Home / Urdu Columns / تاریخ کا جبر یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا

تاریخ کا جبر یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا

یہ المیہ کب تک

تحریر: رضوان الرحمن رضی
جب 1962کی چین بھارت جنگ کے دوران چین نے ہمیں پیغام بھیجا کہ جب بھارت ہمارے ساتھ مصروف ہے توہم کشمیر پر ہاتھ صاف کر سکتے ہیں تو ہماری باوردی قیادت ، بجائے بھارت پر حملہ کرنے کے ، فورا بھاگم بھاگ امریکہ کے در پر جا پہنچی، جہاں امریکی صدرجان ایف کینیڈی نے ان کوفرمایاکہ کشمیر کے لئے آپ کو جنگ کا تکلف کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہ تو ہم آپ کو ویسے ہی لے دیں گے۔ یوں یہ قیادت اس اہم موقعہ پر چپ کرکے بیٹھ گئے، اور چینی گول مٹول آنکھوں میں حیرت لئے ہمیں دیکھتے رہے۔اس کے کچھ ماہ بعد امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو گولی لگ گئی اور اس کے ساتھ ہی ہمارا کشمیر ملنے کا خواب بھی مارا گیا۔جنرل ایوب نے فرینڈز ناٹ ماسٹرز نامی کتاب تو لکھ ماری لیکن ان کے بعد مارشل لالگانے والے کسی جرنیل نے بھی اس کتاب کو پڑھ کر اس سے سبق نہیں سیکھا۔ روس کی افغانستان سے واپسی کے اعلان کے بعد جب ضیاالحق مرحوم نے امریکیوں سے کہا کہ افغانستان کی تعمیر نوکرنے اور روس کو وہاں سے بھگانے والے ان مجاہدین کو مین سٹریم میں لایا جائے جن کے ذریعے یہ جنگ جیتی گئی تھی تو ان کو آخرت کی را ہ دکھا دی گئی۔ اسی طرح جب بارہ اکتوبر کی فوجی بغاوت کرکے مارشل لا لگانے کے بعد امریکہ کے سارے مطالبات ماننے والے بہادر کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے ، بھارت کی کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کرکے دریائے چناب کا پانی روک کے پورے وسطی پنجاب کو صحرا میں تبدیل کرنے کی مجوزی سازش کی شکائت کی تو اس عقل مند جرنیل کو بتایا گیا کہ آپ بے فکر رہیں ،ہم ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن کی مخالفت نہیں کریں گے، اس لئے آپ کے ہاتھ میں بھی سٹریٹجک ایڈوانٹیج آجائے گا، جب بھارت پانی کھول کر سیلاب لائے یا بند کر کے خشک سالی، آپ گیس کا لیور گھما لیجئے گا۔ اپنے دونوں پیش رو جرنیلوں کی تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والا ، بہادر کمانڈو پرویز مشرف، امریکی مشورے پر اس قدر فدا ہوا کہ اس نے عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کی طرف سے داخل کئے گئے مقدمے کی پیروی بھی نہ کرنے کا فیصلہ کر ڈالا۔ شائد نئی دہلی میں’’ نہر والی حویلی ‘‘ کی نہر کو پانی کی زیادہ ضرورت تھی، اس لئے؟ جنرل پرویز مشرف صاحب نے بھارت کے پاوں کے مجوزہ کانٹے یوں چنے کہ کشمیری مجاہدین کے کیمپ بند کرکے انہیں چن چن کر ڈرون رزق بنا دیا جوکشن گنگاڈیم کے بارے میں کہتے تھے کہ ’’یہ ہماری لاشوں پر ہی بنے گا‘‘۔ کشن گنگا واقعی ان کشمیری مجاہدین کی لاشوں پر ہی بنا ہے۔ بھارت اس وقت تک آئی پی آئی گیس پائپ لائن کا حصہ رہا جب تک اس نے کشن گنگا ڈیم کا سول ورک مکمل نہیں کرلیا اور اس وقت تک جناب پرویز مشرف امریکہ کی طرف سے دئیے گئے چھنکنے کے ساتھ کھیلتے رہے۔ جب بھارت نے ڈیم کا کام اس سطح تک کر لیا کہ اب اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا تھا، تو اس نے ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن کا ٹیرف بارہ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کروانے کے بعد اس سے مراجعت اختیار کر لی۔ کل کشن گنگا ڈیم کے مودی کے ہاتھوں افتتاح کے موقع پر ضروری تھا کہ پاکستان میں موجود مودی کے یاروں کو بے نقاب کیا جائے۔ تاریخ کا سبق تو یہی ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا، دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ عسکری روائت اسی طرح جاری رہتی ہے یا پھر اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہے؟ 

Share your Comments

comments