Home / Rizwan Razi Columns / عمران۔مودی الفاظ کی جنگ۔چین کیوں خاموش؟

عمران۔مودی الفاظ کی جنگ۔چین کیوں خاموش؟

ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان نے اپنے انتخاب کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندرا سنگھ مودی کی طرف سے مبارک باد کے رسمی خط کے جواب میں جس بے تابی سے امن مذاکرات کا ڈول ڈالنے کی کوشش کی تھی، بھارت نے اسی ڈول میں پانی بھر کے ہمارے منہ پر دے مارا ہے۔ اس نے نہ صرف سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے وزیراعظم کے خط کو نہ صرف اپنے میڈیا کو جاری کیا ، بلکہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست جیسے پرانے اور گھسے پٹے الزام کی جگالی بھی فرما ڈالی ۔ماضی قریب میں جب بھارت کی طرف سے اس نوع کے بیانات آیا کرتے تھے تو ہم امریکہ کے لئے خطے میں گھٹیا کاموں میں مصروف ہونے کے باوصف اس کی منت ترلا کر کے ان بیانات کا جواب دلوا لیا کرتے تھے اور ان بیانات میں امریکہ سے ’’امن پسند ریاست ‘‘ ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرکے خود کو اچھے بچے ہونے کی تسلی کرواکے شاداں وفرحان ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن یاد ماضی عذاب ہے یارب، اب امریکہ کی یاریاں بھارت کے ساتھ ہو گئی ہیں، اور پومپیو صاحب ہمیں حال ہی میں دھمکی بھی لگا گئے ہیں جس کے جواب میں ہمارے وزیر خارجہ بھاگم بھاگ افغانستان بھی پہنچے اور افغانیوں کو چالیس لاکھ ٹن گندم بھی تحفے کے طور پر دان کی اور اب مزید منت ترلا کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بہانے حاضر ہونے جا رہے ہیں۔ اس اہم اور نازک موقع پر ہماری حمائت میں چین ہی وہ واحد ملک تھا جس کا بیان ہمارے حق میں آسکتا ہے، لیکن اس کو ہم نے ’’سی پیک کی سکیورٹی کو خطرہ‘‘ کا بہانہ بنا کر اور سی پیک کے تمام معاہدوں کو عوام کے سامنے لانے کا اعلان کر کے (اور گویا یہ تاثر دے کر یہ معاہدے شائد شفاف نہیں تھے اور ان میں بھاری کرپشن ہو رہی تھی) پہلے ہی خود ہی دور کر لیا ہے، اور یوسف بے کاررواں کے مصداق اب عالمی سطح تہنائی کا شکار ہو کر ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں کہ کوئی حمائت کی آواز ہمارے لئے بھی اٹھے۔ پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے بلند و بانگ دعوے کے ساتھ برسراقتدار آنے والے عمران خان کو جب آٹے دال کا بھاو معلوم ہوا ہے تو وہ بھارتی دفتر خارجہ کی گھٹیا حرکت سے بھی زیادہ گھٹیا سطح پر اترے اور مودی کو طعنے دینے شروع کردئیے۔ ایسی باتیں نامعلوم اور جعلی میڈیا ٹرولز کی طرف سے سوشل میڈیا پر شائد مناسب لگتی ہوں لیکن ایک اعلیٰ عہدے (یعنی وزارت عظمیٰ )پر فائزشخص سے ایسی بات کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ لیکن وہ کیا ہے کہ میرے وزیراعظم کپتانی کے دنوں سے ہی ایسی حرکتیں اور باتیں کرتے آ رہے ہیں جس کی کسی کو ان سے توقع نہیں ہوتی تھی، اس لئے ہم اس موقع پر قوم کے لئے برداشت اور صبر کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔ بس یہ احتیاط لازم رہے کہ ایسے غیر ذمہ دار اور غیر سفارتی بیانات دے کر کہیں ہم بھارتی وزیراعظم کی مقامی سیاست میں گرتی ساکھ کو سہارا دینے کا باعث تو نہیں بن رہے؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت بری بات ہے۔ 

Share your Comments

comments