Home / Urdu Columns / ہمیں پیا ر ہے پا کستان سے

ہمیں پیا ر ہے پا کستان سے

تحریر: ابراہیم مغل

جی ہا ں!’ ہمیں پیا ر ہے پا کستان سے‘ یہ وہ نیا پرومو ہے جو یو مِ د فاع و شہدا پر آئی ایس پی آ ر نے جا ری کیا ہے۔ آ ج ہم یو مِ فضا ییۂ پا کستا ن منا رہے ہیں اور گذ شتہ روز چھ ستمبر کو ہم نے یو مِِ دفا ع و شہدا منا یا۔ آئی ایس پی آر کا یہ پرو مو جا ری کر نا ضر وری ہی نہیں بلکہ نا گز یر ہو چکا تھا۔چھ ستمبر 1965 سے بھا رتی جار حیت کے نتیجے میں شر و ع ہونے والی سترہ رو زا طویل جنگ جس جذ بے سے پا کستانی فو ج نے ہر محا ز پر جیتی اس کے با رے میں کبھی دو را ئے نہیں رہی۔ یعنی ہمیں کسی کو با ور کر ا نے کی ضر ور ت ہی نہ ہوا کر تی کہ یہ جنگ ہم نے جیتی ہے۔ یہا ں تک کہ بھا ر تی شہر ی بھی اس امر سے متفق تھے کہ پا کستا ن یہ جنگ جیت چکا ہے۔لیکن پھر بھا رت کی چا نکیہ ذ ہنیت نے پر و پریگینڈے کا اس طو ر استعما ل کیا کہ آ ج ہمیں اپنی نئی نسل کو پھر سے اپنی اس جیتی ہو ئی جنگ کے مضمرا ت بتا نے پڑ جا تے ہیں۔بھا رت نے اس جنگ کے با رے میں کس کس طر ح پرو پیگنڈے کو اپنے حق میں استعما ل کیا یہ جاننے کے لیے قدرت اللہ شہاب کی لکھی ہوئی آب بیتی شہاب نامہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ یاد رہے کہ شہاب صاحب ان دنوں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر تھے۔
’’پاکستان پر حملے کی خبر میں نے ہالینڈ کے درالخلانہ ہیگ میں سب سے پہلے بی بی سی لندن کے ایک براڈ کاسٹ میں سنی۔ اس میں کہا گیا تھا ہندوستانی ہائی کمیشن لندن کے ایک اعلان کے مطابق برطانوی افواج نے لاہور پر قبضہ کرلیا ہے۔ میں نے فوراً ہالینڈ کے ریڈیو اور ٹی وی کے اداروں کو فون کیا اور درخواست کی کہ فوراً اس خبر کی تصدیق یاتردید کرکے مجھے مطلع فرمائیں۔ چند منٹ کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ بھارت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری نے لوک سبھا میں یہ اعلان کیا ہے کہ لاہور ہندوسانی فوج کے ہاتھوں ہاتھ میں آگیا ہے۔ یہ سنتے ہی عفت (شہاب کی اہلیہ) بے اختیار رونے لگی۔ میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں نے لپک کر دروازہ کھولا۔ باہر صوفی مشرف خان اور ان کے مرید صوفی WITTEVEEN کھڑے تھے۔ صوفیWITTEVEEN ایک عالم وفا ضل پروفیسر تھے جو ان دنوں ہالینڈ کی کا بینہ میں وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز تھے۔ اندر آکر وہ دونوں غمگینی کے عالم میں خاموشی سے سرجھکا کر بیٹھ گئے۔ عفت ان کی خاطر مدارت کے لیے ایک ٹرالی میں چائے وغیرہ کے لوازمات سجا کر آئی۔ صوفی مشرف خان بولے: ’’ بیٹی اس وقت کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا۔‘‘
عفت پھررونے لگی اور سسکیاں بھرتی ہوئی فرش پر بیٹھ گئی۔ صوفی مشرف خان اسے دلاسہ دینے اس کے پاس ہی زمین پر آبیٹھے۔ اپنے پیرومرشد کی پیروی میں ولندیزی وزیر صاحب بھی کرسی چھوڑ کر نیچے آبیٹھے۔ میں بھی انہی کے حلقے میں شامل ہوگیا۔ کچھ دیرہم یونہی خاموش اور غمگین زمین پر بیٹھے رہے۔ پھر اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ میرا جی نہ چاہا کہ میں اٹھ کر ٹیلیفون سنوں۔ اگر لاہور ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے تو اب نہ جانے کس دوسرے شہر کی خبر ہمارے کانوں میں پڑے۔ میں اسی شش وپنج میں تھا کہ ڈچ وزیر صاحب نے اٹھ کر ٹیلیفون سنا۔ پھر عربی میں الحمداللہ، الحمد اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے ہوئے میرے ساتھ لپٹ گئے اور بولے کہ ڈچ ریڈیو نے تحقیق کرکے بتایا ہے کہ لاہور کے متعلق بی بی سی کی خبر اور لال بہادر شاستری کا اعلان بالکل غلط اور جھوٹ ہیں۔ ہندوستان نے بغیر اعلان جنگ کے پاکستان پر حملہ ضرور کیا ہے لیکن پاکستانی افواج نہایت بہادری سے ہر محاذ پر ان کا بھرپور مقابلہ کررہی ہیں۔‘‘
قا رئین کرام ! ملاحظہ فرمایا آپ نے پروپیگنڈے کی طاقت۔ ہمارا ایک انتہائی اعلیٰ درجے کا سفیر، جو مغرب کے ایک ترقی یافتہ ملک میں تعینات تھا، آخر اتنے بڑے جھوٹ کو کیوں سچ سمجھ بیٹھا؟ اس جھوٹ کا جال بچھایا ہی اس انداز سے گیا کہ اسے وہاں ہر کوئی سچ ہی سمجھتا۔ پہلے تو لوک سبھا میں بھارتی وزیراعظم کا اعلان ، پھر بی بی سی جیسے مستند ادارے سے اس خبر کا نشر ہونا۔ یوں اس سے انکار کی گنجائش کہاں رہ گئی تھی۔ قدرت اللہ شہاب تو چونکہ ایک سفیر تھے، لہٰذا انہوں نے تو اپنے دستیاب وسائل سے اصل حقیقت کا ادراک کرلیا۔ ذرا سوچئے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں جنہیں 23 مختلف زبانوں میں یہ خبر بہم پہنچائی گئی تھی۔ اب سنیے پاکستان کے اندر پیش آنے والی روئیداد کے بارے میں۔ دن کے گیارہ بجے کے قریب صدر ایوب نے ریڈیو کے ذریعے اچانک قوم سے خطاب کیا اور رات کے آخری پہر میں وطن عزیز پہ بھارتی شبخون کے بارے میں بتایا۔ پھر کیا تھا، پورے ملک کے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔میں خود اس وقت ایک طالب علم تھا۔ لوگوں کی میٹنگز شروع ہوگئیں۔ یہ میٹنگز، ڈرائنگ رومز وغیرہ میں نہیں ہورہی تھیں۔ یہ تو گلیوں میں، چوکوں میں کسی کے گھر کے سامنے کھڑے ہوکر ہورہی تھیں۔ ادھر لاہور میں داتا صاحب سے لوگوں کا جلوس شروع ہوا۔ انہوں نے ڈنڈے سوٹے پکڑے ہوئے تھے۔ جوں جوں یہ جلوس سرکلر روڑ سے واہگہ ، اس سے پہلے لاہور ریلوے اسٹیشن کی جانب آگے بڑھ رہا تھا، لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے جوق درجوق اس میں شامل ہوتے جارہے تھے۔ ان سب کا مقصد اپنے فوجی بھائیوں کی مدد کرتے ہوئے بھارتی سپاہیوں سے دوبدو نپٹنا تھا۔ تاہم بڑی مشکل سے سمجھا بجھاکر جلوس کو منتشر کیا گیا۔ لوگ اور خاندان اپنی دشمنیاں اور لڑائیاں بھلا کر ر و تے ہوئے ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے کہ اب سب کا دشمن سانجھا تھا۔
اب یہ واقعہ سرگودھا ایئر بیس کے کمانڈر نے بیان کیا تھا کہ رات کو ایئر فورس کی جانب سے مسجدوں سے اعلان کرایا گیا کہ ایربیس پر ہمارے فوجیوں کی آمد کی بناء پر بستر اور چادریں کم پڑگئیں ہیں۔ مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ فالتو بستر اور چادریں ایئربیس پر پہنچائیں۔ کمانڈر صاحب کا بیان ہے کہ کچھ دیر میں جب میں باہر نکلا تو دیکھا کہ تاحد نظر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں ، تانگوں اور سائیکلوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ ہماری ضرورت تو محدود تھی، مگر یہاں تو لاامحدود تعداد میں لوگ نئے خریدے گئے بستر اور چادریں لیے موجود تھے۔ اپنی ضرورت سے زیادہ ہم مشکل سے مزید کچھ اور اپنے پاس رکھ سکتے تھے ، لیکن یہاں تو مسئلہ ہزاروں لاکھوں میں تھا۔ ہم نے منت سماجت کرکے لوگوں کو واپس جانے کا کہا۔ مگر وہ تو ہم سے لڑنے لگے کہ فلاں سے کیوں لے لیے ہیں، ہم سے کیوں نہیں لیتے۔ وہ رورہے تھے۔ انہیں روتا دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ میں جان چکا تھا اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دی سکتی۔
مانتا ہوں کہ جنگ عمومی طور ہرگز اچھی چیز نہیں۔ لیکن کیا کہیں گے آپ کسی قوم پہ مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں۔ آج جو بقراط میڈیا کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ستمبر 65ء کی جنگ معمہ ہے، کیوں لڑی گئی؟ ملک کو اس سے مزید پسماندگی کے سوا کیا ملا؟ ان سے دست بستہ نہیں، بلکہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہوں کہ ستمبر 65ء کے سے حالات میں جنگ سے دامن بچانا بزدلی ہی نہیں بے غیرتی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ حالات کیا تھے؟ گو وہ اتنے ڈھکے چھپے بھی نہیں۔ لیکن چونکہ کالم کی طوالت اجازت نہیں دیتی کہ اس پہ تبصرہ کروں۔ البتہ نام نہاد بقراطیوں سے ضرور یہ کہوں گا کہ ستمبر 65ء کی جنگ کے خلاف بولتے ہوئے یہ ضرورغور کرلیں کہ ان کا پیغام کہیں بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ تو نہیں؟
لہذا آئی ایس پی آر نے بجا طور پر وقت کی ضر ورت کو محسو س کر تے ہو ئے ’ہمیں پیار ہے پاکستان سے‘ کا پر و مو جا ری کیا ہے۔ اس با رے وہ مبا رک با د کی مستحق ہے۔

Share your Comments

comments