Home / Urdu Columns / ووٹر کے سیاسی شعور کی پختگی

ووٹر کے سیاسی شعور کی پختگی

مکالمہ 
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
کسی بھی جمہوری معاشرے میں انتخابات کی مدد سے تبدیلی لانے میں ووٹر ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی نظام، سیاسی جماعتوں ، قیادتوں کی انتخابات میں توجہ کا مرکز بھی ووٹر ہوتا ہے ۔عمومی طور پر ووٹر کے پاس عملا یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی ،منشا سمیت بغیر کسی خوف کے انتخابی عمل میں اپنی قیادت کا انتخاب کرسکے ۔جمہوری نظام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ووٹر کو تواتر سے یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے سے پہلے سے موجود قیادت یا اس کے مقابلے میں نئی قیادت کا انتخاب کرسکتا ہے ۔یہ عمل بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں اور قیادتوں سمیت سیاسی نظام کو جوابدہی کے عمل میں بھی ڈالتا ہے او ران کو خوف ہوتا ہے کہ اگر وہ ووٹر کی حمایت سے محروم ہوجائیں تو اس سے ان کی سیاسی ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچتا ہے جو ان کو سیاسی ناکامی سے دوچار کرتا ہے ۔
عمومی طو رپر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ووٹر سیاسی شعور رکھتا ہے اور اس کے کیے گئے فیصلے سے ملکوں میں جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے ۔ لیکن پہلے ہمارے جیسے معاشروں میں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہاں ووٹ کس بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں ۔ کیا ووٹر کے سامنے مسائل اور اس کے حل کی بنیاد پر موجود سیاست ہوتی ہے یا وہ مسائل کی سیاست کو چھوڑ کر دیگر معاملات کو بنیاد بنا کر ووٹ ڈالتا ہے ۔ اول یہاں ووٹ ذات برداری ، چوہدراہٹ، فرقہ وارانہ، مذہب یا لسانی و قوم پرستی ، شخصیت پرستی یا اپنے علاقائی یا قومی مفادات سے ہٹ کر ذاتی و خاندانی مفاد کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں ۔
ایک زمانے میں سیاسی جماعتوں کی سطح پر اپنے ووٹروں کو سیاسی شعور پر مبنی تعلیم دینے کا عمل ہوتا تھا ۔ کئی نظریاتی جماعتوں میں سٹڈی سرکل یا ووٹروں کو تعلیم دینے کا نظام موجود تھا ۔ لیکن اب سیاسی جماعتیں جس انداز میں کمزور ہوئی ہیں او رجو انہوں نے روائتی طور طریقے اختیار کیے ہیں اس میں ووٹروں کو تعلیم یا شعور دینے کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور قیادتیں ووٹروں کو سیاسی شعور دینے کی بجائے ان کو جذباتی انداز پر مبنی نعروں کی بنیاد پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہیں ۔ سیاسی قیادتوں کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر ووٹر باشعور یا اس کا سماجی یا سیاسی شعور بڑھایا گیا تو وہ آگے جاکر اس کی سیاست کے طور طریقوں او رفیصلوں کو چیلنج کرسکتے ہیں ۔
سیاسی جماعتوں کے علاوہ ایک کام ہمارا تعلیمی نظام اور زرائع ابلاغ یعنی میڈیا کا محاذ بھی ہے ۔ یہ دونوں محاذکو بنیاد بنا کر ووٹروں کی سیاسی تعلیم کی جاسکتی ہے ۔ لیکن تعلیمی نظام میں تو ہم ووٹروں کی بات کو سیاست سے جوڑ کر اس پر عملدرآمد کرنے سے خوف کھاتے ہیں ۔جبکہ میڈیا پر ووٹروں کی تعلیم سے زیادہ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادتوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کو بنیاد بنا کر لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں ۔بدقسمتی سے اس ملک میں ایشوز کی بنیاد پر سیاست کرنے کو ترجیح دینے کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر انتخابی مہم کو چلایا جاتا ہے ۔
ووٹروں کے سامنے سیاسی جماعتوں او ر ان کی جانب سے انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے کردار، تجربہ ، صلاحیت، دیانت او راخلاص کے مقابلے میں سیاسی جماعتیں او ران کی نامزد کردہ شخصیات کو ہی برتری ہوتی ہے ۔اگر سیاسی محاذ پر سیاسی جماعتیں غلط، بدعنوان، بدکردار لوگوں کو بھی اپنا ٹکٹ دیں تو بطور ووٹر ہم سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی وابستگی کی بنیاد پر ان ہی غلط لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں۔بہت سے ووٹر یہ مانتے بھی ہیں کہ ان کی پسندیدہ جماعتوں کی جانب سے غلط لوگوں کو ٹکٹ دیے گئے ہیں ، مگر ان کے بقول ہم ووٹ دینے پر مجبور ہیں ۔
شہری اور دیہی سطح پر ووٹ کو ڈالنے اور ووٹر کا مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔دہیات میں رہنے والے لوگوں کے پاس پہلے سے موجود داخلی نظام ، طریقہ کار، خاندان ، براداری سے باہر نکلنے کے امکانات کم ہوتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خود سیاسی جماعتوں کو بھی ٹکٹ جاری کرتے وقت دیہی سطح پر بڑے بڑے خاندانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔بہت سے مقامات پر تو اگر دیہی سطح پر ووٹر اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنا چاہے تواس کو اپنی اس آزادی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے جو بہت سے لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ پہلے سے موجود نظام میں ہی قید رہیں ۔شہروں میں بھی براداری کی سیاست اہم ہے ، البتہ اس میں امکانات ہوتے ہیں کہ لوگ آزادانہ بنیادوں پر ووٹ ڈالیں ، مگر اس میں بھی مجموعی طور پر ووٹر سیاسی جماعتوں کی جذباتیت پر مبنی مہم کا شکار ہوجاتا ہے ۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ووٹ ڈالنے کا رجحان بھی کمزور ہے اور ایک بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کی بجائے خاموش رہتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ فضول سی مشق ہے ۔ کیونکہ ووٹر سمجھتا ہے کہ جب سیاسی نظام نے لوگوں کو کچھ دینا ہی نہیں توو ہ ووٹ کیونکر ڈالیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شہروں میں خاص طور پر ووٹر کو ووٹ ڈالنے پر راضی کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو کافی منتیں کرنی پڑتی ہیں ۔اس کے باوجود ووٹ ڈالنے کی شرح کافی کم ہے ۔ نئی نسل نے پچھلے انتخابات میں کافی ووٹ ڈالے لیکن اس بار اگر آپ نئی نسل سے پوچھیں تو وہ مایوس ہیں او ران کے خیال میں ووٹ ڈالنے سے کوئی نظام بہتر یا تبدیل نہیں ہوتا ۔ نوجوانوں کی یہ مایوسی ایک بڑا چیلنج ہے اور ہمیں ہر صورت میں نئی نسل کو اس بات پر راضی کرنا ہوگا کہ وہ خود بھی ووٹ ڈالیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں ۔
ووٹروں کو یہ بات سمجھانی ہوگی کہ وہ جن روزمرہ مسائل سے دوچار ہیں یا جس پر ماتم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اس کا حل بھی سیاسی نظام میں درست اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے سے جڑا ہوا ہے ۔ ووٹروں کو اپنے مزاج کو غلامی سے باہر نکال کر آزادانہ بنیادوں پر سوچنا ہوگا اور سیاسی قیادت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ ان کے بطور ووٹر غلام نہیں ۔ اگر سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ووٹروں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتیں تو ان کو متبادل راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ یہ عمل سیاسی جماعتوں کی سطح پر داخلی جوابدہی، احتساب اور اصلاح کے امکانات کو پیدا کرے گا ۔ووٹر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ الزام تراشی پر مبنی سیاست یا مہم کا شکار ہونے کی بجائے اس بات کو سمجھیں کہ کونسی جماعت یا لیڈر ایساہے جس کے پاس نظام کو بدلنے ، شفاف بنانے اور لوگوں کی ضرورتو ں کے ساتھ جوڑنے کا واضح پروگرام ہے او را س کا ماضی کا ریکارڈ بھی دیگر لوگوں کے مقابلے میں بہتر ہے ۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ووٹروں کو بہت زیادہ غیر ضروری مسائل یا مباحث میں الجھا دیا ہے ۔ حالانکہ معاشرے کے کمزور طبقات جن میں عورتیں ، بچیاں ، بچے ، معذور، کسان ، مزدور ، ٹرانس جینڈر، اقلتیں موجود ہیں ان کی بہتری اور خوشحالی کا ایجنڈا انتخابی مہم میں الزام تراشی کی سیاست کی نذر ہوجاتا ہے ۔کاش سیاسی جماعتوں اور ووٹروں کے سامنے انتخابی منشور اور سماجی ترقی کا ایجنڈا بڑی برتری حاصل کرے ۔اس وقت یہ کام میڈیا ، اہل دانش اور سول سوسائٹی سے وابستہ ادارے سمیت تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر موثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے تاکہ ووٹر بہتر انداز میں اپنے ووٹ بھی ڈالے اور سیاسی جماعتوں کو جوابدہ بھی بنائے ۔
کیونکہ اصل مسئلہ معاشرے میں موجود سماجی تفریق او رمحرومی کی سیاست ہے ۔ کیونکہ ہم سماجی اعداد وشمار کی روشنی میں کافی پیچھے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں سماجی ،سیاسی او رمعاشی تفریق بڑھ رہی ہے ۔ عام آدمی کی زندگی کو جو مشکلات ہیں اس کا حل سیاسی نظام میں مضبوط کرنا ہوگا ، یہ جو نئی نسل ہے اس کو جو مسائل ہیں خاص طور پر روزگار کے تناظر میں اس کے لیے ایک موثر اور شفاف سازگار ماحول پیدا کرکے جمہوری اور انتخابی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ محض ووٹر کو تعلیم ہی نہیں دینی بلکہ اس کو سیاسی ترغیب یعنی اس میں motivationپیدا کرنی ہوگی کہ وہ سیاسی نظام اور انتخابی نظام میں موثر انداز میں شامل ہو۔کیونکہ بغیر لوگوں کو متحرک اور فعال کیے بغیر ایک مضبوط جوابدہی پر مبنی سیاسی او رجمہوری نظام کو قائم کرنا مشکل مرحلہ ہے ۔
ووٹر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ سیاسی نظام میں ایک بڑی طاقت ہے او راس کو سیاسی جماعتوں نے جس کمزور اور یرغمالی انداز میں پیش کیا ہے اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرنی ہوگی ۔ بالخصوص نئی نسل کو سوشل میڈیا کی مدد سے خود آگے بڑھ کر ووٹر کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے ،تاکہ ملک منصفانہ اور شفاف نظام و ترقی کا پائدار حصہ بن سکے ۔

Share your Comments

comments