Home / Urdu Columns / ر وپے کی تا ر یخی د ھلا ئی

ر وپے کی تا ر یخی د ھلا ئی

یو ں تو ہما رے ملک کے معا شی ادا رو ں کی کا ر کر د گی ہمیشہ سے تنز لی کا شکا ر رہی ہے، مگر حا لیہ د نو ں میں جس قسم کی بھو نچا لی کیفیت کا سا منا کر نا پڑ ر ہا ہے، اس کی ما ضی میں کو ئی مثا ل نہیں ملتی۔کہنا یہ ہے کہ پا کستا نی رو پئیہ جس گر ا و ٹ کا شکا ر ہے، وہ ملک کے ہر کس و نا کس کی جیب پر بر ا ئے ر ا ست ا ثر ا ند ا ز ہو ر ہا ہے۔دو سر ے لفظو ں میں یہ ڈا لر کی ا ونچی پر و ا ز ہے جو ملک کے معاشی اور کرنسی حلقوں میں ارتعاش کا باعث بن گئی ہے۔ معاشی مبصرین کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کو اتنے پَر لگ گئے۔ اطلاعات کے مطابق تجارتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ کے نتیجے میں پیر کو زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔یا د دلا تا چلو ں کہ �آٹھ ر و ز پہلے وا لے جمعہ کے روز کا ر و با ری سر گر میو ں کے ا ختتا م پر ڈا لر کی قیمت پا کستا نی رو پے میں ایک سو ا کیس رو پے ستا و ن پیسے تھی۔ تو مجھے کو ئی سمجھا ئے گا کہ آ خر وہ کو نسی وا ر دا ت ہو ئی جس کے نتیجے میں سو مو ا ر کی صبح سے جو ڈا لر نے عمو دی پر و ا ز شر و ع کی تو شا م تک اس کی قیمت ایک سو ا نتیس ر و پے تک جا پہنچی۔ اور یہ قیمت تو ا نٹر بینک کی تھی۔ ا و پن ما ر کیٹ میں تو ڈا لر کی ایک سو ا کتیس رو پے جا پہنچی۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان پر زرمبادلہ میں بیرونی قرضوں کے حجم میں 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ڈالر کی اچانک اونچی اڑان سے ملکی معیشت پھر سے خبروں میں آگئی اور معاشی مبصرین روپے کی بے قدری کے معمہ اور مارکیٹ سے ڈالر کے غائب ہونے کی زر (کرنسی) سے منسلک پالیسی اور مالیاتی ذمے داروں کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ اصل میں تبدیل شدہ معاشی منظر نامہ کے باعث اقتصادی ترقی، معاشی نمو اور دنیا کے حوالے سے معاشی حلقے اس اچانک پیش رفت سے سٹپٹا کر رہ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 21 مارچ 2018ء کو سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ بازار سے ڈالر لے کر سب پاک کرلیا جاتا ہے۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ سابق ن لیگی حکومت نے ایمنسٹی سکیم جاری کی جس کی غیر معمولی کامیابیوں کے شادیانے بجائے گئے اور اربوں روپے کا کالا دھن سفید کرانے کی مالی حکمت عملی کو کامیاب ترین اقدام سے تعبیر کیا گیا۔ مگر اسی دوران ڈالر ریٹ میں تاریخی اضافہ نے ڈالر کنگز کی چمت کاری کی نئی کہانی شروع کردی ہے۔ جبکہ کرنسی ڈیلرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہرین زر کو پیسے کی ناقدری اور ڈالر ریٹ میں اضافہ کے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔ بلاشبہ نگران حکومت ڈالر کی ششدر کرنے والی اڑان سے بیک فٹ پر آگئی ہے۔ آج ڈالر مہنگا بتایا جاتا ہے، کل مہنگائی مزید بڑھے گی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ تجارتی خسارہ اور ادائیگیوں کی ابتر صورتحال معیشت کے لیے سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ ڈالر مافیا کسی بھی وقت معیشت کو کمزور کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف وزیر خزانہ شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ نگران حکومت پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں نئے بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ روپے اور ڈالر کی برابری کا معاملہ شرح سود سے جڑا ہوا ہے اور ہم دونوں ٹولز کو کام میں لارہے ہیں۔ ادھر مبصرین اور کرنسی ڈیلرز تذبذب میں ہیں کہ نئی حکومت اس مسئلہ کا حل اخراجات کم کرکے یا ٹیکس لگا کر نکالے گی۔ فریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا تھا کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ادائیگیوں کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی آرہی ہے اور ڈالر کی قدر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب امڈ آئے گا اور روز مرہ استعمال کی ضروری درآمدی اشیاء، پٹرول سمیت ہر شے کی قیمت بڑھ جائے گی۔ جبکہ مقامی صنعتوں میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال کی قیمت بڑھنے سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا۔ روپے کی قدر میں کمی کے بعد غیرملکی قرضوں کے حجم میں بھی خطیر اضافہ ہوگیا ہے۔ اشیائے تعیش کی درآمدات کی وجہ سے ملکی برآمدات اور درآمدات میں 37 ارب ڈالر کا نمایاں فرق اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے عوامل بھی روپے کی قدر میں کمی کے اسباب ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انٹر بینک مارکیٹ میں گزشتہ ساڑھے 7 ماہ کے دوران روپے کی نسبت امریکی ڈالر کی قدر میں مجموعی طو رپر 12 روپے 49 پیسے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے کے ساتھ سونے کی قیمت بھی 450 روپے اضافے کے ساتھ 59650 روپے تولہ ہوگئی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈالر ریٹ میں اضافہ اور پیسے کی رسوائی کا لیکیج جتنی جلدی روکا جائے ملکی اقتصادیات اور مالیاتی استقامت کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ عدلیہ کو بتایا گیا تھا کہ ڈالر اور ملکی کرنسی کو کنٹرول کرنے والی مارکیٹ فورسز کو بھی چیک اینڈ بیلنس کے سخت ترین نظام کا پابند ہونا چاہے۔ کرنسی کی ریل پیل اور غیر قانونی طریقے سے ڈالرز کی پاکستان سے بیرون ملک منتقلی کا نیٹ ورک مستعد اور مضبوط ہے۔ سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ قبل از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جو بیرون ملک مبینہ اربوں روپے کے اثاثوں اور رقوم کی واپسی کے لیے حکومت اور عدلیہ کی مدد کرے گی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ اب چارٹرڈ اکاؤنٹس ہی پاکستان سے غیرقانونی طور پر بیرون ملک بھجوائی گئی رقوم واپس لانے میں ہماری مدد کرسکتے ہیں۔ یہ ایک چشم کشا انتباہ اور امید کی کرن تھی۔ معیشت اب کسی دھچکے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔قا ر ئین کو شا ئد یا د ہو کہ اسحق ڈا ر کے بطو ر وز یرِ خز ا نہ وا لے دور میں میں نے ہا تھ جو ڑ جو ڑ کر حکو مت کی تو جہ ا سحق ڈا ر کی بد اعتا دلیو ں کی جا نب متعد د با ر مبذ و ل کر ا نے کی کو شش کی، مگر ہر با ر میر ی گذا رش نقا ر خا نے میں طو طی کی صدا ثا بت ہوئی۔جن بتا ئج کا ڈر تھا وہ وقو ع پذ یر ہو کر ر ہے۔ ا ب د یکھنے اور سننے میں آ رہا ہے کہ ا سحق ڈا ر کو ا نٹر پو ل کے ذ ر یعے ملک میں و اپس لا نے کی کو شش کی جا رہی ہے۔ کیا ہی ا چھا ہو کہ اسے وا پس لا نے سے پہلے یا اس کے سا تھ سا تھ اس کی ا س غر یب ملک سے لو ٹی ہو ئی دو لت وا پس لا ئی جا ئے۔ اور پھر ا کیلے ا سحق ڈا ر ہی کی با ت نہیں،منی لا نڈ ر نگ کے جو جو مجر م ہیں ، سب کی غیر مما لک میں جمع کی ہو ئی دو لت کو اسی طر یقے سے وا پس لا یا جا ئے۔ میڈ یا کے ذ ر یعے ان مجر وں کو سز ا دینے کی با تیں ہر رو ز سننے کو ملتی ہیں، مگر ان کے پا س سے لو ٹی ہو ئی دو لت وا پس لا ئی جا ئے گی، اس پہ کو ئی رو شنی نہیں ڈا لتا۔ ا گر ڈا لر کی قیمت کے بڑھنے کی عو ا می سطح پہ با ت کی جا ئے تو ڈا لر کی قیمت کے بڑھنے کا پہلا ا ثر تو ملک کے د و لتمند و ں او ر غر یبو ں کے در میا ن فا صلہ بڑھنے کی صو ر ت میں سا منے آ رہا ہے۔ و ہ یو ں کہ ذ خیر ہ ا ند و زی کی بنا ء پر کچھ کئیے بغیر ان کے منا فع میں بیٹھے بٹھا ئے ا ضا فہ ہو نا شر و ع ہو چکا ہے۔ 

Share your Comments

comments