Home / Urdu Columns / بیت ا لمقد س با ر ے ٹر مپ کی فا ش غلطی

بیت ا لمقد س با ر ے ٹر مپ کی فا ش غلطی

ایک سا د ہ سا سو ا ل پو چھتا ہو ں۔ وہ یہ کہ ا گر کو ئی طا قتو رر کن ا پنی طا قت کے بل بو تے پر کمز و ر ا را کین کو ا پنے حق میں و و ٹ دینے پر مجبو ر کر ے تو کیا ہم ا یسی ر ا ئے شما ر ی کوآ ز ا د ا نہ ر ا ئے شما ر ی کہیں گے؟تا ہم ہم د یکھتے ہیں کہ آ ج کی سو ل آئز ڈ دنیا میں ا مر یکہ کے صد ر ڈ و نلڈ ٹرمپ نے بیت ا لمقد س کو ا سر ا ئیل کا د ا لخلا فہ بنا نے کی غر ض سے ا قو ا م متحد ہ میں ہو نے و ا لی ر ا ئے شما ر ی میں یہی کچھ کر نے کی کو شش کی ہے۔ مگر خد ا ئے پا ک کی قد ر ت دیکھئے کہ با و جو د ا یسا کر نے کے اس کے حق میں صر ف نو وو ٹ آ ئے جب کہ ا س کے خلا ف ا یک سو ا ٹھا ئس وو ٹ آئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قبلہ اول کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی غلطی کی طرف بعد میں آئیں گے، ہم پہلے ماضی کی طرف جائیں گے۔ یہودیوں کی مقدس کتاب تلمود (کتاب ہدایات) کے مطابق دنیا کا یہ فیز چھ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہودی سال ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔ 2017ء کے 21 ستمبر کو یہودیوں کے کیلنڈر نے 5778 سال پورے کر لئے۔ یہودی عقیدے کے مطابق دنیا کے خاتمے میں اب صرف 222 سال باقی ہیں۔ یہ دنیا 222 سال بعد مکمل طور پر فنا ہو جائے گی۔ یہودیوں نے قیامت سے قبل دو اہم کام کرنے ہیں (1) تابوت سکینہ کی تلاش اور (2) ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔ یہ کہانی حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ چالیس سال حضرت اسماعیل ؑ کے پاس مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر رہے۔ آپؑ نے خانہ کعبہ تعمیر کیا اور آپؑ واپس فلسطین تشریف لے گئے۔ آپؑ نے وہاں اللہ تعالیٰ کا دوسرا گھر بیت المقدس تعمیر فرمایا۔ خانہ کعبہ اور بیت المقدس کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فلسطین میں انتقال فرمایا۔ آپ کا روضہ مبارک یروشلم کے مضافات میں ہے۔ یہ علاقہ حضرت ابرہیم ؑ کی مناسبت سے ہیبرون یا الخلیل کہلاتا ہے۔ حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کے مزارات بھی حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ موجود ہیں۔ بنی اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کی اولاد ہیں۔ یہ لوگ قحط کا شکار ہوئے، مصر کی طرف نقل مکانی کی، فرعون کی غلامی میں گئے، سینکڑوں سال ذلت برداشت کی اور 33سو سال پہلے حضرت موسیٰ ؑ کی معیت میں فلسطین واپس آئے۔ حضرت داؤد ؑ نے ہزار سال قبل مسیح میں یروشلم فتح کیا اور اسے اپنی سلطنت کنگڈم آف ڈیوڈ کا دارالحکومت بنایا۔ حضرت داؤد ؑ نے بیت المقدس کی بنیادوں پر یہودیوں کا عظیم معبد تعمیر کرانا شروع کیا۔ آپ کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے یہ تعمیر جاری رکھی۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس حضرت موسیٰ ؑ کا ایک تابوت تھا۔ اس تابوت میں پتھر کی وہ دو تختیاں بھی تھیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ پر کوہ طور پر اتاری تھیں۔ ان تختیوں پر اللہ کے دس احکامات درج تھے۔ تابوت میں حضرت ہارون ؑ کا عصاء اور وہ برتن بھی تھا جس سے من وسلویٰ نکلتا تھا۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ تابوت اس معبد کی بنیادوں میں چھپا دیا۔ آپؑ کے دور میں بڑے بڑے جادوگر بھی تھے۔ آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر ان تمام جادوگروں کو قتل کر دیا اور ان کے جادو کے نسخوں کو بھی صندوقوں میں بند کر کے معبد کے نیچے غاروں میں چھپا دیا۔ یہودی حضرت سلیمان ؑ کے معبد کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔ یہ ہیکل 586 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے تباہ کر دیا تھا۔ تاہم اس نے ہیکل سلیمانی کی بیرونی دیوار چھوڑ دی۔ یہودی اس دیوار کو کوتل جبکہ مسلمان دیوار گریہ کہتے ہیں۔ یہودیوں کا خیال ہے حضرت سلیمان ؑ نے تابوت سکینہ اور جادو کے نسخے بیت المقدس کے نیچے غاروں میں چھپائے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ تین ہزار سال سے بیت المقدس کے نیچے غار کھود رہے ہیں۔ یہ بیت المقدس کو گرا کر مستقبل میں ہیکل سلیمانی کو یہاں تک پھیلانا بھی چاہتے ہیں۔ کیوں؟ ہم اس کی طرف بھی بعد میں آئیں گے۔ ہم پہلے بیت المقدس میں مسلمانوں کی دلچسپی کا ذکر کریں گے۔ بیت المقدس 11 فروری 624ء تک مسلمانوں کاقبلہ اول تھا۔ نبوت کے دسویں سال رجب کی ستائیسویں شب کو معراج کا واقعہ پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ کو مکہ مکرمہ سے یروشلم لے کر آیا۔ آپﷺ نے قبلہ اول میں انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔ آپﷺ براق پر تشریف فرما ہوئے۔ اور براق آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کے حضور لے گیا۔ آپﷺ بیت المقدس کے صحن سے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔ آج بھی وہاں سات فٹ لمبی چالیس فٹ چوڑی اور چھ فٹ اونچی چٹان موجود ہے۔ یہ چٹان آپﷺ کے ساتھ اوپر اٹھ گئی تھی۔ حضرت جبرائیل ؑ نے اس پر ہاتھ رکھ کر اسے دوبارہ زمین سے جوڑ دیا تھا۔ چٹان پر حضرت جبرائیل ؑ کے ہاتھ کا نشان آج تک موجود ہے۔ اموی خلیفہ عبدالملک نے 691ء میں چٹان کے گرد سنہرے رنگ کی عمارت بنا دی۔ یہ عمارت عربی میں قبہ الصخرہ اور انگریزی میں ڈوم آف دی راک کہلاتی ہے۔ یہ مسلمانوں کے ہاتھوں عرب سے باہر پہلی عمارت تھی۔ یہ عمارت آج پوری دنیا میں یوروشلم کی پہچان ہے۔ یہ سنہری عمارت قبلہ اول نہیں۔ بیت المقدس سنہری عمارت سے ذرا سے فاصلے پر تہہ خانے میں ہے۔ آپ کو وہاں جانے کیلئے سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے آج سے آٹھ سو سال قبل مسجد اقصیٰ کی توسیع کی۔ یہ توسیع اقصیٰ جدید کہلاتی ہے یہودی اس سنہری عمارت اور اقصیٰ جدید کو بھی گرانا چاہتے ہیں۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ ہیکل سلیمانی بیت المقدس اور اقصیٰ جدید تک وسیع ہو گا۔ یہودیت عیسائیت اور اسلامی عقائد کے مطابق قیامت سے قبل دجال کا ظہور ہو گا۔ یہودی دجال کو مسیحا کہتے ہیں جبکہ عیسائی اسے اینٹی کرائسٹ کا نام دیتے ہیں۔ یہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد ظاہر ہو گا۔ پوری دنیا کے یہودی اسرائیل میں جمع ہوں گے۔ دجال اسرائیل کو کنگڈم آف ڈیوڈ ڈکلیئر کرے گا اور دنیا کو فتح کرنا شروع کر دے گا۔ یہ پوری عیسائی اور مسلمان دنیا کو تباہ وبرباد کر دے گا۔ یہ جنگ چالیس پچاس سال جاری رہے گی۔ دنیا ملبے کا ڈھیر بن جائے گی یہاں تک کہ دنیا کے قدیم ترین شہر دمشق میں حضرت امام مہدی کا ظہور ہو گا۔ فجر کی نماز سے قبل حضرت عیسیٰ ؑ جامعہ امیہ کے سفید مینار سے اتریں گے۔ یہ حضرت امام مہدی کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور یہ دونوں دجال کے خلاف صف آراء ہو جائیں گے بڑی جنگ ہو گی۔ یہودی اس جنگ کو آرما گیڈن کہتے ہیں ۔ اسلامی عقائد کے مطابق مسلمان یہ جنگ جیت جائیں گے۔ فتوحات کے بعد اسلامی ریاست بنے گی۔ حضرت عیسیٰ ؑ 45 سال کی زندگی گزار کر انتقال فرمائیں گیا۔ ان کے بعد حضرت مقعد کی حکومت آئے گی ۔ حضرت مقعد کے انتقال کے 30 سال بعد اچانک سینوں سے قرآن مجید اٹھا لیا جائے گا جس کے بعد قیامت کے آثار شروع ہو جائیں گے۔ جبکہ یہودی عقائد کے مطابق یہ جنگ دجال جیت جائے گا جس کے بعد یوروشلم کے مضافات میں جبل الزیتون پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ یہ قیامت کی پہلی نشانی ہو گی۔ جبل الزیتون (ماؤنٹ آف اولیوز)یروشلم کے مضافات میں ہے۔ ( جا ری ہے۔ )

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments