Home / Urdu Columns / مقبوضہ کشمیر میں ا نسا نی حقو ق کی پا ما لی

مقبوضہ کشمیر میں ا نسا نی حقو ق کی پا ما لی

۲۰۱۷جس طو ر ا یک کے بعد دوسری شو ر ش بپا کر تا ہو ا گذ ر ا، ا س کی ما ضی میں کم ہی مثا ل ملتی ہے۔ جا تے جا تے ا پنے ا و ا خر میں ا س نے بیت ا لمقد س کو ا سر ا ئیل کے د ا ر لخلا فہ بنا ئے جا نے کے عمل سے پو ر ی دنیا کو دو چا ر کیا۔ ا س پہ میں دو قسطو ں پہ مشتمل کا لم تحر یر کر چکا ہو ں۔ ا سی سا ل کے دو ر ا ن انسا نی حقو ق کی مقبو ضہ کشمیر میں بھا ر ت کے ہا تھو ں جس طو ر پا ما لی ہو ئی، اس پہ خا مو ش ر ہنا بھی ا ہل کشمیر سے روا رکھی جا نے و ا لی ز یا د یتیو ں کے ز مر ے میں میں آ ئے گا۔یہی و جہ ہے کہ میں ۱۸ ۲۰کا آ غا ز میں مقبو ضہ کشمیر میں جا ر ی ا نسا نی حقو ق کی پا ما لی سے کر نا چا ہ ر ہا ہوں۔ بسبیل تذ کر ہ یا د دلا تا چلو ں کہ میں گا ہے بگا ہے اس مو ضو ع پہ لکھتا رہاہوں۔ مگر جسطر ح سے گذ شتہ ما ہ د س د سمبر کو نہتے کشمیر یو ں کو ظلم و بر بر یت کا نشا نہ بنا یا گیا ، ا س پہ ا قو ا م عالم کے ضمیر کو جنھجوڑنا ضر و ر ی ہے۔ دس د سمبر پو ری د نیا میں ا نسا نی حقو ق کے طو ر پر منا یا جا تا ہے۔ چنا نچہ ا س رو ز مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر ہڑتال کی گئی جس سے زندگی تھم گئی ۔ مگر بھا ر تی فو ر سز نے اپنے گھنا و نے مظا لم کی پر د ہ پو شی کی غر ض سے کا ر و با ر زند گی کو ز بر د ستی متحر ک کر نے کی کو شش کی۔نتیجہ کے طو ر پرِ فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 22 افراد زخمی ہوگئے۔ حریت رہنما یاسین ملک کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وادی میں ہمہ گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی، کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ہو کا عالم رہا۔ بھارتی فورسز نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر حریت قیادت کو حیدر پورہ میں سیمینار کی اجازت نہیں دی، اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو بھی روک دیاجبکہ احتجاجی پروگرام ناکام بنانے کے لیے قائدین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق بدستور نظر بند رہے۔ اس دوران انٹرنیٹ موبائل اور سروس معطل رہی حتی کہ ریل سروس بھی بند کردی گئی۔ 
حقیقت یہ ہے کہ ا قو ا م متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10 دسمبر 1948ء کو انسانی حقوق کا یونیورسل ڈیکلیریشن منظور کیا تھا اور 1950ء میں جنرل اسمبلی نے ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے طور پر منانے کے لیے باقاعدہ قرارداد منظور کی تھی۔ تاہم افسوس کا مقام ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی بدترین پامالی عشروں سے جاری رہے حتیٰ کہ کشمیری عوام کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر بھی اپنے حقوق پر احتجاج کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی تشدد کو پوری دنیا نے دیکھا جس پر ہر آنکھ اشک بار رہی۔ حریت لیڈر شپ کو حراست میں لیا گیا اور حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ سے زیادہ سیکورٹی فورسز رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود خوفزدہ رہتا ہے اور اس کی مثال ایسے مواقع پر دیکھنے کو ملتی ہے جب کشمیری حریت پسند آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے ان کا جذبہ ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں اور احتجاجی پروگرام ناکام بنانے کے لیے بھارت فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی بڑی تعداد اہم مقامات پر تعینات کی جاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاہم لوگوں کی بڑی تعداد تمام تر بندشوں کے باوجود سڑکوں پر نکل کر احتجاج اور مظاہرے کرتی ہے اور امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کے پتلے بھی نذرآتش کیے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے ہر منشور کے مطابق احتجاج کرنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے لیکن آج کے اس جدید دور میں مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
چھ د ہا ئیو ں سے ز یا د ہ عر صہ بیت چکا ہے اس و قت سے جب کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں موجود ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی سست روی کے باعث اس مسئلے کا پُرامن تصفیہ نہیں ہوسکا۔ بھارت نے تمام اصول و قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ تو کرلیا لیکن وہ جذبہ آزادی کو کشمیریوں کے دلوں سے نہ نکال سکا۔ اب تک وادی میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہری شہید کیے جاچکے ہیں، ہزارہا خواتین کی عصمتوں کو تار تار کیا جاچکا ہے اور تشدد کے تمام تر طریقے آزمائے جاچکے ہیں لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کم نہیں کیا جاسکا۔ ممنوعہ پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال بھی جاری ہے جس سے اب تک کئی ہزار بچے اور بڑے بینائی کھو بیٹھے ہیں۔ یہ چھرے جسم کے مختلف اعضاء میں پیوست ہوجاتے ہیں اور مریض زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ بھارت عالمی مبصرین کو بھی وادی میں داخلے سے روکے ہوئے ہے۔ تا ہم یہا ں ا یک چبھتا ہو ا سو ا ل یہ پید ا ہو تا ہے کہ عا لمی مبصر ین اقوا م متحد ہ کی نظر اپنی وہا ں د ا خلے پہ پا بند ی کی جا نب کیو ں مبذ و ل نہیں کر ا تی۔ یہی وہ محر کا ت ہیں جو مقبو ضہ و ا د ی کے شہر یو ں کے د لو ں میں محر و میو ں میں ا ضا فے کا با عث بن ر ہے ہیں۔ جہا ں بھا ر ت ریاستی دہشت گردی کی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے و ہیں اس پر امریکہ اور مغرب کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک میں جہاں جانوروں کا بھی خیال کیا جاتا ہے اور ان کے بھی حقوق ہیں، وہی ممالک مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر مظالم کو دیکھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام کا واحد مطالبہ بھارتی جبر و استبداد سے آزادی ہے اور ان کا یہ حق ہے کہ بزور طاقت نہیں چھینا جاسکتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن منانا جدید ممالک کے لیے ایک رسم بن چکا ہے اور اس کا حقیقت اور عملی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ جبھی تو مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم و ستم کا شکار ہیں اور کوئی ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔ دنیا میں امن کے ٹھیکیدار ممالک کو چاہیے تھا کہ وہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم و بربریت کی داستانیں رقم ہورہی ہیں اور جہاں جہاں انسانی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، وہاں حقوق دلانے کے لیے کسی پلیٹ فارم پر نہ سہی، انفرادی طور پر ہی آواز اٹھاتے تاکہ یہ ثابت ہوتا کہ مہذب ممالک واقعتا انسانی حقوق کی پامالی کو ایک جرم گردانتے ہیں اور اس کے خلاف ایکشن لینے کو تیار ہیں۔ تاہم د س د سمبر کے روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت ایک مرتبہ پھر عروج پر رہی اور بھارت نے ثابت کردیا کہ اس کا سیکولرازم سے دور کا واسطہ نہیں بلکہ وہ طاقت کے نشے میں چُور ہوکر بے گناہ اور نہتے مسلمانوں سے ان کی جنت نظیر وادی چھیننے کے درپے ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بھارتی دہشت گردی قابل مذمت ہے جس کا اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو نوٹس لینا چاہیے۔او ر اگر ا یسا نہیں ہو تا تو دس دسمبر ا نسا نی حقو ق کا د ن ا یک فیشن سے زیا وہ اہمیت کا حا مل نہیں ر ہ پا ئے گا۔ ا و ر پھر با ت یہیں ختم نہیں ہو پا ئے گی، بلکہ ا قو ا م متحد ہ کی دنیا میں مو جو د گی ا یک سو ا لیہ نشا ن بن کے رہ جا ئے گی۔ 

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments