Home / Urdu Columns / چینی کرنسی میں تجارت سے کشکول نہیں اُٹھانا پڑے گا

چینی کرنسی میں تجارت سے کشکول نہیں اُٹھانا پڑے گا

آخرکار پاکستان کی کئیر ٹیکر حکومت نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دھمکی نما بیان کا جواب دے ہی دیا۔مائیک پومپیو صاحب نے فرمایا تھا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لے کر چینی سرمایہ کاری سے لگائے گئے منصوبوں کا قرض واپس نہ کر سکے۔ تاہم آئی ایم ایف کے ترجمان نے اس کے فوراً بعد ایک بیان جاری کیا تھا کہ ان کو پاکستان کی طرف سے قرض کے حصول کے لئے نہ تو کوئی رابطہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے ۔ پاکستان میں متعین امریکی سفارت کار جس طرح سی پیک کے ہر منصوبے ک سونگھتے پھرتے تھے اور جس طرح سی پیک کا نام سنتے ہی ان کے فشارخون بلند ہوجاتے ہیں اور وہ تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر زہر اگلنے لگ جاتے ہیں اس کا شائد عام آدمی کو اندازہ ہی نہیں۔ یادش بخیر !لاہور میں متعین ایک امریکی سفارت کار ایک مقامی اخبار کے دفتر تشریف لائے۔ جیسے ہی موصوف کے سامنے سی پیک کا ذکر ہوا تو ان کے منہ سے جھاگ بہنے لگی ، جسم پر رعشہ طاری ہوگیا اور وہ آرام دہ صوفے سے باقاعدہ کھڑے ہو گئے۔ تب پتہ چلا کہ سوشل میڈیا ، اخبارات اور ٹی وی پر سی پیک کے خلاف مہم گمراہ کن مہم کن کے اشارہ ابرو کی مرہون منت ہے؟ پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیر خارجہ) کا بیان سفارتی آداب کے منافی ہے۔ ان تمام شواہد سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں سی پیک کا مخالف کون ہے او ر کس کو ہمارے ملک میں چینی سرمایہ کاری سے تکلیف ہو رہی ہے۔ امریکی سفارتی دھمکی کے بعد ہی ہم نے پگھلتے اور لڑھکتے ہوئے پاکستانی روپے کوبریک لگائی اور اسے دوبارہ 124والی سطح پر لاکھڑا کیا۔ مفتاح اسماعیل نے اس سال اپریل میں اسلامی ترقیاتی بینک سے تیل درآمد کے لئے کچھ ادھار مانگا تھا، اب وہاں سے تین ارب دس کروڑ ڈالر کی منظوری رقم پہنچ چکی ہے۔اس کے علاوہ چین نے گذشتہ سال جو پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی رقم انتہائی کم شرح سود پر دی تھی ، نہ صرف اس کو ایک سال کے لئے مزید آگے لڑھکا دیا ہے بلکہ انہی شرائط پرایک ارب ڈالر مزید بھی عطا فرما دئیے ہیں۔ مزید برآں چینی حکومت نے مارچ میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر پاکستان اس کے کمرشل بینکوں سے تین سے پانچ ارب ڈالر کا قرض لینا چاہے تو وہ اپنے بینکوں کو گارنٹی جاری کردیں گے۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئے ہی شائد امریکی ادارے موڈیز نے ہماری کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کردی تھی تاکہ ہمارے لئے عالمی قرض کی شرح سود میں اضافہ ہو جائے جو کہ لمحہ موجود میں سات فیصد تک پہنچ چکی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم چین کے ساتھ اپنی باہمی تجارت کو باہمی کرنسی (یعنی یوآن اور روپے) میں منتقل کر لیں تو ہمارے ڈالر کے ذخائر پر سے دباو کم ہوجائے گا اور ہمیں عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے پاس جانے کی حاجت نہیں رہے گی جو دراصل امریکی اشارے پر ہی رو بہ عمل ہوتا ہے۔ امریکی مالیاتی چنگل سے نکلنے کے لئے چین سے لیا جانے والے مہنگے داموں قرض کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ ہم نئے پاکستان کی نئی حکومت سے اس کی توقع رکھتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ پاکستان میں جولائی 2017سے سٹیج کیا جانے والا سیاسی انارکی کا ڈرامہ دراصل امریکی مقاصد کی تکمیل کے لئے ، ملکی نظام میں موجود امریکی نمائندوں (ایجنٹ ذرا بھاری لفظ ہے) نے، پاکستان کو اپنے چنگل میں جکڑے رکھنے کے لئے ہی شروع کیا تھا۔ 

Share your Comments

comments