Home / Urdu Columns / بیگم کلثوم نواز

بیگم کلثوم نواز

تحریر: انعام الحق

‘ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے ” سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گردش کرتا یہ فقرہ جہاں ہمارے معاشرتی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا مظہر ہے وہیں کچھ ماہ پہلے ہونے والی ایک منظم سیاسی مہم کی طرف اشارہ کرتا ہے. ایک ایسی مہم جس کے ذریعے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے کے لیے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے بارے میں طرح طرح کی من گھڑت اور لایعنی قسم کی باتیں سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں.جن میں ان کی بیماری کو ڈھونگ قرار دیا گیا اور ساتھ یہ بھی پھیلایا جاتا رہا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے ان کی موت کو ان کے شوہر اور ان کی بیٹی اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کریں گئے تا کہ ان کو ہمدردی کا ووٹ مل سکے وغیرہ وغیرہ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی محترمہ کلثوم نواز صاحبہ نہ صرف علیل تھیں بلکہ ایک طویل عرصہ وینٹیلیٹر پر زندگی اور موت کے درمیان جھولتی رہیِں. مگر بے رحم سیاست کے شہسواروں اور مفاد پرست ابلاغی جتھ داروں کی ڈھٹائی کا لیول ملاحظہ فرمائیں جنہوں نے خامہ فرسائی کا سلسلہ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ مین سٹریم میڈیا پر بھی جاری رکھا جس میں ”تجربہ کار” اور نا تجربہ کار ہر قسم کے سیاستدان، تجزیہ کار اور اینکرز اپنے مفادات کے مطابق حصہ ڈالتے رہے.
سیاست میں مخالفت اوراختلاف رائے سب کا حق ہے مگر اختلاف دلیل کے ساتھ کیا جانا چاہیے نہ کہ اخلاقی گراوٹ اور بہتان تراشی سے. مگر نواز شریف کے خلاف مہم چلانے والے سیاسی مخالفین کے لیے شاید یہ باتیں معنی نہیں رکھتیں. ان سایسی قوتوں کا مطمع نظر شاید یہی تھا کہ اپنے احذاف کے حصول کو ممکن بنایا جائے چاہے اس کے لیے جتنا مرضی دروغ گوئی سے کام لیا جائے. غالبا کچھ ایسی ہی سوچ کارفرما تھی جس کے تحت بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو لے کر پروپگینڈہ کیا گیا اس بات سے قطع نظر کہ اپنی مختصر سیاسی جدوجہد میں محترمہ کس اعلی کردار اور اقدار کی حامل رہی ہیں جنہوں نے اپنے مختصر سیاسی سفر میں بدترین مخالفین کے خلاف بھی کبھی نازیبا الفاظ کا استعمال نہیں کیا. بیگم کلثوم نواز ایک تعلیم یافتہ گھرانے کی پڑھی لکھی اور سلجھی خاتون تھیں.
آپ 1950 میں ڈاکٹر محمد حفیظ کے گھر پیدا ہوئیں، محترمہ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ البنات سے حاصل کی، اس کے بعد لیڈی گریفن اسکول سے میٹرک کیا، ایف ایس سی اسلامیہ کالج اوربی ایس سی ایف سی کالج لاہور سے کی۔ آپ نے ایم اے پنجاب یو نیورسٹی سے کیا. بیگم کلثوم نواز کی شادی اپریل 1971ء میں نواز شریف سے ہوئی.ایک صنعتی اور سیاسی خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود بیگم کلثوم نواز طبعا ایک گھریلوخاتون تھیں جن کی زندگی کا محوران کا گھراورخاندان تھا.تین دفعہ پاکستان کی خاتون اول رہنے والی کلثوم نواز مواقع ہونے کے باوجود بھی سیاست میں متحرک نظر نہیں آیءں تا آنکہ کہ اس کی ضرورت نہ آن پڑی ہو.
کار زارسیاست میں ان کی آمد اس وقت ہوئی جب جنرل پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا اور نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں جیل بھیج دیا اس موقع پرپہلی دفعہ بیگم کلثوم نواز نے اپنے شوہر اور خاندان کی رہائی کے لیے عملی سیاست میں حصہ لیا اورنواز شریف کی رہائی کی مہم چلانے کے لئے کلثوم نواز سیاسی میدان میں سرگرم ہوئیں۔
22 جون 2000ء میں انہیں مسلم لیگ ن کی قائم مقام صدر بنا دیا گیا اور وہ 2 سال تک پارٹی کی صدارت کرتی رہیں۔نواز شریف کی گرفتاری کے خلاف انہوں نے کاروان تحفظ پاکستان ریلی نکالنے کا فیصلہ کیاجس کی بناء پر انہیں 8 جولائی 2000 کو نظر بند کر دیا گیامگر بیگم کلثوم نواز چند لیگی کارکنوں کے ہمراہ جیل روڈ انڈر پاس پہنچ گئیں جہاں سے پولیس ان کی گاڑی کو کرین کے ذریعے جی او آر لے گئی اور وہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا مگر آپ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹی رہیں۔ بیگم کلثوم نواز کی کوششیں رنگ لائیں اور نوازشریف کو رہائی ملی اور شریف خاندان کو جدہ بھیج دیا گیا.جلا وطنی کے بعد محترمہ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی توجہ وآپس گرہستی اورخاندان کی طرف مبذول کر لی. تین بارخاتون اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز کی زندگی پاکستان کیسیاسی نظام کی طرح نشیب و فراز کا شکار رہی لیکن وہ ڈٹ کر اپنے شوہر میاں نواز شریف کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور ہر مشکل کا مردانہ وار مقابلہ کیا. 2007ء میں وطن واپسی کے بعد بھی وہ سیاست سے دور رہیں۔ 2013ء میں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم اور کلثوم نواز تیسری بار خاتون اول بنیں لیکن پھر بھی سیاست میں متحرک نظر نہ آئیں۔
جولائی 2017ء میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد بیگم کلثوم نواز کو ان کی خالی نشست این اے 120 سے ضمنی انتخاب لڑانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن انتخابات سے قبل ہی بیگم کلثوم نواز علیل ہو گیءں اور ان کو اگست دوہزار سترہ میں علاج کی غرض سے لندن لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے ان کو گلے کا کینسر تشخیص کیا جس کا ہارلے سٹریٹ کلینک لندن میں علاج شروع کر دیا گیا. ان کی متعدد سرجریز اور کیموتھراپیز ہوئیں مگر وہ اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکیں اور گیارہ ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو خالق حقیقی سے جا ملیں.

Share your Comments

comments