Home / Corporate Corner / چھ ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات میں 70 روپے سے 85 روپے فی لیٹر تک 20 فیصد اضافہ

چھ ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات میں 70 روپے سے 85 روپے فی لیٹر تک 20 فیصد اضافہ

کراچی (کامرس رپورٹر) آل پاکستان بزنس فورم (اے پی بی ایف) نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چھٹی بار مسلسل اضافہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر 2017ء سے فروری 2018ء تک گزشتہ چھ ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات میں 70 روپے سے 85 روپے فی لٹر تک تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت خزانہ نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو اگست 2017ء میں تقریباً 70 روپے فی لٹر پر برقرار رکھا۔ اگست 2017ء میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست کے مہینے کے لئے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 3.67 روپے اور 5.07 روپے فی لٹر کم کرنے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے عوام کو فائدہ دینے کی بجائے قیمتوں کو برقرار رکھا۔ آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 15 روپے فی لٹر اضافے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لئے بری خبر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں لیکن حکام ٹیکس کی شرح جو خطے میں سب سے بلند ہے، میں کمی کر کے نرخوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے زیادہ ٹیکس نافذ کر کے پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ عوام کو نہیں دیا یہ وقت پٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹیز میں ریلیف دینے اور عالمی مارکیٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مستحکم رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کا ہے۔ ابراہیم قریشی نے اس اقدام کو ملکی معیشت کے لئے بری خبر قرار دیا جو متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ 

Share your Comments

comments