Home / Urdu Columns / ایک پیج پر

ایک پیج پر

رضوان الرحمن رضی 
مشرف نے ساتھی جرنیلوں کی مدد سے ملکی تاریخ میں چوتھی دفعہ شب خون مار کر، تازہ تازہ اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔اس کو وقت بے وقت بولنے کا بہت شوق تھا۔اس نے اسی طرح کی ایک پریس ٹاک کے دوران مدارس کو دنیا کی سب سے بڑی این جی او قرار دے کر قومی دھارے میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اپنے وزیرمذہبی امور محمود احمد غازی کو حکم دیاکہ وہ اس کا ایک روڈ میپ اور طریقہ کار وضع کریں۔ منصوبہ تیار ہوا،جدید سلیبس تیار کیا گیا اور صدیوں پرانے’’درس نظامی‘‘کی جگہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک جدید نصاب پڑھانے والا ماڈل مدرسہ بھی بنا ڈالا گیا۔کچھ مدارس نے اسے فوراً اپنانا شروع کردیا ۔جب کہ کچھ کٹھ ملاوں نے ہچرمچر کرنا شروع کردی ، جن کی روزی روٹی ان کے مدارس کو ملنے والے عطیات، صدقات اور خیرات سے جڑی ہوئی تھی۔ یہ رسہ کشی جاری تھی کہ اسی دوران جامعہ حفصہ کا سانحہ ہوگیاجو پورے ملک میں آگ لگا گیا۔ بس پھر کیا تھا، سودے بازی کے لئے میز سجی۔ سودا اس پر ہوا کہ آپ ہمارے مدارس کو نہیں چھیڑیں گے جب کہ ہم جامعہ حفصہ کے معاملہ پر کوئی احتجاج نہیں کریں گے اور یہ خون خاک نشیناں رزق خاک ہوگیا اور راوی غاصب ڈکٹیٹر کے چین ہی چین لکھنے لگا۔لیکن منصوبہ تو تیار تھا، وہ کاغذات میں پڑا رہا۔ پھر زرداری صاحب کا دور آیا، ان کی اور ان کی ٹیم کی زیادہ نظریں حج آپریشن پر لگی تھیں کیوں کہ مدارس کو سکول بنانے کے منصوبے میں رقم کم تھی۔ جب کہ حج میں تو ہر سال اربوں روپے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں گھومتے تھے۔ جیسے ہی نوازشریف برسراقتدار آئے تو وفاق میں ان کے اردگرد موجود سیکولر ، لبرل اور ترقی پسندوں نے انہیں اس طرف نہیں دیکھنے دیا۔ اب مسئلہ یہ ہے پچاس لاکھ سے زائد طلبہ جو ان مدارس میں زیر تعلیم ہیں ، کیا ان کو کسی ورکشاپ ، کسی فٹ پاتھ ہوٹل میں چھوٹا بننے کے لئے ان مدارس سے نکال دیا جائے یاپھر ان کو کسی وار لارڈ کے ہاتھ چڑھ جانے اور کسی نا معلوم گولی کا نشانہ بن جانے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ ریاست تو ماں ہے، وہ تو ایسا نہیں کر سکتی۔ لیکن ہمارے سیکولر ، لبرل اور ترقی پسندوں کا گروہ مسلسل اس پر زبان درازی کئے ہوئے ہے۔ اب جناب عمران خان نے یہ بھاری پتھر اٹھانے کا بیڑہ اٹھایاتو میاں نوازشریف کے ارد گرد موجود سارے سیکولر ، لبرل اور ترقی پسند ان پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ مدرسہ حقانیہ کو جدید علوم متعارف کروانے اور کمپیوٹر کی لیبارٹریز بنانے کے لئے جاری کئے گئے فنڈز کے اجرا پر عمران خان کی چھترول کی جا رہی ہے۔ اگر ان بچوں کے لئے جدید تعلیم کا راستہ بند ہے تو پھر ان کا کیا کیا جائے؟ کیا خیال ہے ان پچاس لاکھ سے زائد بچوں کو ذبح کردیتے ہیں، یا پھر انہیں بم پہنا کرپھوڑ دیتے ہیں یا پھر انہیں افغانستان دھکیل دیتے ہیں۔ان کی بات مان لیں تو اس کے علاوہ اور کوئی حل تو نہیں سوجھتا۔ اتنی بڑی تعدادمیں بچے اگر گمراہ بھی کئے جا رہے ہیں تو انہیں مین سٹریم کی طرف لانا تو ریاست کا ہی کام ہے، کیا خیال ہے؟ مجھے تو کٹھ ملا اور سیکولر ، لبرل اور ترقی پسند اس معاملے پر ایک ہی پیج پر لگتے ہیں۔ 

Share your Comments

comments