Home / Rizwan Razi Columns / بیگم کلثوم نواز کی نیکی

بیگم کلثوم نواز کی نیکی

خاتون آہن، کلثوم نواز، اپنے تمام خاندان کو سوگوار چھوڑ کر سفر آخرت پر روانہ ہو گئیں۔ ان کے خاندان کے جس جس فرد سے بھی ، جس جس کا بھی کوئی تعلق، رشتہ یا رابطہ تھا ، اس کا دل بھی غم میں ڈوب گیااور ظاہر ہے پاکستان کے مقبول سیاسی راہنما ، میاں محمد نواز شریف کو زنداں میں جب اپنی نصف بہتر کے غم نے نڈھال کیا تو ان کو اپنی امیدوں اور آرزووں کا مرکز سمجھنے والے کروڑوں پاکستانیوں نے بھی دل میں اس کسک کو محسوس کیا اور یوں یہ غم انفرادی نہیں بلکہ قومیسوگ میں بدل گیا۔ ویسے بھی عشرہ غم کا آغاز ہے اور یوں یہ غم دو آتشہ ہوا چاہتا ہے۔ کسی بھی افتاد اور مصیبت کے خلاف مزاحمت ، استاد گاما پہلوان کی نواسی کے خون میں تھی لہٰذا وہ اس موذی مرض سے آخر تک خوب لڑیں۔ گذشتہ دنوں جناب عبدالرزاق صاحب نے شریف میڈیکل سٹی میں یاد فرمایا، حاضر ہوا ، تو ادھر اُدھر کی باتوں کے درمیان یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ مرحومہ نے علاج کے لئے روانہ ہونے سے پہلے (جو کہ ان کا سفر آخرت ثابت ہوا) ان کو طلب کیا اور استفسار کیا کہ شریف میڈیکل سٹی میں کینسر کا علاج کیوں نہیں ہوتا۔ انہیں جب فنڈز کی فراہمی کی وجہ بتائی گئی تو انہوں نے فوراً ایک خطیر رقم ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ، بسم اللہ کیجئے ، اللہ برکت ڈالے گا۔ ساتھ میں یہ اصرار بھی کیا کہ میری واپسی تک یہ علاج شروع ہو چکا ہونا چاہیے۔ اب جب کہ وہ منوں خاک اوڑھ کے جاتی عمرہ میں ہمیشہ کے لئے آرام کرنے واپس تشریف لا رہی ہیں تو ان کی روح کو اطمینان تو ہوگا کہ نہر کی دوسری طرف واقعہ ، شریف میڈیکل اینڈ ایجوکیشن سٹی کے ہسپتال میں خواتین کے کینسر کا مفت علاج شروع ہو چکا ہے۔ مرحومہ کی خواہش تھی کہ ان کی اس نیکی کی تشہیر نہ کی جائے ، اس لئے ان کی خواہش کے احترام میں اس سہولت کے اجرا کا اشتہار تک نہیں دیا گیا، بالکل اسی طرح جیسے حسین نواز اور مریم نواز شریف کی طرف سے مفت اوپن ہارٹ سرجری کا اشتہار کبھی نہیں دیا گیا۔ کسی نے اس موقع پر کیا خوب کہا کہ ہم جھوٹوں کے ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں کہ جہاں اپنی بیماری کا یقین دلانے کے لئے بندے کو جان دینی پڑتی ہے۔کاش وہ یہ کہہ کر پلٹ آئیں کہ جانے کا فیصلہ’’میرا سیاسی بیان تھا‘‘۔لیکن قضا کا فرشتہ اپنی کارروائی پوری کر چکا۔ مشرف کو للکارنے والی وہ توانا آواز اپنے رب کے پاس پہنچ گئی، جب کہ پرویز مشرف اب بھی دنیا کے چوراہے میں ، رعشے کے مریض کے طور پر کانپتے ہاتھوں کے ساتھ پڑا ہے، اور زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبر ت نگاہ ہو۔ 

Share your Comments

comments