Home / Urdu Columns / عوامی حکمرانی کا مسئلہ

عوامی حکمرانی کا مسئلہ

مکالمہ 
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
سیاست ، جمہوریت ، قانون اور حکمرانی کے نظام میں عوام کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ بالخصوص وہ عوام جو کمزور اور محروم طبقات پر مبنی ہوتی ہے اس کی توجہ کا مرکز صاف، شفاف اور منصفانہ نظام ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کو ایک بات کا فہم اور ادارک ہوتا ہے کہ اس کو پیش آنے والی محرومی کا علاج وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حکمرانوں کی خصوصی توجہ سے جڑا ہوتا ہے ۔ اچھا حکمران طبقہ کی فوقیت بھی یہ ہی کمزور اور محروم لوگ ہوتے ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر حکمرانی کی شفاف ساکھ کا عمل سامنے آتا ہے ۔لیکن پاکستان کے سیاسی نظام کا تجزیہ کیا جائے تو اس کا حقیقی بحران ہی عوام پر مبنی حکمرانی کی ناکامی سے جڑا ہوا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں امیری اورغریبی یا وسائل رکھنے والے او رنہ رکھنے والوں کے درمیان جو خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے ، وہ سنگین مسئلہ ہے ۔یہ عمل عملی طور پر ریاست اور عوام کے درمیان باہمی تعلق کو کمزور کرنے اور خلحج پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے ۔ 
پاکستان میں عوام کی حکمرانی کو بنیاد بنا کر سیاسی اور فوجی حکمرانی سے جڑے ہوئے لوگوں نے ہمیشہ سے ہی کمزور اور محروم لوگوں کا استحصال کیا ہے ۔کیونکہ ہماری سیاست عمومی طور پر طبقاتی سیاست کے گرد گھومتی ہے ۔طبقاتی سیاست سے مراد حکمرانی کے نظام میں سب کی حیثیت کو برابری کی بنیاد پر نہیں دیکھا جاتا،بلکہ ایک مخصوص طبقہ اور گروہ کو سب کے مقابلے میں فوقیت دی جاتی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری حکمرانی کا نظام لوگوں میں اپنی افادیت قائم نہیں رکھ سکا ۔جب سیاسی جماعتیں اور قیادت یہ گلہ کرتی ہیں کہ جب جمہوری نظام کوخطرات ہوتے ہیں تو لوگ جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ یہ بات کافی حد تک بجا ہے ، مگر سچ یہ ہے کہ جب ہمارا جمہوری نظام لوگوں کی حقیقی و بنیادی ضرورتوں کے ساتھ نہیں جڑے گااور نظام لوگوں کو فائدہ نہیں دے گا، جو نظام کو بچانے کی جنگ میں حصہ دار نہیں بنتے ۔اس لیے محض لوگوں پر ماتم کرنے کی بجائے جمہوری نظام کو اپنے داخلی بحران کا بھی جائزہ لینا چاہیے ۔ 
پاکستان میں جو سیاسی تحریکیں چل رہی ہیں یا ماضی میں چلی ہیں اس کی بنیاد جمہوریت، قانون کی حکمرانی ، عوامی مفادات، منصفانہ اور شفاف نظام ، انصاف سمیت کئی نکات ہوتے ہیں ۔ لوگوں کوجذباتی انداز میں متحرک اور فعال کیا جاتا ہے کہ وہ ان تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں او راس کا براہ راست فائدہ نظام ، ملک اور عوام کو ہوگا ۔لیکن عملی طور پر ہم نے جو تحریکیں دیکھیں یا جو چلائی گئیں اس میں عوام کو محض ایک کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ اول جو تحریکیں چلیں اس کی وجہ سیاسی محرکات بھی تھے ، لیکن ان کی سرپرستی پس پردہ قوتوں نے کی جن کے اپنے خاص مفادات تھے ۔اس میں اہل سیاست کو استعمال کیا گیا ۔ اسی طرح سیاست دانوں نے بھی عام آدمی کو استعمال کرکے ان کا ہر سطح پر استحصال کیا ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب ہمیں ماضی کے مقابلے وہ تحریکیں نظر نہیں آتیں جو کبھی ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ تھے ۔کیونکہ اب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تحریکوں کا مقصد نظام کی تبدیلی کی بجائے حکومتوں اور شخصیات کو گرانا ہوتا ہے ۔
یہ جو طاقت ور طبقات جن کے ہاتھ میں ملک کا ریموٹ کنٹرول ہے اور کسی بھی محاذ پر ہوں ان کی پہلی اور اولین خواہش نظام کو عام آدمی کے مقابلے میں اپنے کنٹرول میں لانا ہوتا ہے ۔یہ طاقت ور طبقہ عام آدمی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے ۔مسئلہ اسٹیبلیشمنٹ ہو، سیاسی نظام سے جڑی ہوئی قیادت ہو، بیوروکریسی ہو، عدلیہ ہو، انتظامیہ ہو سب ہی نظام پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں ۔اس سوچ اور فکر کو عمومی طور پر ہم بنیادی طور پر طاقت ور طبقات کے درمیان جاری باہمی کشمکش سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔کیونکہ اس طرز کی لڑائی میں عوام کی کوئی ترجمانی نہیں ہوتی اور ان کو محض اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیاجاتا ہے ۔
پچھلے دنوں جب نواز شریف نے عدلیہ کے حوالے نظام عدل کی تحریک چلانے کی بات کی تو بڑی مضحکہ خیز لگی ۔کیونکہ اول ان کی جماعت حکمرانی میں ہے او ران کو کسی نے بھی نظام کی اصلاح کرنے سے نہیں روکا۔لیکن جو چیز طاقت ور طبقات پر مبنی نظا م میں سمجھنے کی ہے کہ نواز شریف کو عدل کی تحریک اس وقت یاد آئی جب ان کو عدلیہ کی جانب سے نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ۔ نواز شریف نااہلی کے بعد سے لے کر اب تک جب بھی میڈیا میں آئے ان کی گفتگو کا مرکز ان کی اپنی ذاتی نااہلی یا ذاتی انتقام تھا ۔ ان کے بیانیہ میں کہیں بھی عام آدمی نظر نہیں آتا۔ حالانکہ ان کے اپنے دور اقتدار میں عام آدمی کا انصاف کے نام پر جو استحصال ہوتا ہے وہ سنگین مسئلہ ہے ۔ اب کیونکہ مصیبت نواز شریف اور ان کے خاندان کو ہے تو آزاد عدلیہ کی بحث نظر آتی ہے ۔لیکن جب یہ ہی لوگ عدلیہ کے ادارے کو فعال بنانے کی بجائے اپنے گھر کی لونڈی بنا کر کام چلانا چاہتے ہیں تو ان کو نظام عدل کی تحریک کا خیال نہیں آتا ۔
اس ملک میں عوام کی سیاست دیکھنی ہے تو اس کی ایک شکل ریاستی نظام کے ٹوٹ پھوٹ سے ملتی ہے ۔ لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ، یہ محض سیاسی نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری بھی ہے ۔لیکن یہاں ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی بجائے بنیادی ضرورتوں تک رسائی کو نجی شعبہ میں دے کر لوگوں کی پہنچ سے دور کررہی ہے ۔اب جس کے پاس پیسے یا دولت ہے وہی بہتر بنیادی سہولتیں حاصل کرسکتا ہے ۔ باقی کمزور اور غریب لوگوں کے پاس ماسوائے ماتم کے کچھ نہیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ جب اس ملک کا حکمران سمیت طاقت ور طبقات کا اپنا اور اپنے بچوں کا یہاں کی تعلیم ، صحت، ٹرانسپورٹ، قانون، تفریح ، انصاف ، روزگار سے کوئی تعلق نہیں تو اس نظام کی اصلاح وہ کیونکر کریں گے ۔حکمرانوں سے پوچھیں تو ان کے بقول ملک ترقی کررہا ہے ،جبکہ عام آدمی کی سوچ حکمرانوں سے مختلف ہے جو تضاد کی سیاست کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔
یہ جو بڑی اور حکمران سیاسی جماعتیں ہیں عملی طور پر سیاسی کلب ، پراویٹ لمیٹیڈ کمپنیاں یا مافیا کے کھیل میں حصہ دار بن گئی ہیں ۔ ان میں عام آدمی کی تبدیلی کے مقابلے میں اپنی ذاتی اور خاندانی ترقی زیادہ اہم ہوتی ہے ۔سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی ٹھوس پالیسی پر مبنی نظام نہیں کہ وہ لوگوں کی حالت ذار کو کیسے بدل سکتی ہیں ۔ان کے سیاسی منشور محض انتخابات کی شق کو پورا کرنے کے لیے انتخابات سے چند دن قبل سامنے لائے جاتے ہیں ۔لیکن انتخابات میں ایشوز کی بنیاد پر سیاست کم اور الزامات پر مبنی سیاسی انتخابی مہم کا غلبہ نظر آتا ہے جو عام آدمی کی پہلے سے موجود بگڑی ہوئی سیاست کو اور زیادہ متاثر کرتا ہے ۔
بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم طاقت کے ایوانوں میں لڑی جانے والی مہم یا تحریک جو عوام کے نام پر کی جاتی ہیں اس کو کیسے عوام کے حق میں تبدیل کیا جائے۔یہ کام مشکل ضرور ہے ، لیکن نا ممکن نہیں ۔ اصل میں ہمیں اپنی سیاست کے فرئم ورک اور سیاسی جماعتوں کی فکر اور سوچ کو نہ صرف تبدیل کرنا ہوگا بلکہ ان پر ایک بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرنا ہوگا ۔ دنیا میں عام اور کمزور آدمی کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب اس طبقہ کے لیے حکمرانی کے نظام میں مزاحمت پیدا کی جائے ۔یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا نظام بگاڑ کا شکار ہے اور اس کی درستگی کے لیے محض ڈسپرین کی گولی سے کام نہیں چلے گا ۔ نظام کی اصلاح کے لیے ایک بڑی سرجری کرنی ہوگی اور یہ سرجری قانون کے دائرہ کا رمیں ہو تو نظام کی اہمیت بھی قائم رہ سکے گی ۔
پاکستانی عوام کو بھی سمجھنا ہوگاکہ وہ بھی اس طاقت کی لڑائی میں فریق بن کر اپنا بھی اور قوم کا بھی استحصال کروانے کی بجائے اپنی سوچ کو بہتر بنائیں کہ ان کو عام آدمی کا مقدمہ کیسے لڑنا ہے ۔اس طاقت کی لڑائی میں اپنی طاقت ضائع کرنے کی بجائے اس کو موثر انداز میں اپنے حق میں استعمال کریں ۔ اہل دانش ان طاقت ور طبقات کی آواز بننے اور اپنے مفادات کو طاقت دینے کی بجائے عام آدمی کے مسائل سے اپنا تعلق جوڑیں ۔کیونکہ طاقت ور طبقات کو جنجھوڑنا اور ان کے مفاداتی کھیل کو توڑنا ہی عام آدمی کی سیاست کو مستحکم اور طاقت ور بناسکتا ہے ، اس کے لیے خود بھی منظم ہوں اور دوسروں کو بھی منظم کریں تاکہ اصل حکمرانی عوام اور اس کے مفادات کی ہواور طاقت ور طبقات عوام کے مفادات کی حقیقی ترجمانی کرسکیں ۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments