Home / Urdu Columns / میاں نوازشریف کا مسئلہ عالمی حمائت کی عدم دستیابی ہے

میاں نوازشریف کا مسئلہ عالمی حمائت کی عدم دستیابی ہے

وہ اندرون ملک جمہوریت اور بنیادی حقوق کی آواز ہیں لیکن عالمی حمائت تاحال ندارد

میاں نوازشریف کا اصل امتحان یکم جون کے بعد ہوگا جب ان کے دسترخوان کے راتب خو ر طوطے صحافی بھی اپنے مفادات کا منبع بدلتا دیکھ کر ادھر کا رخ کر لیں گے جہاں سنگینوں کے سائے میں طاقت کے نئے ذرائع تخلیق کئے جا رہے ہیں۔ کئی نے تو پہلے ہی وہاں اپنی نشستیں بک کروالی ہیں اورجناب آصف علی زرداری و عمران خان کی حمائت میں ایک آدھ کالم لکھ کے اور ایک آدھ پروگرام کر کے اپنی دستیابی کا پیغام بھجوا بھی دیا ہے۔ 
اس وقت اپنے بیانئے کے لئے عالمی حمائت میاں نوازشریف کا اصل مسئلہ ہے، جس کے لئے انہوں نے مشاہد حسین سید جیسے لوٹے کارتوس کو بھی چوم کر آنکھوں سے لگایا ہے تا حال متوقع نتائج نہیں مل پارہے۔ اگرچہ میاں صاحب اندرون ملک عالمی طور پر مسلمہ اصولوں، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی آواز بن رہے ہیں لیکن تا حال ان کے لئے عالمی حمائت نداردنظر آتی ہے۔
دراصل میاں نوازشریف کے مخالفین ، پیپلزپارٹی اور عمران خان ،نے بڑی مہارت سے بین الاقوامی رائے عامہ کومیاں صاحب کے خلاف کر لیا ہوا ہے، گذشتہ اٹھارہ سال کے دوران پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے اپنے ادوار میں عالمی این جی اوز کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی ایکشن نہیں حتیٰ کہ ان این جی اوز کے بھیس میں غیر ملکی جاسوس، کمانڈوز، فوجی اور غیر فوجی افسران پاکستان کی ہر گلی ، ہر محلے اور سڑک پر دندناتے پھرتے رہے لیکن نہ تو فوج نے اور نہ ہی اس کے بعد آنے والی پیپلزپارٹی نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا ، حتیٰ کہ سوات آپریشن تو کیا ہی ان این جی اوز کی پرزور فرمائش پر گیاجہاں سے انہی این جی اوز نے ملالہ کی صورت میں اپنی کامیابی کی ٹرافی نکال کر اپنے ان داتاوں کو دکھا کر اپنی مستقبل کے فنڈز کو یقینی بنایاجو ان کی مسلسل حرامخوریوں کے باعث ان کے آڈٹ پر تلے بیٹھے تھے۔ 
عالمی این جی اوز ہی کسی ملک میں جمہوریت ، انسانی حقوق اور مارشل لاٗ کے خلاف سیاسی قوتوں کی مدد کو آیاکرتی ہیں اور عالمی میڈیا میں شوروغوغا مچاکر مقامی بادشاہت یا مارشل لائی تماشوں پر دباو بڑھاکر ان کو ظلم و ستم اور جبر و استبداد سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے کمال مہارت سے ، اپنے مہرے، نثار علی خان کے ذریعے ان عالمی این جی اوز کے خلاف بڑالیکن ناکام آپریشن کر اکے ان کو نوازشریف کے خلاف کردیا ہے۔ یہ این جی اوز اس قدر خوفناک حد تک مضبوط ہیں کہ ان کو پاکستان سے تو نہیں نکالا جا سکااور وہ اب بھی بڑے دھڑلے سے ملک کے ہر کونے میں کام کر رہی ہیں، لیکن نواز شریف کے لئے ممکنہ حمائت کا دروازہ بند ہو گیا،اب جب کہ نوازشریف جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق ،اور فوج کی سول معاملات میں عدم مداخلت جیسے بین الاقوامی مسلمی اصولوں کے لئے تن کے کھڑا ہوا ہے تو اسے کہیں سے عالمی حمائت نہیں مل رہی، اور مشاہد حسین سید جیسے چلے ہوئے کارتوس بھی کچھ نہیں کر پارہے۔ میرا خیال ہے میاں صاحب کو اپنے مبینہ یار مودی کے کنسلٹنٹ ،جناب حسین حقانی ،کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گی۔ 

Share your Comments

comments