Home / Latest News / نواز شریف پر کچھ نہ ثابت کرنے والوں کے آقاؤں کا مقصد پورا ہو گیا

نواز شریف پر کچھ نہ ثابت کرنے والوں کے آقاؤں کا مقصد پورا ہو گیا

آئی ایم ایف نے کافی عرصہ پہلے کہہ دیا تھا کہ اگر پاکستان کو دوبارہ اس کے پروگرام کے لئے آنا ہوتو وہ ڈالر کو 140روپے کا کرکے آنا۔ اس مطالبے پر ووٹ سے منتخب ہونے والی حکومت نے تو عمل درآمد نہیں کیا، اور چپکے سے آئی ایم ایف کو ہی خیرباد کہہ دیا لیکن وہ کیا ہے کہ یہ ڈرٹی جاب، جس سے بیٹھے بٹھائے غیر ملکی کرنسی قرض میں تیس فی صد اضافہ ہو گیا ہے، اور ٹیکس کی کولیکشن میں بیٹھے بٹھائے (ڈالرکے لحاظ سے) تیس فیصد کمی ہو گئی ہے، کے لئے قائم مقام کئیر ٹیکر اور ان کو لانے والے رو بہ عمل آئے۔ ملک میں سیاسی انارکی کا ایک جھنجھنا بجایا اور کرنسی کا جادو ایسے گھمایا گیا کہ اب سی پیک (کا قرض ) باقاعدہ قوم کو خوب چبھے گا اور وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر سی پیک بنانے والوں کو بد دعائیں سے گی۔ قوم کو مبارک ہو کہ تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم پر چار سال تک منی لانڈرنگ کا الزام لگانے، اسے عدالتوں میں گھسیٹنے اور پھر بھی ثابت نہ کر سکنے والوں کے آقاوں کا مقصد پورا ہوگیا ہے اور پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے فہرست میں شامل ہو کر عالمی مالیاتی پابندیوں کے کنارے پر پہنچ گیا ہے۔ لگائے گئے تمام الزامات میں ثابت ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا ، لیکن اتنے لمبے سیاپے سے یہ عالمی تاثر ضرور بن گیاہے کہ ہم بحثیت مجموعی چور لوگ ہیں اور اب اس پر مستزاد کہ ہمارے بیرونی دشمن ، اپنے اندرونی دشمنوں کی مدد سے اپنی لمبی لمبی زبانوں روزانہ یہ بات دہرا دہرا کر اس تاثرکو گہرا کرتے چلے جائیں گے اور ہمارا پیارا ملک مالیاتی بحران کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔ دلدل کی یہی مصیبت ہے کہ اس میں سے جتنا نکلنے کی جدوجہد کی جائے، اس میں دھنسنے کا عمل اسی قدر تیز ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے اب جو بھی حکومت آئے گی، وہ اس میں سے نکلنے کے لئے جس قدر ہاتھ پیر مارے گی، ہماری تباہی و بربادی کا سفر اسی قدر سرعت پذیر ہوگا۔ مبارک ہو کہ ہماری کرنسی جنوبی ایشیا میں موجود تمام کرنسیوں (سوائے سری لنکا کی کرنسی کے) سے نیچے آ گئی ہے اور عالمی سطح پر اسے دنیا کی بدترین کرنسی کا لقب بھی مل گیا ہے، مبارک ہو۔ منی لانڈرنگ کے ایک مبینہ ملزم کو جیل تک پہنچانے میں ہم نے پورا ملک داو پر لگا دیا، ہماری عدلیہ نے بہت درست فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئین شکنی کے ملزم کو سزا نہیں دے گی، ورنہ اگر ہم وہ کرنے نکلتے تو ہمیں تو اپنا ملک ٹکڑے ٹکڑے کرنا پڑتا، اگرچہ ہمارے لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوتی کہ یہ کام ہم وقتا فوقتا کرتے رہے ہیں،لیکن ان قوتوں کے لئے سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ ملک ہی نہ رہا تو ہم کھائیں کہاں سے؟ اگر تیس سال بعد ہی یہ اعتراف کرنا ہے کہ ہماری تیس سال پرانی پالیسیاں غلط تھیں تو قوم کواس اعتراف کاکیا فائدہ؟ 

Share your Comments

comments