Home / Urdu Columns / سٹے بازی سے روپے کی بے قدری، ذمہ داروں کا تعین کون کرئے گا

سٹے بازی سے روپے کی بے قدری، ذمہ داروں کا تعین کون کرئے گا

دنیا بھر کے اندر ان ہی ممالک کی معیشتوں کو مستحکم قرار دیا جاتا ہے جن کی کرنسی مستحکم ہوتی ہے۔اس کے برعکس جن ممالک کی کرنسی کمزور ہو اور اسے مصنوعی طریقے سے یا ہیرا پھیری کر کے اوپر یا نیچے کیا جا سکے، ان کی معیشت کو کمزوراور مافیا کے شکنجے میں کسی کالی معیشت (بلیک اکانومی) قرار دیا جاتا ہے اور سرمایہ کار اس سے دور بھاگتا ہے، جب کہ بینک اسے قرض دینے سے انکاری ہوتا ہے۔ نوے کہ دہائی کے آخر میں ، کرنسی کے عالمی سٹے باز ، جارج سوروز ،کے ہاتھوں تھائی لینڈ کی کرنسی ’’تھائی بھات‘‘ کی ہیرا پھیری اور سٹے بازی جس طرح مشرق بعید کے ایشیائی ٹائیگر میاوں میاوں کرنے لگے تھے، اگر اس وقت ملائیشیا کی قیادت مہاتیر محمد جیسے دبنگ شخص کے ہاتھ میں نہ ہوتی اور وہ اس عالمی سٹے باز کی سرکوبی کے لئے خم ٹھونک کر میدان میں نہ اترتے تو نہ جانے جارج سوروز صاحب مشرق بعید کے ایشئین ٹائیگرز کے ساتھ کیا کچھ نہ کرتے؟ یادش بخیر موصوف نے یہاں سے جو پیسہ اینٹھا ، اس سے انہوں نے برازیل کے اندر ایک بہت بڑا بجلی سازی کا کارخانہ، اس سے ملحقہ کوئلے کی کان اور اس کے ارد گرد آباد ایک پورا شہر ’نجکاری‘ میں خریدا تھا اور ان سطور کے لکھے جانے تک وہاں پر نوٹ چھاپتے پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کئیر ٹیکر حکومت کے براجمان ہوتے ہی ، اس کی قائم مقام وزیر خزانہ ، جو انہی کی فرمائش پر لائی گئی تھی جنہوں نے انہیں سٹیٹ بینک کا گورنر لگایا تھا، ان سے پہلا بھاشن یہ سننے کو ملا کہ روپے کی قدر اس کی عالمی قدر سے زیادہ ہے اس لئے اس کی قدر میں کمی ہونی چاہیے۔ بس پھر کیا تھا ڈالر پھسلا اور یوں پھسلا کہ 135 پرجاکر سانس لیا۔ پھر یہاں سے گرا تو کل تک 122 کے گرد منڈلاتا پایا جا رہا ہے جب کہ حجاج کے لئے یہ 128 پر دستیاب تھا۔ لگتا ہے ہر کرنسی ڈیلر نے اپنی اپنی ’’چیک پوسٹ ‘‘ لگا رکھی ہے جس کا اپنا اپنا نرخ ہے۔ حجاج کرام اس وقت ڈالر کے سب سے بڑے خریدار تھے۔ اللہ کے مہمانوں کو لوٹنے کے کام کا آغاز گھر سے ہی شروع ہو گیا۔ سیاسی تعصبات میں اندھے لوگوں نے اسے عمران خان کی کامیابی سے تعبیر کرکے خوب دادکے ڈونگرے پیٹے حالاں کہ دنیا میں ہماری معیشت کا بھرم (اگر کوئی تھا ) تو اس کا بھرکس نکل گیا۔ یہ باتیں ان تعصبات سے اوپر اٹھ کے سوچنے کی ہیں۔ انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی بیشی چند پیسوں کی بات ہوتی ہے، بیس سے تیس پیسے کمی بیشی بھی خبر بن جاتی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں تو یہ چلن عام ہوتا ہے لیکن انٹربینک مارکیٹ میں تو ایسا ہونا سمجھ نہیں آتا کہ آئی آئی چندریگر روڈ کے چند بینکر ہی اس میں ملوث ہوتے ہیں۔ سڑک کے کنارے کیلکولیٹر پکڑ کر کھڑے کسی ’’پھڑئیے‘‘ سے پوچھ لیں تو وہ بتادے گا کہ اس وقت ڈالر کی ہیرا پھیری کون کر رہا ہے۔ بڑے بڑے نام لے گا کہ آپ غائب کر دئیے جانے کے ڈر سے کان لپیٹ کر پتلی گلی سے نکل جائیں۔ پاکستان کی تاریخ کی اس بدترین سٹے بازی سے کیا ہم یہ سمجھیں کہ سٹیٹ بینک اندھا ہو گیا ہے؟ متوقع وزیراعظم، جناب عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم کو اس پر سر دھننے کی بجائے حکومت سنبھالتے ہی اس امر کا نوٹس لے کر گورنر سٹیٹ بینک کی سرزنش کرنی چاہیے اور اگر ہو سکے تو انہیں کم از کم فارغ کر دینا چاہیے کہ جب ملک کی کرنسی سے یہ کھلواڑ ہو رہا تھا تو موصوف منہ سر لپیٹے سو کیوں رہے تھے۔ 

Share your Comments

comments