Home / Latest News / بچوں کے اغواکار، شناخت کرنے میں مدد دینے والی نشانیاں

بچوں کے اغواکار، شناخت کرنے میں مدد دینے والی نشانیاں

ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہزاروں بچوں کا اغوا ہوتا ہے، ریپ کے کیسز یا دیگر پرتشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بچوں کو اغوا کرنے والے بہت اچھے ماہر نفسیات بھی ہوتے ہیں؟وہ بہت آسانی سے بچے کے ساتھ ایک تعلق قائم کرلیتے ہیں اور پھر اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہاں ایسی ٹرکس جان سکیں گے جو اغوا کار بچوں سے رابطوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے رویوں پر نطر رکھیں تاکہ ننھے فرشتوں کو کسی مشکل سے بچاسکیں۔
بڑے کا بچے سے مدد طلب کرنا
ایک سب سے عام طریقہ جو ایسے افراد استعمال کرتے ہیں وہ بہت سادہ بھی ہے یعنی بچوں سے کسی کام میں مدد کی درخواست کرنا۔ اگر آپ ایسی کسی صورتحال کو دیکھیں تو یہ ایک انتباہی اشارہ بھی ہوتا ہے کیونکہ عام حالات میں بالغ افراد کی جانب سے بچوں سے مدد طلب نہیں کی جاتی۔
اگر کسی بالغ شخص کو کسی قسم کے مسئلے جیسے کوئی چیز گم ہوجانا یا ہاتھوں میں سامان کی وجہ سے کسی چیز کو اٹھانے میں مشکل وغیرہ کا سامنا ہو تو مدد کے لیے کبھی بچے سے درخواست نہیں کرتا بلکہ بالغ شخص سے ہی مدد طلب کرتا ہے۔
بچے کا رویہ
اگر کوئی بچہ رو رہا ہو، اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہا ہو یا چیخ رہا ہو، تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگے کہ وہ بدتمیزی کررہا ہے۔تاہم آپ ایسا دیکھیں تو آپ کو چاہیے کہ وہاں جاکر پوچھیں کہ کیا سب کچھ ٹھیک تو ہے؟ اس بچے سے یہ پوچھنے سے مت گھبرائیں جو کسی بالغ فرد کے ساتھ ایسے رویے کا مظاہرہ کررہا ہو۔اگر اس شخص کا مقصد نیک نہیں ہوگا تو زیادہ امکان ہے کہ وہ بھاگ جائے گا تاکہ آپ اس کے چہرے کو یاد نہ کرلیں۔
کھیل کا میدان
ایسے افراد جو بچوں کے کھیل کے میدان کے چکر لگاتے ہوں اور ننھے فرشتوں کا جائزہ لیتے ہوں، تو وہ بہت زیادہ مشتبہ ہوتے ہیں۔ ایسے فرد کی تصویر اس انداز سے لیں کہ اسے بھی معلوم ہوجائے۔ یہ سادہ اقدام ممکنہ اغوا کار کو خوفزدہ کردینے کے لیے کافی ہے۔
بچوں کو کچھ دینے کی کوشش کرنے والے
بچے کھلے ذہن اور آسانی سے اعتبار کرنے والے ہوتے ہیں، اگر انہیں ٹافیاں یا کھلونے دینے کی پیشکش کی جائے یا کوئی فرد انہیں کسی قسم کی انوکھی ڈیوائس دکھانے کا وعدہ کرے، جس کے لیے کچھ دور جانا ہو، تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوتا کہ وہ اغوا کار ہے۔عام طور پر بالغ افراد اجنبی بچوں کو تحفے دینے یا کہیں لے جانے کا نہیں کہتے۔
بچوں کے والدین کے
دوست بننے کی کوشش
اغواکار ہوسکتا ہے کہ بچے کے خاندان کے بارے میں کافی کچھ جانتا ہو، عام طور پر بالغ افراد بھی اس طرح کی تیاری کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں تو بچوں کی سمجھ تو محدود ہوتی ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کسی خاندان کے بارے میں کافی تفصیلات جان سکتے ہیں، جیسے والدین یا رشتے داروں کے نام، بچوں کو سالگرہ پر کیا تحائف ملے یا ان کے کمرے کیسے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ان تمام معلومات کو استعمال کرکے وہ خود کو والدین کے دوست یا ساتھی کی شکل میں پیش کرکے کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ماں یا باپ ہسپتال میں ہیں اور انہیں بلایا ہے۔ اگر ایسا کچھ دیکھیں تو اسے نظرانداز مت کریں، اس طرح کے 10 میں سے 9 واقعات میں یہ اغوا کی کوشش ہی ہوتی ہے۔
دوسرے بچوں کو استعمال
کئی بار اغوا کار دیگر بچوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے ہدف کی جانب بھیجتے ہیں۔ مشکل امر یہ ہے کہ بچے عام طور پر سمجھ نہیں پاتے کہ اجنبی کا مطلب کیا ہے۔عام طور پر انہیں جو کچھ بتایا جاتا ہے تو انہیں لگتا کہ اغواکار کوئی داڑھی والا مشتعل شخص ہے جس نے چشمہ پہن رکھا ہوگا، مگر کوئی خوش اخلاق خاتون یا بچے بھی یہ کام کرسکتے ہیں۔اگر آپ بچوں کو کھیل کے میدان سے دور بات کرتے دیکھیں تو ان کے پاس جاکر پوچھیں کہ وہ ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہیں اور کیا کررہے ہیں۔
ایڈریس معلوم کرنا
اگر آپ دیکھیں کہ کسی گلی میں کوئی گاڑی آہستگی سے چلتے ہوئے کسی بچے کے پاس رک جاتی ہے تو یہ انتباہی علامت ہوسکتی ہے۔اگر ڈرائیور بچے سے راستہ پوچھے یا گاڑی میں بیٹھنے کا کہے تو وہ ممکنہ طور پر اغواکار ہوسکتا ہے، عام طور پر ایسی صورتحال میں ڈرائیور کسی بالغ فرد سے ہی بات کرتے ہیں۔
اجنبی شخص کا بچوں کو
موٹرسائیکل پر گھمانے کا لالچ
ایسے بھی واقعات سامنے آئے ہیں جب بچوں کو کسی اجنبی نے موٹرسائیکل کی سیر کا لالچ دے کر اغوا کرلیا۔بہت کم لڑکے ہی اس طرح کی پیشکش کو ٹھکرا پاتے ہیں، اگر آپ بھی ایسی صورتحال دیکھیں تو اپنی عقل کا استعمال کریں کہ آخر ایک موٹرسائیکل سوار کسی اجنبی بچے کو اپنے ساتھ موٹرسائیکل کی سیر کی پیشکش کیوں کررہا ہے؟
شہرت دلانے کا لالچ
اکثر اغواکار خود کو شوبز انڈسٹری کا حصہ قرار دے کر انہیں کام کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔ ایسا طریقہ کار عام طور پر 10-11 سال کی عمر کے بچوں پر کام کرتا ہے۔اغواکار بچوں کا اعتماد حاصل کرکے انہیں شہرت اور کامیابی کا لالچ دیتے ہیں، خود سوچیں تو یہ قابل فہم نہیں کہ کوئی پروفیشنل شخص کھیل کے میدانوں یا گلیوں میں اداکاروں کو تلاش کرے، ایسا کرنا بھی ہو تو وہ اسکولوں میں جاتے ہیں۔
سزا دینے کا خوف دلانا
اس وقت ہوشیار ہونا مشکل ہوتا ہے جب اغواکار خود کو کسی قسم کا سرکاری عہدیدار ظاہر کرکے بچے کو اپنے ساتھ چلنے کا کہیں کیونکہ اس نے کوئی شرارت کی ہے۔خود کو سرکاری عہدیدار ظاہر کرنا بالغ افراد کو بھی اعتبار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے، مگر ایسا ہونے پر عہدیدار پہلے بچے کے والدین سے بات کرے گا اور کسی کی مدد کی پیشکش کو مسترد نہیں کرے گا۔ایسا کبھی دیکھنے میں آئے تو مبینہ عہدیدار سے اس کا آئی ڈی کارڈ دکھانے کا کہیں اور دیکھیں کہیں وہ نروس تو نہیں، اسی طرح اس کی تصویر لینے کی کوشش کریں جو غلط مقصد رکھنے والے کو خوفزدہ کردینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
بچے کواپنے ساتھ کسی بالغ شخص سوالات کرتادیکھ کرچوکناہوجائیں
اگر تو آپ دیکھیں کہ کوئی بچہ عجیب انداز سے اپنے ساتھ موجود بالغ افراد سے سوالات پوچھ رہا ہے جیسے وہ اسے کہاں لے جارہا ہے، یا ہم نے تو کہیں اور جانا تھا، یہاں کیوں آگئے وغیرہ وغیرہ، تو اس پر آگے بڑھ کر بچے سے خود بات کرکے پوچھیں کہ وہ کس کے ساتھ ہے اور کہاں جانا چاہتا ہے۔
ظاہری حلیہ
ایک اور خطرے کی گھنٹی بچے اور اس کے ساتھ موجود بالغ فرد کے حلیے کا فرق ہوتا ہے، یقیناً یہ کوئی واضح نشانی نہیں، مگر دیگر علامات کو اکھٹا کرکے دیکھیں تو ہوسکتا کہ کسی اغوا کو روکنے میں مدد مل سکے۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments