Home / Urdu Columns / پاک بھارت مذاکرات کا مستقبل

پاک بھارت مذاکرات کا مستقبل

حروف
نوید چودھری

بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بات کرنے سے پہلے خطے کا ماحول اور عالمی صورت حال کو مدنظر رکھے جانا ہمیشہ سے لازم رہا ہے۔ سفارت کاری ایک مکمل پروفیشنل اور پیچیدہ عمل ہے۔ الفاظ کا انتخاب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ جذباتی نعروں اور بیان بازیوں کی سرے سے گنجائش نہیں۔ لیکن اگر ایسا کیا جائے تو الٹا منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔ ہم بطور پاکستانی ہی نہیں بلکہ ایک غیر جانبدار شہری کی حیثیت سے بھی حالیہ واقعات کا جائزہ لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت جس طرح مذاکرات کی بات مان کر فرار ہوا ہے وہ ناپسندیدہ عمل ہی نہیں بلکہ قابل مذمت عمل ہے لیکن اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے اندر جتنا بھی شور مچا لیں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ جو چیز اس حوالے سے واقعی کوئی تبدیلی لا سکتی ہے وہ عالمی رائے عامہ ہے۔ اس لیے یہ دیکھے بغیر چارہ نہیں دنیا کیا کہہ رہی ہے؟ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد بھارت سے مذاکرات کے لیے سنجیدہ رویہ اختیارکیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں بھارت کے سابق کرکٹر سدھو کو مدعو کیا گیا۔ سنیل گواسکر، کپل دیو اور اداکار عامر خان کو بھی بلایا گیا تھا مگر انہوں نے پہلے سے طے شدہ مصروفیات کا بہانہ بنا کر معذرت کر لی۔ سدھو آئے تو ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گلے ملے اور انہیں بتایا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقام کرتارپور کو یاتریوں کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔ سدھو اس پیشکش سے اتنا خوش ہوئے کہ فوراً بول اٹھے میری زندگی کی بڑی خواہش پوری ہو گئی۔ بھارت میں مگر کچھ اور سوچا جارہا تھا۔ سدھو واپس گئے تو انتہا پسندوں نے ان کے خلاف جلوس نکالنے شروع کر دئیے، غداری کے مقدمات درج کرانے کے لیے درخواستیں دی گئیں۔ ایسے میں بھارتی وزیراعظم نے مبارکباد کا ایک رسمی خط اسلام آباد بھجوایا۔ پاکستانی حکام نے اس کے متن کا جائزہ لینے کے بعد اخذ کیا کہ بات چیت کا کہا گیا ہے، جیسے ہی اس حوالے سے جواب دیا اور خیر سگالی دکھائی گئی، بھارتی دفتر خارجہ نے فوراً تردید کر دی کہ اس خط میں مذاکرات کی بات سرے سے کی ہی نہیں گئی۔ یہ نکتہ بہت اہم تھا، اسی دوران نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم مودی کو خط میں بات چیت شروع کرنے کی پیشکش کی۔ بھارتی حکام نے ایک طرف تو یہ کہا کہ ان کی وزیر خارجہ سشماسوراج اقوام متحدہ جارہی ہیں، وہیں اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر ملاقات ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف انتہائی ناشائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کے خط کا عکس میڈیا کو جاری کر دیا۔ پھر ایک لایعنی بہانہ بنا کر یہ ملاقات ہی منسوخ کر دی۔ ان حرکات سے واضح ہو گیا کہ بھارت کو فی الحال مذاکرات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ماحول مزید خراب کرنے کے لیے بھارتی آرمی چیف نے بھرپور حصہ ڈالا۔ سو اب مستقبل قریب میں بات چیت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہ درست بات ہے کہ بھارت میں ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر ان کی حکومت اس وقت پاکستان سے مذاکرات کے معاملے پر کنی کترارہی ہے لیکن کئی اور بھی عوامل ہیں۔ جب تک پورے حالات کا بغور جائزہ نہیں لیا جاتا تب تک اس حوالے سے آگے بڑھنا ہمارے لیے بھی ممکن ہے نہ سود مند۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ 400ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کے ساتھ 8.2فیصد کے گروتھ ریٹ نے اس کی پوزیشن کو مستحکم بنا رکھا ہے۔ بھارت کی صرف مڈل کلاس کی تعداد امریکہ کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ مودی متحدہ عرب امارات گئے تو مندر کا افتتاح ہو گیا۔ سعودی عرب گئے تو شاہ سلمان نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا۔ امریکہ تو بھارت کے ساتھ ہے ہی، چین بھی کسی صورت بھارت کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا۔ ظاہر ہے کہ روس کو بھی ایسی کوئی خواہش نہیں۔پھر رہ کیا گیا؟ علاقے میں بھارت کا کردار بڑھانے کے لیے امریکہ پوری طرح سے پشت پناہی کررہا ہے۔ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ کا اندازہ لگانے کے لیے محض یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر کابل گئے۔ ہر طرح کی یقین دہانیاں کرائیں، 360 ٹن گندم کا تحفہ دیا۔ وہ واپس لوٹے تو افغان صدر اشرف غنی فوری طور پر نئی دہلی چلے گئے اور پاکستان سے تازہ رابطوں کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بریفنگ دی۔
بھارت پچھلے کئی سالوں سے جہاں سفارتی محاذ پر تیزی سے پیش قدمی کررہا ہے وہیں اس کی یہ منصوبہ بندی بھی ہے کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا نشانہ بنایا جائے۔ ان حالات میں دوست ممالک بالخصوص چین کا یہی مشورہ ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ برصغیر کی ان دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان صلح صفائی کے لیے کوئی بھی تیسرا ملک ’’بڑے‘‘ کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کسی کو یہ موقع دینے پر تیار ہی نہیں۔بھارتی حاضر سروس نیوی افسر کلبھوشن کا جاسوسی اور دہشت گردی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں بلوچستان سے پکڑے جانا بہت بڑا واقعہ ہے مگر عالمی برادری نے اس حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی ہزاروں کا خراج لے چکی۔ بھارت کی 6 لاکھ سے زائد فوج وہاں مصروف ہے۔ اس صورت حال کا مالی نقصان اتنا ہونا چاہیے تھا کہ بھارتی حکومت مسئلے کے حل کی جانب سوچتی۔ وہ الٹا جبر وستم کو اپنے حق میں ایشو بنا کر جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جانی نقصان اور سکیورٹی اخراجات نے بھارتی معیشت پر معمولی اثر بھی نہیں ڈالا تو اسے اپنا رویہ بدلنے کی کیا ضرورت ہے؟ کسی نے کیا خوب تجزیہ کیا ہے کہ امریکہ اور بھارت کی معیشتیں اتنی تیزی سے ترقی کررہی ہیں کہ صدر ٹرمپ کا جھوٹ اور وزیراعظم مودی کا ہندتواکا غیر حقیقی بیانیہ ہضم کیا جارہا ہے۔ نئے پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیے گئے اقداما ت سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ مودی کے یار والا نعرہ سیاسی مقاصد کے تحت لگایا گیا تھا۔ پاکستان کو اپنی معاشی صورت حال سنبھالنے کے لیے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی فوری ضرورت ہے۔بھارتی حکومت اس وقت اونچی ہواؤں میں ہے۔ برابری کی سطح پر مذاکرات تو دور کی بات وہ بات چیت پر سرے سے آمادہ ہی نہیں۔ یہ بات ہمیں بھی اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اختلافی امور پر مذاکرات کے لیے ایک خاص ماحول درکار ہوتا ہے جو فی الحال دستیاب نہیں اور کبھی یہ نوبت بھی آتی ہے کہ برابری کی سطح پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔کارگل واقعہ نہ ہوتا تو واجپائی کی لاہور آمد کے موقع پر ہونے والی بات چیت آگے بڑھ سکتی تھی۔ جنرل مشرف کا دورہ آگرہ اور پھر اس کے بعد واجپائی کے دورہ اسلام آباد کے بعد بھی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اتنا ضرور ہوا کہ بھارت کو لائن آف کنٹرول پر آہنی باڑ لگانے کا موقع مل گیا۔ پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں جتنی احتیاط ضروری ہے اتنا ہی صبر بھی درکار ہے۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ عالمی رائے عامہ کی حمایت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟