Home / Urdu Columns / کشمیریوں کا مقدمہ

کشمیریوں کا مقدمہ

مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
پانچ فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ دنیا میں جتنی بھی آزادی کی تحریکیں چلیں یا چل رہی ہیں اس میں کشمیر کی جدوجہد آزادی کی تحریک ناقابل فراموش ہے ۔فکری محاذ پر ایک مغالطہ یہ پھیلایا جاتا تھا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی تحریک داخلی سے زیاد ہ خارجی تحریک ہے ۔ یعنی بھار ت کی جانب سے پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ کشمیر کی تحریک مقامی نہیں بلکہ پاکستان کی مداخلت کی بنیاد پر ہے ۔ لیکن سب جانتے ہیں اور جو عالمی ماہرین اور بین الاقوامی ادارے ہیں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ کشمیر کی اتنی بڑی تحریک یا جدوجہد مقامی تحریک سے جڑے افراد کے بغیر ممکن نہیں تھی ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک نے کشمیر کی تحریک میں سیاسی ، اخلاقی او رمالی طور پر ان کی مدد کی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تحریک مقامی سطح پر اپنا کوئی اثر نہیں رکھتی تھی ، محض خارجی مفاد کے تحت اس تحریک کو چلایا جارہا ہے ۔ کشمیر کی تحریک میں سید علی گیلانی جیسا باریش بزرگ اور کئی اہم کشمیری راہنماوں کی قیادت میں اس تحریک نے عملی طور پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر اپنی سیاسی ساکھ بھی بنائی ہے ۔اس کا اعتراف خود بھار ت کے بہت سے دانشور بھی کرتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو روائتی انداز سے نمٹنے کی بجائے غیر معمولی اقدام سے کرکے مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ 
بنیادی طور پر کشمیر کی جو نئی نسل سامنے آئی ہے اس نے ماضی کے مقابلے میں اپنی تحریک میں اور زیادہ شدت پیدا کی ہے، وہ کسی بھی صورت میں بھارت کے مظالم اور کشمیریوں کو دبانے پر خاموش رہنے کو ترجیح نہیں دیتے ۔ نئی نسل کا کمال یہ ہے کہ اس کے پاس اب جدید زرائع ابلاغ یعنی سوشل میڈیا کی صورت میں ایک نئی طاقت حاصل ہے ۔ برہان وانی شہید بھی اسی نئی نسل کا نمائندہ تھا ۔یہ جو ہمیں کشمیر کے محاذ پر نوجوان نسل زیادہ سرگرم اور پرجوش نظر آتی ہے اس میں برہان وانی سمیت کئی نوجوانوں کا حصہ ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کی مزاحمت محض کشمیر تک یا وہاں کے مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ دہلی کی بڑی درس گاہوں میں بھی ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی کشمیر میں بھارت کے مظالم پر خود بھارتی حکومت کے اقدامات پر اپنی آواز اٹھارہے ہیں ۔
کشمیر کی اس تحریک میں ہمیں جہاں نوجوان لڑکے غالب نظر آتے ہیں وہیں اب لڑکیوں کی جانب سے بھی اس تحریک میں شمولیت کے کئی بڑے منظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر کشمیر کی تحریک کے حق میں اور بھارت کے مظالم کے خلاف نئی نسل میں رائے عامہ تشکیل دے رہے ہیں ۔ اس کا عتراف بھارت کی حکومت میں بھی ہے کہ نئی نسل اور سوشل میڈیا کی طاقت ان کے لیے بڑے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔بھارت اس روائتی فکر سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں کہ مسئلہ کا حل محض طاقت کا استعمال ہے ۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال نے وہاں تحریک کو کمزور کرنے کی بجائے اور زیادہ مضبوط کیا ہے ۔ 
اہم بات یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل جنگ نہیں بلکہ ڈپلومیسی کا محاذ ہے ۔ہمیں اپنی فکر اور فہم کے ساتھ دنیا کو باور کروانا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد مسلح نہیں بلکہ ایک پرامن جدوجہد ہے ۔اس میں بھار ت کا جارحانہ رویہ مسئلہ کے حل میں مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی سے جڑے ہوئے نوجوان اب عالمی دنیا اور یورپ میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔پچھلے دنوں برسلز میں بھارت سفارت خانہ کے باہر کشمیر کونسل نے بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیر کے حق میں مظاہرہ کیا ۔ اسی طرح اٹلی کے شہر بریشیا میں پاکستان کمیونٹی کی نمائندہ تنظیمات تحریک کشمیر اٹلی اور پاکستان سپریم کونسل بریشیا فری کشمیر پبلسٹی مہم کا آغاز کیا گیا جس میں پبلک ٹرانسپورٹ میں فری کشمیر کی اشتہاری مہم چلائی گئی۔اسی طرح آسام میں یونایٹیڈ لبریشن فرنٹ نے69thری پبلک ڈے بھارت کا بایکاٹ کیا اور بھارتی پرچم کو نذراتش کیا ۔
اس وقت اگرچہ کشمیر کی قیادت اور عوام اپنا مقدمہ خود لڑرہے ہیں ، لیکن ان کو پاکستان سمیت کئی اسلامی ملکوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت بھی درکار ہے ۔ یقینی طور پر پانچ فروری کو دنیا بھر میں کشمیر کے مسئلہ کو بھارتی مظالم کے تناظر میں اجاگر کیا جاتا ہے ،لیکن یہ عمل محض دن منانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ کریڈیٹ بھی جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کو جاتا ہے جن کی کوششوں کی وجہ سے پانچ فروری کا دن کشمیر کے دن کے طو رپر منایا جاتا ہے ۔ قاضی حسین احمد نے مسئلہ کشمیر کو ذندہ رکھنے میں کافی اہم کردار ادا کیا او ران کی قیادت میں تواتر کے ساتھ ہونے والی کانفرنسز اور مشاورت کو اہم حصہ بنایا ۔
لیکن ہمارے حکمران طبقات کی کشمیر کاز سے سنجیدگی کا عالم دیکھیں کہ ان کو کشمیر کمیٹی کو فعال رکھنے کے لیے سربراہی کے طور مولانا فضل الرحمن کا چناو کرنا پڑا، پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی یہ ہی کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے ۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت خود کشمیر کے مسئلہ کو سرد خانے میں رکھ کسی اور کی خوشنودی کے لیے کام کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہے ۔سفارت کاری کے محاذ پر ہماری سفارت کاری اور ڈپلومیسی بہت کمزور ہے ۔ ہم بھارت سے دوستی کا ایجنڈا تو رکھتے ہیں لیکن بنیادی مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے لیے شدت سے تیار نہیں۔مسئلہ یہ نہیں کہ وہاں جو بھارت کے مظالم ہورہے ہیں اس پر صرف پاکستان کا مقدمہ ہی سنا جائے ، بلکہ بھارتی مظالم پر تو ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومین رائٹس واچ جیسی کاتعداد تنظیموں کی رپورٹس موجود ہیں جو بھارتی مظالم کے شواہد پیش کرتی ہیں ۔ 
ہماری سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض مذہبی جماعتوں تک محدود ہوگیا ہے ۔ حالانکہ کشمیر کا مسئلہ خالصتا ایک سیاسی مسئلہ ہے او راس میں بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا موثر اور بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ تاثر کہ یہ محض مذہبی مسئلہ ہے اس کی نفی کرنی ہوگی ۔میں اس بات کاحامی نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہونے چاہیے ۔لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ کشمیر کے ایجنڈے کو پس پشت ڈال کر ہم بھارت سے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائیں ۔اسی طرح پاکستان کی ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اس احساس سے بھی گریز کرنا چاہیے کہ کشمیر کی آزادی میں شریک عوام اور ان کی قیادت کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان کا مسئلہ اب کشمیر نہیں اور اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں ۔
ہماری سفارت کاری میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں موجود سابق سفارت کاروں اور کشمیر سے متعلق ماہرین کا ایک ایسا ڈپلومیسی پر مبنی کمیشن بنائے ، اس کے لیے وسائل رکھے جائیں ، اس کی نوعیت تھنک ٹینک کی ہو جہاں تحقیق پر مبنی کام ہو اور یہ لوگ عالمی سطح پر ڈپلومیسی کے محاذ پر کام کریں ۔ یہ مسئلہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کو موثر بنانے کے لیے ہمیں قومی اور صوبائی سطح پر زیادہ فعال ادارے بنانے چاہیں ۔ اسی طرح ہماری نوجوان نسل کو بالخصوص کشمیر کی جدوجہد کے حوالے سے کوئی زیادہ آگاہی نہیں اور ان کا علم بڑا محدود ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم فورا یونیورسٹیوں کی سطح پر کشمیر سنٹرز بنائیں اور جہاں موجود ہیں ان کو فعال کیا جائے ۔کیونکہ بھارت کی جو میڈیا وار ہے اس کا مقابلہ جذباتی انداز میں کرنے کی بجائے ہمیں علمی اور فکری بنیادوں پر کرنا چاہیے ۔
اسی طرح ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ آج کی جو گلوبل دنیا ہے اس میں بڑی طاقتوں کو اپنے حق میں استعمال کیے بغیر ہم بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گے ۔یہ کام سفارت کاری کے محاذ کے بغیر ممکن نہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں جو پاکستان سفارت خانے یا سفارت کار ہیں وہ کشمیر کے مسئلہ کو اپنی عدم دلچسپی یا وسائل کے نہ ہونے یا حکومتوں کی جانب سے ٹھوس اقدامات یا پالیسی نہ ہونے سے کوئی فعال کردار ادا نہیں کررہے ۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک بڑی سرمایہ کاری کرکے پاکستان کے مقدمے کو کمزور اپنے مقدمہ کو مضبوط بنانے کے کھیل میں شریک ہے ۔ہمیں بھارت کو یہ باور کروانا ہوگاکہ آج کی دنیا میں طاقت کے بے جا استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اسے کشمیر کے مسئلہ پر اپنے پرانے موقف میں لچک پیدا کرکے نیا موقف اپنانا ہوگا جو عالمی دنیاسمیت خود کشمیر کی عوام کو بھی قبول ہو۔

Share your Comments

comments