Home / Urdu Columns / شاہد مسعودیت

شاہد مسعودیت

2002ء کی بات ہے کہ جب ڈاکٹر شاہد مسعود کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔اپنے خاندان کے ایک بزرگ کا حال پوچھنے ان کے گھر گیا تو فرمائش کی گئی کہ اگر ممکن ہو تو کسی مناسب موقع پر ڈاکٹر شاہد مسعود سے ملاقات کرادی جائے۔بچپن میں تحریک پاکستان کے کارکن رہنے والے یہ بزرگ دوران سروس ملک کے اندر اور باہر بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔دین اور ملک و قوم کیلئے دردمندی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔فرمائش سن کر میں بے اختیار مسکرایا تو جہا ندیدہ بزرگ نے فوراً بھانپ کر پوچھا تم ہنسے کیوں؟ عرض کیا کہ میں تو موصوف کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا مگر کوچۂ صحافت کی خاک چھانتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ رول ماڈل کے طور پر نمایاں ہونے والی اکثر شخصیات کیلئے نام بڑے اور درشن چھوٹے کا محاورہ بھی ہیچ ہے ۔ان کے جتنا قریب جائیں اتنی ہی کوفت محسوس ہوتی ہے۔بزرگ رشتہ دار سے ایک دو واقعات کا تذکرہ بھی کیا۔تاہم یہ وعد ہ کر کے لوٹا کہ آپ کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔میں ان دنوں جنگ ،راولپنڈی میں فرائض انجام دے رہا تھا۔میرے یہ بزرگ لاہور میں مقیم تھے۔دفتر گیا تو اپنے کو لیگ معروف صحافی محسن رضا سے ڈاکٹر شاہد مسعود کے بارے میں دریافت کیا۔محسن رضا ادارے کی اجازت سے بیک وقت جنگ اور اے آر وائی دونوں کیلئے کام کررہے تھے۔نرم گفتار مہذب اور با اخلاق محسن رضانے تھوڑا سا ’’تعارف‘‘ کرایا تو میں نے کہا کہ آگے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔میرے رشتہ دار بزرگ ہی نہیں پورا ملک ڈاکٹر شاہد مسعود کو کسی فرشتے سے تھوڑا ہی کم معصوم سمجھتا تھا۔ہم جیسے صحافیوں کیلئے مگر یہ کوئی نئی بات نہ تھی ۔اعلیٰ ترین باتیں کرنے والے کئی گھٹیا ترین کریکٹر دیکھنے کے بعد اس نتیجے کا علم تھا کہ بالآخرپول کھل کر ہی رہتا ہے۔مکمل نہ سہی جزوی طور پر ہی سہی مگر ہو تا ضرور ہے۔غیر صحافی لیکن عیار شاہد مسعود نے شعبہ صحافت میں انٹر ی کے لیے تمام اہم ایڈ یٹروں ،کالم نویسوں وغیرہ سے تعلقات بنا رکھے تھے۔کسی نے یہ جاننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ موصوف نے کیونکر برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کررکھی ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی دکانداری خوب چمک رہی تھی۔پھر ڈیرہ بگٹی میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔اس معاملے میں الزام ایک نو جوان فوجی افسر پر لگا۔دفاع کرنے کے لیے جنرل مشرف خود میدان میں آگئے۔بات بہت بڑھ گئی تھی اور اس کے تباہ کن اثرات مرتب بھی ہوئے مگر ایک دن بی بی سی کی خبر نے سب کو حیران کر ڈالا۔ ڈاکٹر شازیہ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود ایک مشکوک صحافی کے ہمراہ ان سے مل کر ’’سمجھا بجھا ‘‘ رہے ہیں کہ میں اپنا الزام واپس لے کر ملک سے باہر چلی جاؤں۔ڈاکٹر شازیہ نے الزام تو واپس نہیں لیا ہاں! مگر ملک چھوڑنا پڑا۔انہی دنوں یہ خبریں بھی زیر گردش رہیں کہ فوجی آمر نے ڈاکٹر شازیہ کو زیرتلافی کے طورپر دو کروڑ روپے بھجوائے مگر متاثرہ لیڈی ڈاکٹر تک صرف پچاس لاکھ ہی پہنچے ڈاکٹر شاہد مسعود کی اس حرکت نے کئی حمایتیوں کے بھی کان کھڑے کر دئیے ۔صاحب اسلوب کالم نگار اور نامور ایڈیٹر عباس اطہر مرحوم نے نوائے وقت میں ایک سخت کالم لکھ ڈالااور اس بات پر شرمندگی کا اظہار کیا کہ جسے ہم مجسمہ نیکی سمجھتے رہے وہ توبڑا پہنچا ہواکاریگر ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود معراج کی منازل طے کرتے رہے۔پیپلز پارٹی کا زرداری دور آیا تو ان کے چاہنے والوں کو ایک اور شدید دھچکے سے دوچار ہونا پڑا۔موصوف پی ٹی وی کے بیک وقت چیئرمین اور ایم ڈی بن گئے۔یہاں مگر ان کی صلاحیتیں رنگ نہ جما سکیں۔سب کچھ جلد از جلد سمیٹنے کے چکر میں اپنا بوریا بستر گول کرا بیٹھے ۔انکو ائریاں ابھی تک زیر التوا ء ہیں۔پیپلز پارٹی نے جیسے ہی ان کی چھٹی کرائی وہ پنجے جھاڑ کر آصف زرداری کے پیچھے پڑ گئے۔پھر جو تما شا ہوتا رہا وہ دنیا نے دیکھا ۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہوئے کئی ادارے بدلے۔سب سے بڑے میڈیا گروپ کے ساتھ بھی رہے۔ان کے پروگرام کا وقت ایک دوسرے چینل پر آنیوالے مزاحیہ بلکہ مراثیانہ پروگرام سے ٹکرایا تو ریٹنگ کم ہوتی نظر آئی۔وہ ویسے بھی اپنی کشش بڑی حد تک کھو چکے تھے۔وہ اپنے کیریئر کے دوران جیو سے رائل ٹی وی تک کا سفر کرتے رہے مگر طاقت کے اصل مرکز سے روابط کو کبھی نہیں توڑا۔ڈاکٹر شاہد کے ساتھ کام کرنے والوں سے ان کے بے شمار دعوؤں کا ذکر سناجاسکتاہے ۔ان پر لکھناوقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔وضاحت کے لیے اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ موصوف نے ایک دفعہ اپنے ساتھیوں کو یہ بتایا تھا کہ امریکی سی آئی اے کے چیف کے تبادلے میں ان کا ہاتھ ہے۔شاہد مسعودیت ایک خاص کیفیت کانام ہے جو ایک عرصہ سے عام ہو چکی، جب یہ طاری ہو جائے جو کچھ بھی بولا جائے وہ قابل مواخذہ نہیں ہوتا۔ معرفت کے تار ’’وسیع ترقومی مفاد‘‘کی پروپیگنڈا مشین سے جڑ جاتے ہیں پھر جس کو جی چاہے ملک دشمن ،مرتد، کرپٹ، غدار، مودی کا یار قرار دیا جائے کوئی کچھ نہیں کر سکتا اگر کو ئی چھو کر روکنے کی کوشش کرے تو سخت قسم کا کرنٹ لگتا ہے، دور سے بیٹھ کردیکھنے اور سننے کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں ۔ایسا نہیں جھوٹ اور غلط بیانی صرف ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے اینکر ہی کرتے ہیں خودباقاعدہ صحافی بھی کسی سے کم نہیں۔چند بڑے ناموں میں ایسے بھی ہیں جو صبح گھر سے نکلنے سے پہلے شاید باقاعدہ حلف لیتے ہیں کہ آج سارا دن جھوٹ بولوں اور بڑی بڑی چھوڑوں گا۔کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔کچھ نامور میڈیا شخصیات کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے کا موقع مل جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جھوٹ کے نہ صرف پاؤں بلکہ بڑی بڑی ٹانگیں بھی ہوتی ہیں اور وہ کھڑا بھی چوٹی پر ہی ہوتا ہے جو جب تک کسی کو بے وقوف بنا سکتا ہے بنا رہا ہے۔ستم ظریفی ہی سہی مگر کامیابی کا یہ گر عرصے سے آزمودہ ہے۔ان لوگوں کی تقرریاں کہیں اور سے ہوتی ہیں اور اپنے پروگراموں میں ارشادات کی پرچی بھی وہیں سے حاصل کرتے ہیں۔طاقت کے مراکز انہیں اجازت دیتے ہیں کہ فری سٹائل گفتگو کریں۔کیونکہ ان کو ایسے سیاسی عناصر پر غصہ ہی بہت ہے جو بار بار اختیارات میں حصہ طلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سو میڈیا کو ہتھیار بنا کر سیاستدانوں کو ذلیل ترین مخلوق ثابت کرنے کیلئے بھاری سرمائے کے ساتھ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جاتا ہے۔ 
استعمال ہونے والے میڈیا ایجنٹ اپنا تعلق چھپانے کے بجائے فخر سے دوسروں کو بتاتے ہیں اور کئی ایک کو تو دیکھاگیا کہ وہ سیاسی شخصیات کے روبرو حاجت مند بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہم تو صدق دل سے آپ کے ساتھ ہیں لیکن کیا کریں ہمارا بازو مروڑ کر آپ کے خلاف پروگرام کرائے جاتے ہیں۔ظاہر ہے صاحبان ایجنڈا کو ڈر تو کسی کا ہوتا نہیں۔اس لیے جو منہ میں آئے فوراً بک کر ریٹنگ بڑھانے میں مگن رہتے ہیں۔ایسے ہی ایک نمونے کی حد سے زیادہ بدزبانی دیکھ کرایک سینئر صحافی نے ایک میڈیا ہاؤس کے مالک سے کہا کہ مخالفت بجا مگر زبان تو مناسب ہونا چاہیے،میڈیا ہاؤس کے مالک نے فوراً وضاحت کی کہ جناب ہمارا تو اس تمام معاملے سے تعلق نہیں،’’وہ‘‘’’ان‘‘کا اثاثہ ہے۔پیسے بھی وہی دیتے ہیں۔ہم اپنے ائیر ٹائم کی رقم الگ سے وصول کرتے ہیں۔یو ںآوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
قصور میں ننھی زینب کے قتل و زیادتی کی لرزہ خیز واردات کے بعد خونیں ہنگاموں میں میڈیا کے صاحبان ایجنڈا نے خوب حصہ ڈالا،اسی مہم کے دوران شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں قاتل کے 38غیر ملکی اکاؤنٹس کا دعویٰ کردیا جو ظاہر ہے جھوٹا ہی نکلنا تھا۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں خود چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ انہیں طلب کیا جائے۔چیف جسٹس نے فوری طور پر طلب کرلیا۔ساتھ ہی میڈیا ہاؤس کے مالکان او ر بڑے بڑے ناموں کو بھی بلا لیا گیا۔پتہ نہیں کیوں اتنی بڑی مشق کی گئی۔ڈاکٹر شاہد مسعود اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے اور ایک پنچایت کا سا منظر بن گیا۔عدالت نے موصوف کو وارننگ تو دی مگر ایک نئی جے آئی ٹی بنا دی ،حالانکہ اکاؤنٹس کے دعوے کا جعلی ہونا ثابت ہوچکا تھا،اگلی تحقیق کے لیے جے آئی ٹی بنائی جا سکتی تھی مگر جو معاملہ پیشی پر ہی طے ہوگیا تھا اس پر تو فیصلہ آنا چاہیے تھا ۔سچ بات تو یہ ہے کہ اس تمام مشق سے ڈاکٹر شاہد مسعود بے حد خوش ہوئے۔ان کی ایک انتہائی غیر ذمہ دار حرکت کے باعث میڈیا کے تمام ذمہ دار اتوار کو چھٹی کے باوجود ملک کی سب سے بڑی عدالت میں حاضر ہونے پر مجبور ہوگئے۔ڈاکٹر مسعود کو یقین ہے کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔جعلی اکاؤنٹس کی فہرست جنہوں نے فراہم کی تھی وہ جانتے ہیں کہ اپنے اثاثے کا دفاع کیسے کرنا ہے۔تھوڑی بہت تھرل،شغل میلہ ٹھیک،آگے کچھ نہیں ہو گا۔زیادہ ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں۔ایسا کیا گیا تو بابا رحمتے کو پیغام مل سکتا ہے اب بس کرو ’’منے کی جان لو گے کیا‘‘؟ 

Share your Comments

comments