Home / Urdu Columns / جمہوریت اور سیاستدان

جمہوریت اور سیاستدان

تحریر: ابراہیم مغل
ہم پاکستانیوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی عام سی بات جس کے گرد خوبصورت لفظوں کا جال بن دیا گیا ہو، ہم اس پے جھٹ سے ایمان لانے اور پھر اسے ترت آگے پھیلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ دنیا کی وہ قوتیں جو کسی طور پر بھی اپنا مقصدحاصل کرنے پہ یقین رکھتی ہوں، ہماری اس کمزوری کو اچھی طرح پہچان چکی ہیں۔ ہماری اس کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے لیے وہ اپنے پروپیگنڈے کو بروئے کار لاتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ مملکت خداداد پاکستان جو دو قومی نظریئے کی اساس پر قائم ہوا ہے، اس کی اصل بنیاد جمہوریت ہے۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کو کمزور کرنا اس کی جمہوریت کی بنیادیں ہلانا ہوں گی۔ جمہوریت کو قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کے لیے صحت مند سیاست کا موجود ہونا ناگزیر ہے۔ یعنی جمہوریت اور سیاست ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اللہ اللہ حکیم الامت اس نقطے کی گہرائی کا کس قدر ادراک رکھتے تھے، اسے بیان کرنے کے لیے ان کا یہی ایک مصرعہ کافی ہے: ’’جدا ہوو یں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ سیاست کیا ہے اور چنگیزی کیا ہے؟ سیاست کو سیاستدان چلاتے ہیں اور چنگیزی کو چنگیز خان اور ہلاکو خان چلاتے ہیں۔ تو جمہوریت کو گزند پہنچانے کی غرض سے مفاد پرست طاقتیں سیاسی عمل کو کمزور کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ کوئی مادی ہتھیار نہیں بلکہ پروپیگنڈے کا استعمال کرتی ہیں۔ چنانچہ یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ سیاست پر گفتگو کرنا شرفاء کا شیوہ نہیں۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لفظ سیاستدان کو انہوں نے انتہائی نچلے درجے کے پیشہ ور سے منسوب کردیا ہے۔ یہ ان طاقتوں کے ان ہی کرموں کا نتیجہ تھا کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوگیا تھا۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ شیخ مجیب الرحمن غدار وطن تھا یا نہیں، کیا یہ حقیقت نہیں کہ بطور سیاستدان ہم نے اس کی بات نہیں سنی؟ اس سے پہلے 1950ء کی دہائی میں جب مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں نے وہاں کے رہائشیوں کے لیے ٹوائلٹ فٹنگز کی بات کی تو ہم نے یہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا کہ آپ لوگوں کو ٹائلٹ فٹنگز کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کے لیے تو کیلے کا پتا ہی کافی ہے۔ اور پھر بچے کھچے پاکستان کا بھی حال کونسا اتنا اچھا ہے۔ یہاں جمہوریت اب تک اپنا راستہ ٹھیک سے متعین نہیں کرپائی۔ دنیا مانتی ہے کہ جمہوریت کا راستہ صرف سیاستدان ہی متعین کرسکتے ہیں۔ مگر ہم تو سیاست کو ایک شجر ممنوعہ اور لفظ سیاستدان کو ایک گالی ثابت کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ بے شک اس میں بڑا قصور خود سیاسی پارٹیوں کا بھی ہے۔ وہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے سلسلے میں ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے میں کوشاں نظر آتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ سیاسی پارٹیوں ہی پہ پابندی لگادی جائے؟ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں ہمارے دفاع کی فرنٹ لائن ہیں۔ بے شک ان کی ملک دشمن طاقتوں کے خلاف کامیابیاں انہیں دنیا کی نمبر ایک ایجنسیاں ثابت کرتی ہیں۔ ہماری ایجنسیوں کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ یہ ان کی کھلی آنکھیں اور مستعدی ہی ہے کہ ہم رات کو اپنے گھروں میں چین کی نیند سوتے ہیں۔ ہماری ایجنسیوں کے ہائی رینک آفیسرز اور دیگر ملازمین انتہائی پروفیشنلز لوگ ہیں۔ اب یہ ہماری سیاستدانوں کا کام ہے کہ ان سے ملکی سیاست پہ اثر انداز ہونے کی توقع نہ رکھیں۔ سیاست دانوں میں موجود کچھ کالی بھیڑیں ایسی ہیں کہ جو ان سے غلط قسم کی توقعات وابستہ کرلیتی ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایجنسیاں صرف اور صرف بہترین ملکی مفاد کے تحت کام کرتی ہیں۔ ان میں کام کرنے والے اپنے ادارے سے مخلص ہوتے ہیں۔
البتہ سیاستدانوں کا تعلق چونکہ کسی ادارے سے نہیں بلکہ عوام سے ہوتا ہے، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اقوال و افعال میں عوام کا ذکر بار بار آتا ہے۔ اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقابلے میں وہ اتنے ذمہ دارکبھی اس لیے نہیں ہوسکتے کہ وہ اس سلسلے میں کسی کے سامنے بلاواسطہ جواب دہ نہیں ہوتے۔ البتہ سیاستدانوں کا عوام سے تعلق بلاواسطہ ہوتا ہے۔ اگر سیاستدان کسی ادارے کے سامنے بلاواسطہ جواب دہ ہوجائیں تو یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہوگا۔ ایک بار پھر سے مشرقی پاکستان کی بات کرتا ہوں۔ اس وقت کا المیہ یہ تھا کہ اس وقت کے سیاستدانوں کو اداروں کا پابند کرنے کی بات کی جاتی تھی۔ مشرقی پاکستان کے سیاستدان اس صورتِ حال سے سمجھوتہ نہ کر پائے، اس کانتیجہ بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کی صورت میں سامنے آیا۔ اپنے ہاں اب جبکہ جمہوریت کے خدوخال کچھ واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدانوں کو عوام سے قربت کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کیا جائے۔ ادارے بے شک ان پہ چیک اینڈ بیلنس رکھیں، لیکن انہیں یہ تاثر نہ دیا جائے کہ ان کے سر پر ہر وقت خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ماضی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری بیوروکریسی نے سیاستدانوں کے بال و پر کاٹنے کی ہمیشہ کوشش کی،ان کے کچھ سرخیل جیسے فواد حسن فواد اور احد چیمہ نشانِ عبرت بننے کو ہیں۔ تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کی نشوونما کے لیے بیوروکریسی کے ان بابوؤں کی سرگرمیوں پہ کڑی نظر رکھی جائے جو ملک میں جاری سیاسی سرگرمیوں کو غلط معنی پہنانے کے سیادہ دھندوں میں ملوث ہوں۔ غور کریں تو نظر آئے گا کہ یہ بیوروکریسی کی ہی کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ ان کا طریقۂ کار بے حد پیچیدہ ہوتا ہے۔ اب ذرا قدرت اللہ شہاب ہی کی مثال دیکھ لیجئے۔ المیہ یہ ہے کہ ان کی خود نوشت شہاب نامہ کو بیوروکریسی میں خصوصاً ایک مقدس کتاب کاسا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہماری ادبی اور دانشور حلقے بھی اس کتاب کو ایک اعلیٰ درجے کی تصنیف گردانتے ہیں۔ لیکن آپ ذرا اس کتاب کو غور سے پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس وقت کے سربراہِ مملکت صدر ایوب صرف اور صرف بیوروکریسی کے سر پر چل رہے تھے، ان کی تعریف میں قدرت اللہ شہاب نے کس قدر زمین اور آسمان کے قلابے ملائے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے سیاستدانوں پہ وہ کیچڑ اچھالا کہ محسن پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو بھی نہ بخشا۔ وہ بھول گئے کہ جمہوریت اور سیاست ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ سیاست دانوں کو ناپید کرنے پہ تل جائیں گے تو سیاست کو چلانے کے لیے تو فرشتے آسمان سے نہیں اتریں گے۔ گویا سیاستدانوں کو ہر دم اپنی نفرت کا نشانہ بنانا سیاست کو نفرت کا نشانہ بنانے والی بات ہے۔ جب سیاست نہیں رہے گی تو جمہوریت بھی باقی نہیں بچے گی۔ تب ملک میں ہر طرف وحشت اور انارکی ناچ اُٹھے گی۔