Home / Urdu Columns / احتساب عدالت کا فیصلہ اور اس کے ممکنہ نتا ئج

احتساب عدالت کا فیصلہ اور اس کے ممکنہ نتا ئج

جس وقت میں یہ کا لم لکھ ر ہا ہوں پو ر ا ملک شش و پنج میں مبتلا ہے۔ ان کی یہ ابتلا سا بق وز یرِ اعظم میا ں نو ا ز شر یف اور ان کی بیٹی مر یم نو ا ز کے پا کستا ن کی سر ز مین پہ قد م ر کھنے سے متعلق ہے۔ اور جس و قت آ پ یہ ا خبا ر پڑھ رہے ہو ں گے ، اس تشو یش میں مبتلا ہو ں گے کہ اب سے سے چند گھنٹے بعد کیا ہو نے و ا لا ہے۔آ پ جا نتے ہیں کہ و طنِ عز یز کی احتسا ب عد الت نے میا ں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس پر فیصلہ سنا تے ہو ئے میا ں نواز شریف کو 10 سال قید سنائی جبکہ مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔اسء فیصلہ میں نواز شریف پہ 8 ملین پاؤنڈ کا اور مر یم نو ا ز پہ دوملین پا ؤنڈ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ بلا شبہ ا حتسا ب عدالت کا فیصلہ بلاشبہ ملک کے سیاسی سیاق و سباق میں ایک بڑی بحث کا با عث بنا رہے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اس فیصلے کو مستر د کر چکے ہیں۔ تا ہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اپوزیشن نے اس فیصلے کو نون لیگ کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا ہے۔ چنانچہ اب ملکی عدالتی نظام کے تحت نواز شریف اور مریم نواز شریف کے لیے اپنے دفاع اور صفائی کے لیے قانونی آپشنز موجود ہیں۔ وہ فیصلہ کے خلاف فوری اپیل کرنے اور دیگر قانونی فورمز سے رجوع کرنے کا آئینی استحقاق رکھتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے اپیل کرسکتے ہیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ قانونی معاملات ہیں جبکہ قانونی حلقوں کی رائے کے مطابق ن لیگ کے قائدین، قانونی ماہرین اور وکلاء کی ٹیم پر دارومدار ہے کہ وہ کون سے قانونی آپشنز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملکی سیاست پر ایون فیلڈ فیصلہ کے مرتب ہونے والے اثرات پر قانونی حلقوں کی آرا قابل غور ہوں گی۔ ملکی سیاسی رہنماؤں اور جمہوری قوتوں کا ردّ عمل بھی نہایت دور رس نتائج و مضمرات کا حامل ہوگا۔ نواز ریف کو اپنے سیاسی کیریئر میں اس فیصلہ سے قبل بھی حالیہ تین اہم اعلیٰ عدالتی فیصلوں کے اثرات دامن گیر رہے ہیں۔ نون لیگ کو داخلی سیاسی و انتخابی چیلنجز درپیش ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی استقامت، دور اندیشی، تدبر و حکمت کا امتحان بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے لیے بھی یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ وہ کون سا متوازی راستہ اختیار کرتی ہے۔ نون لیگ کو ساتھ ساتھ متلاطم انتخابی دریا بھی عبور کرنا ہے جبکہ نون لیگ کے درد عمل، سیاسی بقا کے بنیادی سوال پر سیاست دان، سیاسی مبصرین اور قانونی ماہرین بہترین روشنی ڈال سکیں گے۔ تاہم اس فیصلہ کے ہمہ گیر، قانونی اور انتخابی ارتعاش پر بحث میڈیا اور قانونی حلقوں میں جاری رہے گی، جبکہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اس عدالتی فیصلہ کو ملکی سیاسی اور طرز حکمرانی پر احتسابی اور عدالتی گرفت کے حوالہ سے یاد رکھا جائے گا۔ احتساب عدالت میں کلثوم نواز کی تازہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے وکیل امجد پرویز نے عدالت کے روبرو استدعا کی تھی کہ میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی حالت تشویشناک ہے اور نواز شریف اور مریم نواز کا لندن میں موجود ہونا ضروری ہے۔ امجد پرویز نے مزید کہا تھا کہ ڈاکٹرز کے مطابق آئندہ 48 گھنٹے تک فیملی کا کلثوم نواز کے ساتھ ہونا ضروری ہے، لہٰذا 7 روز کے لیے فیصلہ موخر کیا جائے۔ اس موقع پر نیب نے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی مخالفت تھی۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر جب کیس فیصلے کے لیے مقرر ہے درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔ سیکورٹی محاذ پر نگران حکومت پنجاب نے جمعہ کو صوبہ میں ایون فیلڈ ریفرنس کے متوقع فیصلے کے پیش نظر متوقع رد عمل سے بچاؤ اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی تھی۔ احتساب عدالت کے اطراف سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے۔ دفعہ 144 نافذ تھی۔ ذرائع کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ کے تناظر میں پاکستان مسلم لیگ نے پارٹی قائد نواز شریف کے حوالے سے متوقع عدالتی فیصلے میں ممکنہ طور پر سزا ہونے کی صورت میں مستقبل کے سیاسی و انتخابی معاملات کے لیے مختلف آپشنز پر مشتمل اپنی حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ اب د یکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جو اگلے روز میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہوا ، اور جس میں احتساب عدالت کے فیصلہ کے سیاسی و قانونی محرکات اور حکمت عملی پر تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) اب اپنے لیئے کیا حکتِ عملی اپنا تی ہے۔اس کے سا تھ ساتھ پا ر ٹی نے اپنا انتخابی منشور 2018ء پیش کردیا ہے۔ ایک ا ہم ا مر یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کی تقریر سے قبل مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 22 اپریل 1943ء کو فرمایا تھا کہ جمہوریت ہمارے لہو میں شامل ہے۔ ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ بانی پاکستان کی بہن مادر ملت فاطمہ جناح ہی تھیں جو سب سے پہلے فوجی آمر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور اگر 1965ء کے انتخابات میں دھاندلی نہ ہوتی تو وہ ملک کی پہلی منتخب صدر ہوتیں اور پاکستان کبی تقسیم نہ ہوتا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ہم تاریخ کی مثبت جانب کھڑے ہیں، سچ کی جیت ہوگی۔ 
اس سے تو یہی دکھا ئی د یتا ہے کہ مسلم لیگ ن احتسا ب عد ا لت کے فیصلے کے خلا ف سٹینڈ لینے کا ا ر ا دہ ر کھتی ہے۔ملک کے د ا نشو ر حلقو ں کے مطابق ملک انتخابی مہم کے مرحلہ سے گزر رہا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں اور الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں نے شفاف انتخابات کی راہ میں دشواریوں کا نوٹس لینے اور جمہوریت میں مقتدر اداروں کی مداخلت کی وجہ سے انتخابی شفافیت پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی سزا سے سیاسی طور پر مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم پر اس کا برا اثر پڑے گا۔ فواد حسن فواد کی گرفتاری بھی ن لیگ کو ایک پیغام ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نوازشریف کے لیے آپشن بہت کم رہ گئے ہیں، مسئلہ مستحکم صف بندی اور سیاسی منحرفین کی سیاسی ہجرتوں کا ہے۔ جنوبی پنجاب کی بدلتی ہوئی صورتحال اور جیت کے محدود ہوتے امکانات کا ہے۔ واضح رہے ایون فیلڈ ریفرنس شریف خاندان کے لندن میں موجود فلیٹس سے متعلق ہے۔ 8 ستمبر 2017ء کو نیب نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف، ان کے تینوں بچوں اور داماد کے خلاف عبوری ریفرنس دائر کیا تھا۔ ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ کو ملکی عدالتی اور سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل حیثیت حاصل رہے گی۔ ملک کو قانون کی حکمرانی کی آج جتنی ضرورت ہے اس پر تمام اہل وطن متفق ہیں۔ تاہم قوم آج ایک شفاف اور آزادانہ الیکشن کے انعقاد کو تمام قومی ایشوز پر فوقیت دینے کے حق میں ہے۔ 

Share your Comments

comments