Home / Urdu Columns / جنگ ستمبر کی یادیں

جنگ ستمبر کی یادیں

مکالمہ 
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان میں کتاب لکھنے کے رجحانات میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔لیکن اچھی او ر معیاری کتب لکھنا او راس کو پڑھنے کے لیے پیش کرنا اہم کام ہے ۔بعض اوقا ت بہت اچھی کتابیں پڑھنے کو ملتی ہیں تو معلومات،سوچ اور فکر کے نئے زوایوں کو سمجھنے اور پرکھنے میں مدد ملتی ہے ۔ حال ہی میں معروف دانشور، محقق، صحافی ، تجزیہ نگار او رکالم نگار مدیر اردو ڈائجسٹ الطاف حسن قریشی کی کتاب ’’ جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ پڑھنے کو ملی ۔ الطاف حسن قریشی پاکستان کے سیاسی ،ساجی اور علمی وفکری حلقوں میں ایک ممتاز دانشور اور مدبر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں جن ڈائجسٹوں کو پڑھنے کا شوق تھا ان میں اردو ڈائجسٹ پیش پیش ہوتا تھا ۔ بالخصوص اداریہ کمال کا ہوتا تھا۔
الطاف حسن قریشی نے اپنی نئی کتاب ’’ جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ ایک ایسے وقت میں مرتب کی ہے جب پاکستان بطور ملک یا ریاست انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ۔بنیادی طور پر الطاف حسن قریشی کی یہ کتاب ان تحریروں پر مشتمل ہے جو معرکہ ستمبر 1965میں ان کے قلم سے ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوچکی ہیں۔ان تحریروں میں وہ حقیقی فضا پائی جاتی ہے جو آج بھی ہمارے اندر ایک نئی امنگ اور ایک نیا عزم پیدا کرتی ہے ۔ بالخصوص ہماری نوجوان نسل کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے او رماضی کے ان اوراق سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے جو ہماری سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہے ۔
الطاف حسن قریشی کے بقول ان کی یہ تحریریں تین حصوں پر مشتمل ہیں جن میں او ل ہماری افواج کا عظیم جذبہ ، دوئم فوج اور عوام کے مابین اعتماد کے گہرے رشتے او رسوئم قومی یکجہتی کے ناقابل فراموش مناظر شامل ہیں ۔ان کے بقول مجھے دوران جنگ تقریبا سب ہی محاذوں پر دشمن کے سامنے افواج پاکستان کے سینہ سپر ہوجانے کے حیرت انگیز واقعات کو سننے کا موقع ملااو راسی کی بنیاد پر قابل رشک ملکی یکجہتی ، دفاع پاکستان کی ایک روشن علامت او رایک حیات افروز استعارہ تخلیق ہوا تھا ۔ہم اسی ذمدہ علامت کو بروئے کار لاکر ایک نئے شعور سے اپنا مستقبل محفوظ بناسکتے ہیں ۔
الطاف حسن قریشی کہتے ہیں کہ پہلی بار جنرل ضیا الحق مرحوم نے جنگ ستمبر کی مستند تاریخ مرتب کروانے پر توجہ دی ۔چنانچہ
میجر جنرل شوکت رضا کی کتاب The Pakistan Army War 1965منظر عام پر آئی جو آرمی ایجوکیشن پریس نے 1984میں شائع کی ۔یہ ایک اعلی پائے کی تحقیقی و تنقیدی تصنیف ہے جس کے مطالعے سے بہت سار ے چھپے گوشوں کا پتہ چلتا ہے ۔یہ نایاب کتاب مجھے اپنے انتہائی عزیز دوست بریگیڈئر صولت رضا نے فراہم کی تھی ۔اسی طرح جنگ ستمبر پر ایک بہت مفصل کتاب لیفٹیننٹ جنرل )ر(محمود احمد نے عشروں کی تحقیق کے بعد شائع کی جسے سروسز بک کلب نے 2006میں History of indo- Pak War -1965شائع کیا ۔بریگیڈئر طاہرمحمود نے میری خواہش پر پاک افواج کے تاریخ دان او رمحقق Brain Cloughleyکی نہایت فکر انگیز کتابA History of the Pakistan Army : Wars & Insurrectionsپیش کی جس کے مطالعے سے ایک وسیع اور تاریخی تناظر میں جنگ ستمبر کے مختلف پہلووں کو سمجھنے کا موقع ملا ۔ 
دلچسپ با ت یہ ہے کہ جنگ ستمبر کے ایک برس کے بعد غیرملکی جریدوں میں اس جنگ پر شائع شدہ تبصرے آئی ایس پی آر نے Indo Pak War 1965- A Flashback میں یکجا کردیے ہیں ۔ ان غیر ملکی تبصروں او ر خبروں میں پاکستان کی بہادر فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیاہے جو الطاف حسن قریشی نے اس کتاب میں مختلف حوالوں کے ساتھ یکجا کردیا ہے ۔ان کے بقول ان اقتباسات سے ایک اجمالی تصویر ابھرتی ہے جس میں بھارت ایک جارح کے طور پر سامنے آیا ہے او رپاکستان کی اخلاقی اور عسکری طاقت کودنیا نے تسلیم کیا ہے ۔الطاف حسن قریشی نے اس کتاب کی تیاری میں اپنے پوتے ایقان حسن قریشی کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس کتاب کی تیاری میں ان کی مدد کی ہے ۔
کتاب کے صفحہ 15پر ’’تصادم کے بنیادی محرکات ‘‘ پر الطاف حسن قریشی نے لکھا ہے کہ ’’ جنگ ستمبر 1965میں لڑی گئی ، مگر اس کے اسباب و علل ایک صدی پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ ہندو او رمسلما ن تقریبا بارہ سو سال مختلف حیثیتوں میں اکھٹے رہے ہیں او رزندگی کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے متاثر بھی ہوئے ۔تاہم ان کے تصور کائنات، مجلسی آداب، تاریخ کی تعبیراور سیاسی خدوخال میں جو گہرے اختلافات پائے جاتے تھے ، ان کے باعث وہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہے ۔بدقسمتی سے انگریزوں کے دور حکومت میں یہ اختلافات دشمنی کی شکل اختیا رکرگئے ،حالانکہ مسلم قیادت نے ہر تاریخی مرحلے پر بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ۔تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ مسلم حکمران بہت فراخ دل واقع ہوئے تھے ۔بھارتی جمہوریہ کے پہلے صدر جناب راجندر پرساد نے حقیقت کا اعتراف کیا کہ مسلم فاتحین کا طرز عمل بحثیت مجموعی رواداری کا آئینہ دار تھا ۔‘‘
کتاب کے صفحہ 64پر الطا ف حسن قریسی لکھتے ہیں کہ ’’ مجھے 1965کے آخر میں میجر جنرل سرفراز خان سے انٹرویو لینے کا موقع ملاجو اردو ڈائجسٹ کے شمارے فروری 1966میں شائع ہوا ۔انہوں نے لاہور محاذ پر پیش آنے والے مشکل ترین واقعات کا زکر کیا او رفوجی افسروں اور جوانوں کے کارہائے نمایاں بیان کیے ۔میں نے ان سے پوچھا کہ ہماری فوج نے جس بے مثل جاں فروشی کا ثبوت دیا ہے ، اس کے پیچھے کون سے محرکات تھے ۔ان کا جواب تھا کہ میں پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ یہ جان فروشی جذبہ ایمانی کے بغیر ممکن نہ تھی۔ ہم ایک بامقصد جنگ لڑرہے تھے او رہمیں اللہ کی ذات پر مکمل اعتماد تھا۔‘‘
اسی طرح اسی صفحہ پر مصنف لکھتے ہیں کہ ’’ جنگ کے دوران میرے سامنے یہ حقیقت بار بار سامنے آتی رہی کہ غلامی کی زنجریں خون کی دھاری سے کٹ سکتی ہیں ۔او رپھر یہ سبق سیکھا کہ پیش قدمی کرتے وقت دشمن کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دینا چاہیے ، او راگر جنگ مدافعت میں لڑی جارہی ہو ، تو اس وقت تک پوزیشن نہیں چھوڑنی چاہیے جب تک ایک گولی موجود ہو۔جنگ اچھی تو نہیں ، لیکن غلامی اور جنگ میں اگر کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے ، تو میں جنگ کو ترجیح دوں گا۔‘‘
الطاف حسن قریشی صفحہ 215پر لکھتے ہیں کہ ’’ کراچی میں نیوی شفا ہسپتال میں ڈاکٹر نعیم خالد سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بتاو لاہو رکیسا ہے ۔میں نے کہا کہ ’’ لاہو ربدل چکا ہے ۔ جو بچے کبھی بازاروں او رگلیوں میں گانا گایا کرتے تھے اب وہ قومی نغمے الاپتے ہیں ۔ایک دوکاندار نے غلطی سے سیلون لگادیا تو قیامت برپا ہوگئی ، دوکاندار شرم سے پانی پانی ہوا جاتا تھا او ربچوں کا جوش و خروش کم نہیں ہوتا تھا ۔پہلے طلبہ کا موضوع گفتگو یہ ہوتا تھا کہ ان کو ایک بڑا افسر بننا ہے ۔اب وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم وطن عزیز کی زیادہ سے زیادہ کیسے خدمت کرسکتے ہیں۔کہیں شہری دفعہ کی تربیت لے رہے ہیں اور کہیں رائفل کلب میں بازو آزمارہے ہیں ، کہیں رفاہی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ، سب سے بڑی بات کہ ہر شخص وطن سے والہانہ محبت کرنے لگا ہے ۔
الطاف حسن قریشی نے جنگ ستمبرکی یادیوں کو اس انداز سے یکجا کیا ہے کہ وہ ہمیں کتاب کے مطالعہ سے جنگ ستمبر کے میدان میں عملی طور پر لے جاتے ہیں او ران تاریخی واقعات سے روشناش کرواتے ہیں جو ہم میں سے بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں ۔ جنگ ستمبر کے حوالے سے یہاں بہت سے فکری مغالطے بھی پیش کیے جاتے ہیں لیکن قریشی صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے واقعات او رشواہد کے ساتھ پاکستان کی فوج او ران کے جوانوں کی بہادری اور مشکل حالات پیش کیے ہیں جو دوران جنگ سامنے آئے اور مقدمہ کو دلیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ان کے بقول اس جنگ میں ہمارے میڈیا اور بالخصوص ریڈیو پاکستان پر چلنے والے نورجہاں سمیت دیگر لوگوں کے ملی نغمے او رترانوں نے قوم اور جوانوں کو حقیقی طور پر بیدار کیا ۔عمومی طو ر پر کہا جاتا ہے کہ جنگ صرف فوج نہیں بلکہ قوم لڑتی ہے او ر1965کی جنگ میں یہ منظر بخوبی دیکھا جاسکتاہے ۔ مجھے یاد ہے کہ ا س وقت کے بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیاتھاکہ جو جذبہ او رجنوں اور عملی مظاہرہ ہمیں جنگ لڑنے کا پاکستان کی فوج میں دیکھنے کو ملا وہ قابل دید تھا ۔
الطاف حسن قریشی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے قوم کے سامنے ستمبر 1965کی جنگ کی لازوال کہانی اپنے لفظوں میں پیش کرکے ایک بڑی خدمت کی ہے ۔ نئی نسل اگر اس کتا ب کو پڑھ سکے تو یہ ان کی معلومات اور قوم سمیت فوج کے عظیم کردار کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی ۔

Share your Comments

comments