Home / Rizwan Razi Columns / معاشی محاذ پررنگ بازیوں کی بجائے حقیقی اقدامات کی ضرورت

معاشی محاذ پررنگ بازیوں کی بجائے حقیقی اقدامات کی ضرورت

تحریر: رضوان الرحمن رضی 
پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ہاتھوں سے باندھی گئی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی موجودہ نو ٓموز حکومت کے ساتھ بھی ہوتا ہوا دکھائی دے رہاہے۔ موجودہ حکومت کے تمام عہدوں پر براجمان ’’بڑے‘‘ جس طرح گذشتہ دس سال ہرشام ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر بے پر کی اڑایا کرتے تھے، ان کو اب اپنی گذشتہ دس سالہ میڈیائی اور ٹی ویائی کارکردگی سے مراجعت اختیار کرنا پڑی رہی ہے۔پہلے سینیٹ میں یہ اعتراف کرنا پڑا کہ گذشتہ حکومت نے واقعی بجلی کے قومی نظام ترسیل میں بارہ ہزار میگاواٹ سستی بجلی کا اضافہ کیا تھا ۔ ابھی اس اعتراف کی دھول نہیں بیٹھی تھی کہ یہ بھی ماننا پڑا کہ میاں نواز شریف کی حکومت نے پانچ سال میں 47ارب ڈالر کے قرض لئے جب کہ سود اور اصل زر کی مد میں 70 ارب ڈالر واپس بھی کئے۔ ملکی کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلنے کا منترا گانے والے ان طوطوں نے قوم کو یہ بھی باور کروا دیا تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے قرض 92 ارب ڈالر، پھر کہا کہ نہیں نہیں 103ارب ڈالر اور کچھ دفاعی تجزیہ نگار صاحبان نے تو یہ ہندسہ 111 ارب ڈالر تک پہنچادیا۔ اب ان طوطوں کویہ بھی تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ نہیں کل غیر ملکی زرمبادلہ کے قرض 87ارب ڈالر تک ہی پہنچ پائے ہیں جن میں 19ارب ڈالر کا پاک چین اقتصادی راہداری کا قرض بھی شامل ہے۔ یادش بخیر مشرف صاحب کی صاف ستھری حکومت نے قرضوں میں 60فیصد اضافے کے بعد اسے 42 ارب ڈالر پر چھوڑاتھا، پھر زرداری صاحب کی شہیدوں کی حکومت ، جو مہنگے قرض لے کر لوگوں کو سبسڈی(زرتلافی) دیا کرتی تھی، اس نے ان قرضوں کا حجم تقریبا 50فی صد اضافے کے ساتھ اسے سال 2013 میں 64ارب ڈالر پر چھوڑا ، جب کہ گذشتہ میاں نوازشریف کی حکومت نے 87 ارب ڈالر پر جس میں 19 ارب ڈالر کا سی پیک کا قرض بھی شامل ہے اور اگر یہ 19 ارب ڈالر نکال دیا جائے تو کل ملا کر غیر ملکی زرمبادلہ کا قرض 68 ارب ڈالر بچتا ہے اس لحاظ سے گذشتہ دور حکومت آئیڈیل مانا جائے گا کیوں کہ اس دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں محض دس فیصد کا معمولی اضافہ ہوا، جو کہ شائد سود کی رقم سے بھی کم ہے۔ اب جناب اسد عمر صاحب فرماتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ پارلیمنٹ کے مشورے سے کریں گے، حالاں کہ کمانڈو پرویز مشرف کی حکومت کے دوران شوکت عزیز والی اسمبلی نے یہ قانون پاس کردیا تھا کہ غیر ملکی قرض لینے کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہو گی۔ اس میں ان کی گڈ گورننس یا عاجزی کو دخل نہیں بلکہ انہیں قانون کی پابندی میں ایسا کرنا پڑے گا۔ کھاد سے زرتلافی کم کرکے اس کی قیمتوں میں 35 فیصد سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے، یہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی تیاری ہے۔ لیکن دوسری طرف حکومت کا اب تک کا مکمل انحصار اقتصادی و مالیاتی رنگ بازی پر ہے، سارک کانفرنس کے مہمانوں کی لئے درآمد کی گئی ٹیکس فری بلٹ پروف گاڑیوں کی نیلامی کا اشتہار دے دیا گیا ہے۔ پانچ کروڑ کی درآمد کردہ ان میں ہر ایک گاڑی پر اگر ٹیکس وصول کیا جائے تو یہ بارہ سے پندرہ کروڑ کی پڑتی ہے، اور اگر یہ بارہ سے پندرہ کروڑ کی گاڑی چھ یا سات کروڑ کی بک بھی جائے گی تو کون سا تیر مارا جائے گا۔ قوم کو فی گاڑی دس سے بارہ کروڑ کی تھوک تو لگے ہی لگے۔ باقی ساری رنگ بازیاں بھی ایسے ہی ہیں۔ رنگ بازی نہیں صاحب، اصل اور حقیقی اقدامات، بائیس کروڑ لوگوں کے ملک کی معیشت ، ٹی وی کا پرائم ٹائم کا ٹاک شو نہیں ہوتی، اور اب تو امریکہ سے 34 ارب ڈالر کی اندھی دولت ملنے کا بھی کوئی امکان نہیں، اس لئے حقیقی اقدامات کی اہمیت و افادیت مزید اور اشد ضرورت ہے۔

Share your Comments

comments