Home / Urdu Columns / بحران کا حل اور خطرات

بحران کا حل اور خطرات

حروف
نوید چودھری
ایسا نہیں کہ موجودہ سیاسی بحران کا حل موجود نہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ کسی کی مکمل ہار یا بھرپور کامیابی کے نتیجے میں ملکی سالمیت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اس حوالے سے ایک فریق لاپروائی کا علانیہ اظہار کرے اور دوسرا سمجھوتوں پہ سمجھوتے کرتا چلا جائے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس حوالے سے پنجہ آزمائی میں معروف شہ زوروں کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے تو اس میں غلط بات کیا ہے؟ 2014 ء کے بدنام زمانہ دھرنوں سے مسلسل کسی نہ کسی انداز میں جاری اس کھینچا تانی میں کئی ایسے مواقع آئے جب محسوس ہونے لگا کہ بحران ٹلے نہ ٹلے بڑے پیمانے پر فساد ضرور ہو گا۔ ابھی چند ماہ قبل ہی قادری اینڈ کمپنی (پی ٹی آئی+ پی پی وغیرہ) کے مشترکہ مگر فلاپ احتجاج کے بعد مولوی رضوی اینڈ کمپنی کو دینی جذبات بھڑکا کر جس طرح سے میدان میں اتارا گیا تھا وہ سب کسی بھی لمحے خانہ جنگی کی صورت حال اختیار کر سکتا تھا۔ ارکان اسمبلی کے ڈیروں پر حملوں کے بعد کسی ایک جگہ سے بھی پرتشدد جواب آجاتا تو پھر چل سو چل ہی ہونا تھا۔ ایک سیاسی جماعت کو رگڑا دینے کی کوشش ذات برادری کی بنیاد پر تصادم کے ساتھ ساتھ مسلکی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتی تھی۔ دونوں فریق لڑائی کی حدت کو بھانپتے ہوئے اپنی اپنی چالیں چلتے رہے۔ یوں تو حکومت کو الٹانے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں مگر سپریم کورٹ کے ہاتھوں نواز شریف کی فراغت کے بعد ملک پر قبضہ کی اس لڑائی میں پھر سے تیزی آگئی۔ اپنے دل پر جبر کر کے بار بار جمہوریت کو موقع دینے والے منصوبہ ساز اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر براہ راست اقتدار سنبھالنا ممکن نہیں تو یہ چانس بھی ہر گز نہیں لینا چاہیے کہ کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل کر کے حکومت بنا سکے۔ ایسے میں یہ دھڑکالگا رہتا ہے کہ قانون سازی کر کے ’’مقدس گائیوں‘‘ کی ٹانگیں باندھنے کی کوشش نہ کر بیٹھے۔ مشرف مارشل لاء کے فوری بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کو بری طرح سے بے بس کر کے عملاً ایوان صدر میں قید کر دیا گیا اور پھر حوالدار میڈیا کو پروپیگنڈے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ میثاق جمہوریت کے باوجود ن لیگ بھی ٹریپ ہوئی۔ ایک افسر کے بہکاوے میں آ کر نواز شریف کالا کوٹ پہن کر اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ جا پہنچے۔ آصف زرداری نے جیسے تیسے اپنا وقت پورا کیا۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو عام خیال یہی تھا کہ اپنا تجربہ بروئے کار لا کر کچھ توازن پیدا کریں گے۔ ان کا اصل حریف مگر بہت پہلے ہی سے جارحانہ منصوبہ بندی کیے بیٹھا تھا۔
لڑائی 2014 ء میں اوپن ہوئی تو نواز شریف نے جوابی وار کے مواقع ملنے کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی لڑائی کا الزام ان کے سر آئے، دوسرا یہ کہ جیسے تیسے وقت گزار کر لوڈشیڈنگ، دہشتگردی اور اقتصادی بدحالی کے معاملات کو سدھار لیا جائے۔ اسی دوران وفاقی سطح پر اور خصوصاً پنجاب میں بعض میگا ترقیاتی منصوبے بھی مکمل ہو جائیں تو پھر کھیل کے اگلے مرحلے میں حصہ لینے کیلئے چند مفید کارڈ ہاتھ میں آجائیں گے۔ انہیں بری طرح سے زچ کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہ حساس اداروں نے بغیر کسی اجازت کے کارروائیاں شروع کر دیں۔ مسلم لیگ(ن) کی سیاسی طور پر مددگار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر ہلہ بول دیا۔ وزیراعظم نواز شریف حیرت انگیز طور پر خاموش رہے ،پھر دنیا نے دیکھا کہ صرف ڈاکٹر عاصم پر 462 ارب روپے کی کرپشن کا سرکاری طور پر الزام لگایا گیا، سندھ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ اور کے ڈی اے کے دفاتر پر دھاوے بول کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔ عہدوں پر موجود صوبائی وزیر اٹھا لیے گئے یا پھربھگا دئیے گئے۔ سندھ فشریز کے حوالے سے بھی بہت بڑے گھپلے کا شور مچا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار زبردستی ہر کارروائی کا کریڈٹ لیتے رہے۔ آج حالت یہ ہے کہ تمام الزامات ٹائیں ٹائیں فش ہو چکے۔ اگر ایک آدھ وزیر اندر بھی ہے تو محض دکھاوے کیلئے کیونکہ اصل ٹارگٹ پیپلز پارٹی کو ن لیگ سے بدظن کر کے لیگی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ منصوبہ بظاہر کامیاب نظر آرہا ہے۔ پارلیمنٹ میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل کرنے کا موقع کسی قیمت پر نہ دینے کی پالیسی کے تحت ہی بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔ سب کو علم ہے کہ کام کس کے حکم پر ہوا مگر یہ بھی سچ ہے کہ بھاری رقوم تقسیم کی گئیں۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کا ’’جذبہ حب الوطنی‘‘ بہت بیش قیمت ہے۔ مناسب دام لگا کر ہی خریدا جا سکتا ہے۔ تصدیق شدہ کل 39 ووٹ لے کر ایم پی اے بننے والے قدوس بزنجو کو وزیراعلیٰ بنوا کر دراصل اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ بھی رسید کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان میں کھیلے گئے اس گھناؤنے کھیل میں پیپلز پارٹی نے بھی آلہ کار کا کردار ادا کیا۔ سینیٹ الیکشن روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے ازحد کارآمد ثابت ہوا کہ نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے باعث ان کے نامزد کردہ سینیٹ امیدوار بھی آزاد ہو گئے۔ جس طرح بلوچستان حکومت گرانے سے قبل وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے سیکرٹری کو اٹھا کر اربوں کی کرپشن کی داستانوں کی تان چھیڑی گئی تھی۔ اسی انداز میں اب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی افسروں پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے۔ کئی الیکٹ ایبل ارکان پر توہین عدالت کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اب تو پرویز رشید جیسے مرد آہن کو بھی نااہلی کی وارننگ دے دی گئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کے بعض اہم رہنما نااہل قرار پا جائیں گے۔ انتخابی طور پر خطرے کی علامت سمجھے جانے والے کئی ایک کو مقدمات میں الجھا دیا جائیگا۔ یہ حقیقت خود مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی بھانپ گئی ہے اور اب مقدمات ہی نہیں توہین عدالت کے معاملات کو بھی ایزی لیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے ایسے میں پارٹی توڑنے کی کوشش الگ سے بھی کی جائے، اس حوالے سے کام کا باقاعدہ آغازکر دیا گیا ہے۔ سردست اس حوالے سے بنیادی ٹارگٹ یہ ہے کہ کسی بھی طریقے سے حکمران جماعت کو بڑے ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ لینے کا موقع نہ دیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کو افسوس تو ہو گا مگر یہ ٹرین تو گزر چکی ہے۔ سی پیک ہو یا اورنج لائن ٹرین، بجلی کے کارخانے اور انفراسٹرکچر کی بہتری موٹروے اور ایٹمی دھماکوں کی طرح یہ کریڈٹ بھی کسی اور کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ تازہ ترین محاذ آرائی سے حالات کسی بھی جانب پلٹا کھا سکتے تھے ایسے میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے شہباز شریف کو پارٹی صدارت سونپ کر سیاسی میدان میں راستے نکالنے کیلئے مزید گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھنا مگر یہ ہے کہ نیب کو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ (ن) لیگ کو تتربتر کر کے کمزور کر دیا جائے او رشہباز شریف کے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا تیز رفتار معمار ہونے کا تاثر کرپشن کے الزامات میں دھندلا دیا جائے یا پھر چھوٹے میاں صاحب کو بھی بڑے بھائی کی طرح سے آؤٹ کرنے کی ہدایت ملی ہے ۔
چودھری نثار ٹائپ لوگوں کو شاید اسی لیے سائیڈ لائن کیا جارہا ہے کہ وہ دونوں شریفوں کے خلاف ایک جیسی کارروائی ہونے کی صورت میں پارٹی ہائی جیک نہ کر لیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہونے والا ہے اور جو کچھ ہو سکتا ہے وہ آسان نہیں۔ مارشل لاء لگا تو انارکی پھیلے گی، اعلیٰ عدالتیں اسی طرح سے ’’سرگرم‘‘ رہیں تو کوئی حکومت چل نہیں پائے گی۔ اگلے عام انتخابات کے بعد(ن) لیگ کو اقتدار ملا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ کھیل جاری نہیں رکھا جائے گا جواب کھیلا جارہا ہے۔ حکومت تحریک انصاف کے حوالے کی گئی تو محض (ن) لیگ ہی نہیں بلکہ دیگر کئی سیاسی و مذہبی و قوم پرست جماعتیں دن میں تارے دکھا دیں گی۔ معاملات مجموعی طور پر خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سب سے بڑے احمق وہ ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ طاقت اور چالوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو مستقل بنیادوں پر زیر کیا جا سکتا ہے۔ غیر فطری طریقے سے کیے گئے کاموں کا نتیجہ کبھی فطری نہیں نکلتا۔ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کے نتائج کس قدر سنگین ہو سکتے ہیں تاریخ پکار پکار کر اس کی دہائی دے رہی ہے۔ اب جبکہ اگلے عام انتخابات سر پر ہیں اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جاتے۔ اب تک ایسا نہیں لگ رہا۔ نواز شریف کے بعد شہباز شریف کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے نیب کے الزامات سے کہیں زیادہ اہم فیکٹر ان کی ٹائمنگ ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ کوئی ہے جو سیاسی شطرنج پر اپنی مرضی کے مہرے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ نیب نے جن سابق جرنیلوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اس کے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ ان ریٹائرڈ معززین میں سے کسی کا بھی کچھ نہیں بگڑے گا۔ سابق فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کا تاثر شاید اس لیے دیا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ عناصر کو مزید رگڑا لگانے میں آسانی رہے۔ احتجاج پر کہا جا سکے کہ ہم تو کسی کو نہیں چھوڑرہے۔ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ ریٹائرڈ افسران تو کیا ان کے عزیز و اقارب پر بھی ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس حوالے سے کیانی برادران کی مثال سب کے سامنے ہے۔ سابق جج بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے ارسلان کے ’’کارنامے‘‘ عرصہ ہوا سامنے آگئے مگر پھر سکوت مرگ طاری ہو گیا۔ آج پنجاب حکومت بھی اس بات پر مجبور ہو گئی ہے کہ اسمبلی سے نیب کے خلاف قراردادیں منظور کرائے۔ ن لیگ کی قیادت کو خود اس امر کا احساس کرنا چاہیے کہ نیب کے نئے چیئرمین کی نامزدگی انہوں نے ہی کی گو کہ اس میں اپوزیشن(پیپلز پارٹی) کی بھی برابر کی منشا شامل تھی۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال ایک قابل جج ضرور ہونگے مگر جنرل مشرف نے جب چیف جسٹس افتخار چودھری کو ہٹایا تھا تو اسی وقت ان کا کردار متنازعہ ہو گیا تھا۔ بہرحال انہوں نے پھر سے اپنا امیج بحال کیا اور باعزت طریقے سے مدت پوری کر کے ریٹائر ہوئے۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ ’’وہ سب سے بنا کر رکھنے کے قائل ہیں‘‘۔ بطور چیئرمین نیب ان کی نامزدگی کرنے والوں نے اس نکتہ کو سامنے رکھ کر کسی ایسی شخصیت کا نام پیش کیا ہوتا جو کسی کا بھی دباؤ قبول نہ کرنے کی شہرت رکھتا ہو تو شاید آج معاملات قدرے مختلف ہوتے۔ دنیا ابھی بہادروں سے خالی کہاں ہوئی ہے؟ بہرطور مکررعرض ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک کی مکمل جارحیت کے نتیجے میں اس تمام بحران کا حل موجود ہے وہ بھی بہت کم وقت کے اندر ،لیکن اس سے ریاست کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ امید پر دنیا قائم ہے، سب کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ نئی سیاسی پیش رفت سے افراتفری کے خاتمے میں مدد ملے اور یہ سیاسی موسم بہار کی آمد کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ 

Share your Comments

comments