نہیں ہوں بلکہ میں خود آڈٹ کے حق میں نہیں ہوں اس لئے کراچی چیمبر اس پر تجاویز دے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر اور کراچی چیمبر میں کافی عرصے معاملات کا گیپ رہا، کراچی چیمبر دو سے تین تجاویز بجٹ کے لیے تیار کریں، بزنس کمیونٹی ہماری پارٹنرہے۔انکا کہنا تھا کہ کراچی چیمبر اور بزنس کمیونٹی اپنے مسائل اور ان کے حل کی تجویز بھی دے۔ طارق محمود پاشا کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے نے بہتر کارگردگی دکھائی ہے، سیلز ٹیکس میں اضافے کا فائدہ اگلے سال انکم ٹیکس کی شرح نمو میں نظر آئے گا، ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 26 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔کراچی چیمبر صدر مفسر ملک نے کہا کہ تین سال کے بعد چئیرمین ایف بی آر کراچی چیمبر آئے ہیں،،بزنس کمیونیٹی کو درپیش مسائل پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی،، صنعتکاروں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہونگے۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ ایف بی آر نے کچھ درست اور کچھ غلط فیصلے کئے،ریگولیٹری ڈیوٹی کی لسٹ پر وزارت تجارت کہتی ہے ہم نے نہیں بنائی،درآمدات کم کرنے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی گئی مگردرآمدات کم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے گئے جس سے برآمدات متاثر ہورہی ہے کیونکہخام مال پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی لگادی گئی،ریگولیٹری ڈیوٹی کی فہرست پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے اکاؤنٹس منجمد کرنا درست نہیں،۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments