Home / Rizwan Razi Columns / حکومت نے عوام کے لئے مہنگائی ڈیم کا سپل وے کھول دیا۔

حکومت نے عوام کے لئے مہنگائی ڈیم کا سپل وے کھول دیا۔

تحریر: رضوان الرحمٰن رضی

پہلے ہاں پھر ناں اور پھر ہاں کی گردان کرتے ہوئے نئی حکومت نے آخر کار مہنگائی ڈیم کا پہلا ’’سپل وے ‘‘کھول دیا۔ پانچ ہزار سے زائد پرتعیش درآمدی اشیا پر اضافی ٹیکس لگانے کا انقلابی اعلان کردیا گیا ہے۔ لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ٹیکسوں کے اثرات پر تعیش اشیا تک محدود نہیں رہتے اور بالآخر یہ عام آدمی تک پہنچ کے رہتے ہیں۔ درآمدات کو محدود کرنے کے لئے ایل جی پر پچاس فی صد کیش مارجن پہلے ہی لاگو ہے، جس کے باعث صنعت نے خام مال کے لئے ایل سی کھولنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے کہ جب تک حکومتی پالیسی واضح نہیں ہوجاتی، تب تک آرام کیا جائے یا پھر کسی ٹھنڈے مقام پر جا کر جاتی گرمی کہ بہاریں دیکھی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر پیدا ہونے والی قدرتی گیس کے نرخ بھی درآمدی ایل این جی کے برابر کر دئیے گئے۔ جی ہاں! جو پی ٹی آئی کے بقول دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین سودا تھا ، اور جس پر جناب شیخ رشید (ٹرین حادثہ استعفی والے) نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا اور ناکام و نامراد لوٹے تھے۔ وہی معاہدہ جس کے تحت دنیا کی مہنگی ترین ایل این جی پاکستان میں آ رہی تھی، اس کو معیار بنا کر پاکستان میں مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس کو دنیا کی مہنگی ترین ایل این جی کے برابر کردیا گیا۔ گیس کو ماپنے کے لئے ’ایم ایم بی ٹی یو‘ کی اکائی استعمال کی جاتی ہے جو کہ ’ملین ملین کیوبک فٹ‘ کا مخفف ہے۔ اپنی طرف سے وزیر پیٹر ولیم نے چالاکی سے یہ کہ اکائی بولتے ہوئے اس کا ایک ’ایم‘(ملین) غائب کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عام صارف کے لئے اضافہ تو چند روپے ہوگا۔ یہ بددیانتی اور کذب بیانی کے ضمن میں آتا ہے۔ جب کسی بھی مادے کو ماپنے کے لئے معیاری اکائی موجود ہے تو قیمتوں میں اضافے اور کمی کو بھی اسی پیمانے پر ماپا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ دودھ کے پچاس گرام پر صرف ایک روپے اضافہ ہوا ہے، اضافہ لیٹر پر ہی ماپا جائے گا۔ اس طرح اگر جناب وزیر صاحب کی دروغ گوئی کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو صارفین کو سوا تین سو روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ملنے والی گیس اب سات سو روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ملے گی اور اس میں لگنے والے دیگر حکومتی ٹیکس اس کے علاوہ ہوں گے۔ کھاد ساز اداروں کے لئے خاص نظر کرم ہے ان کو یہی گیس ۱۳۱ روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ملتی رہے گی۔ میاں نواز شریف کی حکومت نے پورے چار سال اس اضافے کی مزاحمت کی تھی کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سودرن گیس پائپ لائن کمپنی (ایس ایس جی سی) اپنی گیس چوری پر قابو پائے جو کہ بیس فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق گیس کی صرف تین فی صد لیکیج قابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ میاں نواز شریف کا خیال تھا کہ اگر اس میں سے آدھی چوری بھی رک جائے تو گیس کے نرخ بڑھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن ایسا اس لئے نہ ہوسکا کیوں کہ گیس چوروں کے خلاف ایکشن مقامی پولیس کے تعاون کے بغیر ہو نہیں سکتا تھا اور کے پی کے اور سندھ کی حکومتیں اس ضمن میں تعاون کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ ظاہر ہے اسی لئے پنجاب میں سی این جی اسٹیشن بند ہو گئے جب کہ کے پی کے اور سندھ میں آج بھی دھڑلے سے چل رہے ہیں۔ 
مزید برآں کے الیکٹرک ، سوئی ساودرن گیس کمپنی کی پچاسی ارب روپے کی گیس لے کر ڈکار مار گئی تھی جس کی برآمدگی میں سندھ حکومت رکاوٹ تھی اور ہے۔ لیکن یہ تقریبا دوسو ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے۔ عوام کو تبدیلی کی پہلی چسکی مبارک ہو

Share your Comments

comments