Home / Urdu Columns / مسلم لیگ ن کا سیاسی مخمصہ

مسلم لیگ ن کا سیاسی مخمصہ

مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
جو بھی سیاسی جماعت انتخابی میدان میں اترتی ہے تو اس کے لیے بہتر نتائج کے حصول میں اہم مسئلہ اپنی جماعت کا سیاسی استحکام اور داخلی مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے ۔کیونکہ انتخابات میں کامیابی کی ایک بنیادی شرط پارٹی کے داخلی اختلافات اور مسائل کے مقابلے میں اس کی پارٹی معاملات پر مضبوط گرفت ہوتی ہے ۔اگرچہ سیاسی جماعتوں میں داخلی مسائل کا ہونا فطری امر ہوتا ہے ، مگر اگر یہ مجموعی طور پر بالادست ہوجائیں تو نتائج پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔مسلم لیگ)ن(کو بھی اس وقت انتخابات سے قبل ایک بڑے بحران کا سامنا ہے ۔ اگرچہ مسلم لیگ کی قیادت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابی میدان میں اترنے کی حکمت عملی بنارہی تھی ، لیکن اب اس کا مسئلہ کارکردگی سے زیادہ قانونی اور سیاسی محاذ پر موجود وہ بحران ہے جس نے اس کو ایک بڑی سیاسی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔
اگرچہ مسلم لیگ)ن(کی قیادت اس فہم کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ ایک بڑے داخلی بحران سے گزررہی ہے ،مگر پارٹی میں موجود کچھ لوگ ایسے ہیں جو اعتراف کرتے ہیں کہ ہم موجودہ پارٹی پالیسی کے باعث ایک بند گلی میں داخل ہورہے ہیں اور اگر اس کا فوری علاج تلاش نہ کیا گیا تو 2018کے انتخابات کے نتائج میں ہمیں اور زیادہ سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔مسلم لیگ )ن(کے حالیہ داخلی بحران کو سمجھنے کے لیے یہ ایک نکتہ کافی ہے کہ اس کی اصل طاقت پنجاب ہے اور اسی کی مدد سے وہ ہمیشہ سے اقتدار کی سیاست میں بالادست رہا ہے۔لیکن پنجاب میں جس تیزی سے اس کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی یا طاقتور اور بااثر افراد پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف کا حصہ بن رہے ہیں اس نے پارٹی کے داخلی بحران کو اور زیادہ سنگین کردیا ہے ۔
اگرچہ مسلم لیگی قیادت پارٹی میں حالیہ تقسیم یا پارٹی چھوڑنے کے بحران کو اسٹیبلیشمنٹ کی سازش سے جوڑتی ہے ، لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستان کی انتخابی سیاست کے جو لوازمات ہیں اس میں انتخابات لڑنے والے لوگ ہارنے کی بجائے جیتنے کے لیے میدان میں اترتے ہیں ۔ وہ طاقت کا سیاسی بھاو دیکھ کر اپنا فیصلہ کرتے ہیں ۔ کل ان کا فیصلہ مسلم لیگ کے حق میں تھا اور آج ان کا فیصلہ ان کے خلاف ہے ۔کیونکہ بااثر انتخابی امیدوار سیاست میں اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے انتخاب لڑتا ہے ۔ مالی ، وسائل اور اختیار کی طاقت اسے جہاں سے ملے گی وہ ادھر ہی جائے گا۔اس لیے جو لوگ آج پارٹی چھوڑ کر نواز شریف سے جدا ہورہے ہیں ان کے سامنے نئے حالات ، نئے امکانات اور نئے سیاسی شطرنج کے کھلاڑی ہیں۔یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اسٹیبلیشمنٹ کے کہنے پر پارٹی چھوڑ رہے ہیں مکمل سچ نہیں ،ایک سچ پارٹی کا داخلی بحران بھی ہے جس نے ان کو متبادل فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے ۔
بنیادی طور پر نواز شریف نے جو نیا بیانیہ ترتیب دیا ہے وہ ان کا اور ان کی پارٹی کے چند لوگوں تک محدود ہے ۔ یہ مجموعی طور پر پوری پارٹی کی پالیسی نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی بیانیہ کی جماعتی سطح پر حمایت کرنے والے چند لوگ ہیں جو ہم کو میڈیا کی سطح پر بالادست نظر آتے ہیں ۔کیونکہ مجموعی طور پر مسلم لیگی کی سیاسی تاریخ کو دیکھیں تو یہ لوگ ٹکراو کی پالیسی کے مقابلے میں بڑی طاقتوں کے ساتھ مفاہمت کی سیاست یا کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں ۔ لیکن حالیہ بحران میں نواز شریف نے پارٹی کو مزاحمت کی سیاست پر ڈال دیا ہے ۔ یہ مزاحمت سیاسی حریفوں تک برداشت ممکن تھی ، مگر ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراو کی پالیسی نے پارٹی میں نئی سیاسی کشمکش کو جنم دیا او ریہ ہی عمل پارٹی میں پہلے سے موجود تقسیم کو اور زیادہ گہرا کرنے کا سبب بنا ہے ۔
نواز شریف ایک طرف مزاحمت اور دوسری طرف شہباز شریف مفاہمت کے سیاسی کارڈز سے میدان میں ہیں ،لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کے سیاسی مفادات ایک ہیں ۔ مزاحمت اور مفاہمت کا کارڈ سیاسی ضرورتوں کے تحت ہی کھیلا گیا ہے اور اس میں دونوں کردار اندر سے ایک ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ دو مختلف پالیسی کے باوجود دونوں بھائی ایک دوسرے کی سیاست کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔حالیہ اخباری انٹرویو جس میں نواز شریف نے ایک سوچی سمجھی سوچ اور فکر کے ساتھ ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے یا پاکستان کی جانب سے ان دہشت گردوں کو نہ روکنے او ران کے خلاف عدالتی کاروائی نہ کرنے کا پیغام دے کر عملی طور پر ریاستی ، حکومتی اور قومی مفاد کو بھی داو پر لگایا ہے ۔اس بیان کے بعد پارٹی میں عملی طو رپر ایک سیاسی بھونچال دیکھنے کو ملا ہے ۔
پارٹی کے صدر شہباز شریف کے بقول نواز شریف کا انٹرویو کرانے والا ان کا او رپارٹی کا بڑا دشمن ہے ۔ یہ بڑا دشمن کون ہے اگر شہباز شریف ہمت کرکے اس کا نام بھی بتادیتے تو صورتحال واضح ہوجاتی ۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ نواز شریف کوئی معصوم بچہ نہیں ۔تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کا حالیہ انٹرویو ان کی سیاسی سوچ کی عکاسی اور ایک خاص منصوبہ بندی یا حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اور وزیر اعظم خاقان عباسی کی جانب سے خبر کو غلط انداز میں پیش کرنے کی منطق کو بھی نواز شریف نے مسترد کردیا ۔شہباز شریف کوشش تو کررہے ہیں کہ حالیہ بحران کو وہ کم کرسکیں ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کی حیثیت ایک نمائشی صدر کی ہے ۔طاقت کا مرکز اول تو نواز شریف ہیں او راگر ان کے بعد کسی کو اہم حیثیت حاصل ہے تو وہ مریم نواز ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں بھارت سے تعلقات کی نوعیت ایک حساس مسئلہ ہے ۔ اسی مسئلہ پر سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تناو بھی نظر آتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے حالیہ انٹرویو نے ان کو او ران کی جماعت کو ملکی سیاست میں ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ ان کی پارٹی سمجھتی ہے کہ اگر وہ عوامی یا میڈیا کے محاذ پر اس ممبئی حملہ پر یا اداروں سے ٹکراو کے بیانیہ پر نواز شریف کی حمایت کرتے ہیں تو یہ سیدھا سادہ اداروں سے ٹکراو اور ان کی اپنی ذاتی سیاست اور مفاد کو نقصان پہنچائے گا۔اس سے قبل ختم نبوت کے مسئلہ پر بھی بحران پیداکیا گیا جو پارٹی کے خلاف گیا۔
مسلم لیگی امیدواروں ،کارکنوں اور اہم راہنماوں کی جانب سے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر نواز شریف کی جانب سے ٹکراو کی پالیسی جاری رہی تو ا س سے ان کو اپنی انتخابی مہم کو بھی آزادانہ بنیادوں پر چلانے کا موقع نہیں مل سکے گا او رمخالفین ختم نبوت، بھارت نوازی ، فوج اور عدلیہ سے ٹکراو کے الزامات لگا کر ووٹروں کی سوچ پر بھی اثر انداز ہونگے جو ان کے حق میں نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پارٹی کے حالیہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جس کی صدارت شہباز شریف نے کی اس میں کھل کر نواز شریف کے بیانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ خود شہباز شریف نے یقین دلایا کہ وہ نواز شریف کو قائل کریں گے کہ وہ اپنا بیانیہ تبدیل کریں ، مگر وہ کیسے کرسکیں گے ، خود سوالیہ نشان ہے ۔کیونکہ شہباز شریف اور خاقان عباسی نے اس حالیہ انٹرویو کے مندرجات پر جو مفاہمتی رویہ اپنانے کی کوشش کی ، نواز شریف اور مریم نوازنے اسے مسترد کرکے صورتحا ل کو اور زیادہ پیچیدہ بنادیاہے۔
مسلم لیگ میں ایک طبقہ ایسابھی ہے جو سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو اس صورتحال میں لانے میں خود ان کی بیٹی مریم نواز کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ وہ پارٹی کی سنیئر قیادت پر حاوی نظر آتی ہے او رانہوں نے پارٹی کے اندر ایک متبادل کیبنٹ تشکیل دے کر پارٹی فیصلوں پر اپنی سوچ او رفکر کو مسلط کردیا ہے ۔نواز شریف کوشش کررہے ہیں کہ وہ بیانیہ کی مدد سے عوام اور اپنی پارٹی کو یہ باور کرواسکیں کہ ان کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے وہ اسٹیبلیشمنٹ کا پیدا کردہ ہے ۔ یعنی وہ اس بیانیہ کی مدد سے خود کو سیاسی شہید بنانا چاہتے ہیں ۔لیکن اس سیاسی شہید بننے کی سوچ میں ان کو اپنی جماعت، ریاستی مفاد اور اپنے ووٹر کی کوئی پروا نہیں ۔مسلم لیگ پر اصل بحران نگران حکومت کے بننے کے بعد شروع ہوگا۔ ایک طرف نواز شریف کا بیانیہ ہوگا تو دوسری طرف نیب کی عدالتوں سے متوقع فیصلے ہیں۔اگر یہ فیصلے نواز شریف کے خلاف آتے ہیں تو انتخابی مہم میں یہ فیصلے بھی پارٹی کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور عملی طور پر پارٹی قیادت کے طرز عمل کے باعث بن گلی میں داخل ہوگئی ہے اور اس مخمصہ سے کیسے نکل سکے گی ، یہ ہی اس کا اصل امتحان ہے ۔

Share your Comments

comments