Home / Rizwan Razi Columns / امریکی وزیر خارجہ کا دورہ اور ہمارے بیانئے کی مراجعت

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ اور ہمارے بیانئے کی مراجعت

تحریر: رضوان الرحمن رضی 
ہمارے بیانئے اور بیانات ہماری پالیسیوں کے عکاس ہوتے ہیں۔ اکثر یہ حقیقت کے برعکس ہوا کرتے ہیں، یعنی جس چیز کا نعرہ ہم لگا رہے ہوتے ہیں، ہو اس کے بالکل الٹ رہا ہوتاہے۔ جیسے بہادر کمانڈو پرویز مشرف کے دور میں سابق امریکی یہودی وزیر خارجہ ہنری کسنجر سے گھڑوایا جانے والا بیانیہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘۔ اب آکر پتہ چلا کہ اس وقت عمل اس کے بالکل برعکس ہو رہا تھا۔ پاکستان کوئی بنانا ری پبلک بنا ہوا تھا اس کے عوام گاجر مولی ، جن کو حسب ضرورت خود قتل کیا جا رہا تھا اور جو مال قیمتی ہوتا اس کے دام کھرے کر لئے جاتے اور ڈھٹائی کی حد یہ کہ اس کا اعتراف بھی باقاعدہ کتاب لکھ کے کیا جاتا۔ پاکستان کی فضائی، بری اور بحری حدود کو دشمن ممالک روندتے پھرتے تھے اور اس امر کی اجازت دینے والوں کو باقاعدہ اس کام کی ادائیگی ’’کولیشن سپورٹ فنڈ ‘‘ کے نام پر کی جا رہی تھی۔ پھر جب ہر آمر کی طرح جناب پرویز مشرف صاحب پر بھی انکشاف ہوا کہ ’’ہماری بھی محلے میں کوئی عزت ہوتی ہے‘‘ تو ان کے پیچھے وکلا تحریک لگا کر ان کو فارغ کر دیا گیا اور نئی پارٹی کو اقتدار سونپ دیا گیا جس نے آتے ہی نعرہ لگایا کہ ’’دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے‘‘۔ یہ مطالبہ نما نعرہ جنرل کیانی صاحب کے پورے دو عدد دور ہائے میں گونجا اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے حساب کتاب لگا کرستر ہزار شہادتوں اور 134 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کو بھی اس منترے میں شامل کردیا۔ مطلب یہ تھا کہ ہم ڈومور تو کر رہے ہیں لیکن کم از کم ہمیں شاباش تو دی جائے اور ہمارے اس کام کا اعتراف کیا جائے۔ جناب راحیل شریف کی آمد تک یہ نعرہ جاری رہا ، لیکن انہوں نے آتے ہی کہا کہ اب ’’اب ہماری نہیں بلکہ دنیا کے ڈومور کرنے کی باری ہے ‘‘ اور یہ کہ اب ’’ ہم ڈو مور نہیں کریں گے اب دنیا ڈومور کرے‘ ‘۔ لیکن یہ کہے جانے کے باوجود وہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کا آپریشن بھی کر گئے اور اندرون ملک کئی دیگر آپریشنوں کی بنیاد بھی رکھ گئے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورے کے بعد ہمارے وزیر خارجہ کی طرف سے واضح طور پر فرمایا گیا کہ ’’ہم سے کسی نے ڈو مو ر کا مطالبہ نہیں کیا‘‘اور یہ کہ ’’دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے‘‘۔ اس کا مطلب تو واضح طور پر یہ ہے کہ ہم نے سفارتی محاذ پر یوٹرن لیتے ہوئے ماضی کی طرف منہ کر لیا ہے اور وہی جنرل کیانی کے دور والا بیانیہ اپنایا ہے کہ ’’دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اب دیکھئے یہ معاملہ ’سب سے پہلے پاکستان ‘ تک کب پہنچتا ہے کیوں کہ جس طرح کابینہ میں جناب جنرل پرویز مشرف صاحب کی باقیات کو چن چن کر متعین کیا گیا ہے تو اب کوئی دن جاتا ہے کہ ہمیں ’’سب سے پہلے پاکستان ‘‘ کا بیانیہ بھی جناب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے ہی سننے کو مل جائے ’’ورنہ ان کی آخری تقریر کا آخری فقرہ تو اپنی جگہ پر قائم ہی رہے گا کہ ’’پاکستان کا خدا ہی حافظ‘‘۔ 

Share your Comments

comments