Home / Rizwan Razi Columns / کیا احتساب کا بیانیہ چل پائیگا؟

کیا احتساب کا بیانیہ چل پائیگا؟

تحریر: رضوان الرحمن رضی

ہرحکومت جب برسراقتدار آتی ہے تواس کے ہاتھ میں ایک عدد بیانیہ ہوتا ہے جسے وہ لوگوں کو سنا کر اپنی حکومت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ رات کے اندھیرے میں دیواریں پھلانگ کر(یاپھر آرٹی ایس بند کرکے) آنے والی باوردی حکومت کو یہ ایڈوانٹیج ہوتا ہے کہ اس کے ایک ہاتھ میں بندوق بھی ہوتی ہے۔ خیر ملک میں پہلی سول حکومت ، جس کے سربراہ جناب نوابزادہ لیاقت علی خان تھے، انہوں نے مہاجروں کی آبادکاری ،اور زراعت کے ساتھ ساتھ صنعت کاری کا نعرہ لگایا، جس کے نتیجے میں میں صنعت و حرفت کے علاوہ زراعت میں وہ بنیاد پڑی جس کی بنا پر ایوب خان کے دور کو صنعت او ترقی کے لئے بہترین دور کہا گیا۔ ایوب کے پلاننگ کمیشن کے سربراہ ایم ایم احمد صاحب چوں کہ پراپیگنڈہ کے ماہر تھے اس لئے تاریخ کے لئے یہ بہت بڑا مغالطہ چھوڑ گئے کہ ’ایوب دور میں بہت ترقی ہوئی‘۔ اس کے بعد جب جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اور ملکی تاریخ کی دوسری سول حکومت برسر اقتدار آئی تو اس نے ’’روٹی کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ دیا۔ ان کی صاحبزادی نے پہلے دور حکومت میں ’’رنگ لائیگا شہیدوں کا لہو‘‘ کا بیانیہ دیا، جب کہ دوسرے دور حکومت میں ’شہیدوں کے لہو ‘ کے ساتھ ساتھ ’حقیقی جمہوریت کی بحالی ‘ بھی ان کا نعرہ لگایا اور اقتدار کو گھر کی لونڈی بنایا۔ جناب میاں محمد نواز شریف ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے ’ترقی‘ کو اپنا بیانیہ بنایا، جس کے نتیجے میں موٹرویز، ہوائے اڈے، صنعت کاری ہوئی اور بھٹو دور میں ’قومیانے‘ کے نام پر ہو جانے والی لوٹ مار کے نتیجے میں غائب ہو جانے صنعت کار خاندان نہ صرف دوبارہ منصہ شہود پر آئے بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں ’وسطی ایشیائی تک رسائی‘ کا منترہ بیچا اور موٹروے اسی منترے کا حصہ بنی۔ زرداری صاحب کی حکومت نے بھی ’بے نظیر شہید‘ کی شہادت بیچی اور یوں اپنے پانچ سال پورے کئے۔ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک ، جب بھی مارشل لائی شب خون ماراگیا تو’’سب کا احتساب‘‘ کا دلفریب نعرہ لگایاگیا، یہی بیانیہ ہلکی پھلکی ترامیم کے ساتھ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان، جنرل آغا محمد یحیٰ خان، مرد مومن ، مرد حق ، ضیا الحق اور بہادر کمانڈو پرویز مشرف کی حکومتوں کا بھی بیانیہ رہا۔ جناب عمران خان صاحب کی پہلی سول حکومت ہے جس نے کسی بھی ترقی یا عوام کے حقوق کی بحالی کی بجائے آمروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ’سب کا احتساب‘ کا نعرہ لگایا ہے، جو کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہورہا ہے، یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ بدل رہی ہے۔ احتساب کا نعرہ آمر تو اس لئے لگاتے ہیں کہ احتساب نامی چڑیا کے کارنامے ، ماپے نہیں جاسکتے۔ اور اگر اس محاذ پر کچھ نہ بھی ہو پائے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’ہم کیا کرتے؟ ہم تو پکڑتے تھے، عدالتیں چھوڑ دیتی تھیں‘۔ احتساب کے بیانئے کا حشر دیکھنے کے لئے آپ قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکرگی کا بنظر غائر جائزہ لے لیجئے۔ چند ارب روپے کی وصولی اور شور و غوغا، بڑھکیں، گالیاں، دھمکیاں ، اور میڈیا ٹرائل کھربوں روپے کے اور نیب میں بیٹھے ان ’’واجد ضیاوں ‘‘کی ان تمام حماقتوں کے نتیجے میں صنعت و تجارت سے اربوں روپے کی پرواز کے ساتھ ساتھ نیب میں کام کرنے والے کچھ لوگوں کے ذاتی اثاثوں میں دن دگنی، رات چوگنی ترقی۔ شائد ہر آمر کا یہی مطمع نظر بھی ہوتا ہے کہ جنہوں نے اسے اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچایا ہے وہ بھی اس سے پوری طرح مستفید بھی ہوں۔ ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ لاہور شہر میں ایک بہت بڑے (اور کامیاب) بھاری فیسوں والے کلینک چلانے والی، ہماری بڑی ہمشیرہ ، محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کو صوبائی وزیر صحت بنا دیا جائے؟ یہ تو سیدھا سیدھا مفادات کا ٹکراو ہے۔ وہ جتنی بھی ایمانداری سے کام کریں لیکن اعتراض تو ہو گا۔ لیکن اعتراض جائے بھاڑ میں اس وقت ہم احتساب میں مصروف ہیں اور ’’سوچی پئے آں ہن کیہ کرئیے‘؟

Share your Comments

comments