Home / Rizwan Razi Columns / میاں نوازشریف کے خاندان کی رہائی

میاں نوازشریف کے خاندان کی رہائی

تحریر: رضوان الرحمٰن رضی

میاں نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور ان کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر اعوان کو اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے ضمانت پر رہا کردیاہے۔ میاں نوازشریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے دس سال، مریم نواز شریف کو سات سال اور کیپٹن صفدر اعوان کو ایک سال قید کی سزا مالیاتی جرائم کے الزام میں سنائی گئی تھی۔ مروجہ قانونی طریق کار کے مطابق السر (معدے کے کینسر) کے مریض ، کیپٹن صفدر کی با آسانی ضمانت ہو سکتی تھی لیکن انہوں نے اپنے وکلا کو ہدائت کر رکھی تھی کہ جب تک ان کی بیگم اور سسر کی ضمانت نہ ہو جائے، وہ جیل سے باہر نہیں آئیں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق مالیاتی جرائم کے سزا یافتہ مجرموں کو جب سزا بھی سنائی جاتی ہے، تو ساتھ میں ہی ان کی سزا معطل کرکے ان کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپیل کرکے اپنی سزا معطل کروانے کے لئے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکیں۔ تاہم بوجوہ یہ قانونی رعائت جو ہر مجرم کو دستیاب ہوتی ہے، وہ تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نوازشریف کے لئے فراہم نہ کی جا سکی۔ ان کے حامی عدالت کے اس فیصلے پر شاداں و فرحاں ہیں جب کہ ان کے مخالفین اس کو کسی معاہدے سے جوڑ رہے ہیں کیوں کہ عدالتی فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کے سیاسی حریف اور وزیراعظم پاکستان ، عمران خان دوست ملک سعودی عرب کے دورے پر جب کہ پاک فوج کے سربراہ ، جنرل قمر جاوید باجوہ دوسرے دوست ملک چین کے دورے پر ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین کے صدر کا یہ پروٹوکول نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کی فوج کے سربراہ سے ملیں۔ تاہم اس دورے میں خاص طور پر چینی صدر ژی پنگ کی پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کو بھی اس حوالے سے خاص معنی پہنائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ سزا بے بنیاد اور مفروضوں کی بنیاد پر سنائی گئی تھی اور اس لئے جیسے ہی اس فیصلے کو جرح کی ہلکی سی آنچ پہنچی تو موم کا یہ پتلا بیچ چوراہے پگھل گیا۔ نیب کے جس ریفرنس میں سزا ہوئی ہے وہ احتساب کے ادارے نے سپریم کورٹ کے کہنے پر داخل کیا تھا، اور احتساب عدالت کے جج کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ ایک جج کر رہے تھے۔ اسی لئے نیب نے ریفرنس کی تیاری میں نہ تو کوئی محنت کی اور نہ ہی کوئی تفتیش۔ ویسے بھی سپریم کورٹ کے جج صاحبان فرما چکے تھے کہ یہ ایک ’’اوپن‘‘ اینڈ ’’شٹ‘‘ کیس ہے یعنی جو بھی عدالت اس مقدمے کی سماعت کرے گی، اس عدالت کو اس الزام میں سزا دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور احتساب عدالت میں یہ ہوا بھی۔ لیکن جیسے ہی یہ مقدمہ روائتی عدالت میں پہنچا ، تو وہاں بات نہ بن سکی۔ میاں نوازشریف حال ہی میں اپنی شریک سفر کی رحلت کے صدمے سے گذرے ہیں۔ اوپن ہارٹ سرجری سے گذرنے والے میاں محمد نوازشریف کی دل کی جراحی کے حوالے سے معاملات بھی دگرگوں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محرم اور صفر کے مہینے بھی چل رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی دنوں میں ضمنی انتخابات کا ڈول بھی ڈالا جائے گا۔ آئندہ دنوں میں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کی سیاسی حرکیات اس بات کی تصدیق یا تردید کریں گی کہ رہائی کسی غیر ملکی دباو کا نتیجہ ہے یا پھر چوں کہ ان کو جیل میں ڈالنے کے جو مقاصد تھے ، یعنی کہ عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقرری، وہ حاصل ہوگئے تھے، اس لئے ان کو جیل میں رکھنا اب کار لاحاصل تھا، اس لئے ان کو رہائی دے دی گئی۔ 

Share your Comments

comments