Home / Urdu Columns / بیوروکریسی میں اصلاحات کا عمل

بیوروکریسی میں اصلاحات کا عمل

مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
حکمرانی کے نظام کو موثر، شفاف اور عوامی و ریاستی مفادات کے تابع کرنے میں ہماری بیوروکریسی کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی نظام موثر اور شفافیت کی بنیاد پر اسی صورت میں چل سکتا ہے جب ملک میں دو بنیادیں موثر انداز میں کام کررہی ہوں ۔ اول قانون کی حکمرانی کا تصور جہاں بغیر کسی تفریق کے قانون بالادست ہو، دوئم ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی اور لوگ اداروں کے سامنے جوابدہ ہوں۔کیونکہ جن معاشروں میں قانون اور اداروں کی بالادستی کا تصور کمزور یا لاچار ہو وہاں معاشرے میں انتشار کی کیفیت نمایاں ہوتی ہے ۔آج دنیا میں جو ترقی کے اشاریے موجود ہیں ان میں قانون کی حکمرانی اور اداروں کی بالادستی کو بنیادی فوقیت اور کارکردگی کی درجہ بندی کی جاتی ہے ۔
پاکستان کا حکمرانی کا نظام اور اس کی شفافیت ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہی ہے ۔ اس کی وجہ کوئی ایک فریق نہیں بلکہ اس عمل میں سب فریقین نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے ۔لیکن اس کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ہمارے اداروں ، ادارہ جاتی عمل یا بیوروکریسی کے نظام کو برباد کرکے کیا گیا ہے ۔بدقسمتی سے اس ملک میں سیاسی نظام کے مضبوط ہونے کے مقابلے میں یہاں بیوروکریسی کو زیادہ فوقیت اور بالادستی دی گئی یا انہوں نے طاقت کے کھیل میں حاصل کرلی ہے ۔آج ہماری سول بیوروکریسی اور عوام کے درمیان ایک بڑی بداعتمادی پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ بیوروکریسی کا سارا نظام عوامی مفادات اور ان کو سہولتیں فراہم کرنے سے جڑا ہوتا ہے ۔لیکن جو خلیج عوام اور بیوروکریسی میں تسلسل کے ساتھ مضبوط ہوئی اس نے ان اداروں کی اہمیت کو کمزور کیا ہے ۔
ماضی میں ہماری سول بیوروکریسی کی بڑی اہمیت تھی او ران میں شامل افراد نے ملکی اداروں کو مضبوط بنانے میں اپنی پوری کوششیں پیش کیں ۔ اس لیے آج اگر ہمارا بیوروکریسی کا ایک مضبوط نظام موجود ہے تو اس کی وجہ ماضی کی بیوروکریسی کا ادارہ جاتی عمل کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار تھا۔لیکن بدقسمتی سے ہم ادارہ جاتی عمل میںآگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف گئے ہیں جس نے ہمارے ادارہ جاتی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں ۔اس لیے آج جب ملک میں نئی اصلاحات کی بات کی جاتی ہیں تو اس میں بیوروکریسی میں بھی اصلاحات کا زکر آتا ہے کہ ہم اپنے ادارہ جاتی عمل کو کیسے قانون کی حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی کے عمل میں پیش کرسکیں ۔
پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے سول سرونٹس کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چند بنیادی نوعیت کی باتیں کرکے اپنے سیاسی سوچ اور ادارہ جاتی فکر کی ترجمانی کی ہے ، جو قابل توجہ ہے ۔ اول بیوروکریسی کو سیاسی مداخلتوں سے آزاد کرنا ، دوئم بیورکریسی کے نظام میں میرٹ کا استعمال، سوئم کرپشن ، بدعنوانی او ر اقراپروری سے نجات ، چہارم نوآبادیاتی ذہنیت سے نکلنے کی سوچ، پنجم احتساب اور جوابدہی پر مبنی نظام ، ششم بیوروکریسی خود کو بدلنے میں پہل کرے اور ایک منصفانہ نظام کی طرف پیش قدمی کرے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے بقول ہم بطور حکمران جتنی اچھی پالیسیاں اور قانون سازی کرلیں ،لیکن اگر بیوروکریسی او رادارہ جاتی عمل حکومت کے ساتھ نہیں ہوگا تو حکومتی کامیابی کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں ۔
لوگوں کو یاد ہوگا کہ خود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جب 11 اگست 1947کو قانون ساز اسمبلی سے تقریر کی تھی تو اس میں عدم مساوات ، بے روزگاری پس ماندگی اور ناخواندگی کا زکر کرتے ہوئے رشوت ستانی ، زخیرہ اندوزی ، اقراپروری اور سرکاری ملازمت کے حصول میں ناجائز استعمال کرنے والی ذہنیت کو ناسور اور رسم قاتل قرار دیا تھا ،بانی پاکستان نے امن وآمان کے قیام ، شہریوں کی زندگی او راملاک سمیت عقائد کی آزادی کے تحفظ اور فیئر پلے اور غیر جانبداری سے حکومت چلانے کا عہد لیا تھا ۔ اسی طرح قیام پاکستان کے چند ماہ بعد بانی پاکستان نے پشاور میں سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’آپ ریاست کے ملازم ہیں او رآپ کے سامنے حکومت یا فرد نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو اولین فوقیت حاصل ہونی چاہیے ۔‘‘
لیکن یہاں حکمران طبقات نے جس انداز سے بیوروکریسی کو چلایا اس نے ان اداروں کو قانون کی حکمرانی کی بجائے محض افراد یا حکمرانوں کے تابع بنا کر رکھ دیا ہے ۔ سب سے بڑ ا مسئلہ بیوروکریسی کی اپنی آزادی او رخود مختاری کا ہے ۔ کیونکہ حکمران طبقات نے ان اداروں کی خود مختاری کو مفلوج کرکے انہیں اپنے مفادات کے تابع بنادیا ہے ۔اپنے من پسند افراد کی تقرری کرکے اول اداروں کو برباد کیا گیا اور دوئم اس میں سیاسی مداخلتیں کرکے اداروں کو قانون کے مطابق چلانے سے گریز کیا گیا ۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ بیوروکریسی قانون اور عوام کے تابع بننے کی بجائے حکمران اور طاقت ور طبقات کی آلہ کار بن کر رہ گئی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیوروکریسی میں میرٹ کا عملی جنازہ نکالا گیا اور ایسے ایسے جونیر افراد کو سنیئر افراد پر ترجیح دی گئی جن کی بنیاد سیاسی نوعیت او ران کو نواز کر اپنے مفادات کا حصول تھا ۔ ان اداروں میں جن بیوروکریٹ نے حکمرانوں نے تابع بننے کی بجائے قانون کا راستہ اختیا رکیا تو ان کو تبدیل کرکے یا کھڈے لائن لگا کر یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ہمیں مزاحمت کار بیوروکریسی قابل قبول نہیں ۔
بدقسمتی سے حکمرانوں کی بداعمالیوں اور بدعنوانیوں سمیت کرپشن کے معاملات پر جس انداز سے بیوروکریسی نے سمجھوتہ کیا وہ بھی قابل گرفت ہے ۔اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں کی کرپشن او راقرا پروری کے سامنے بیوروکریسی خود دیوار نہ بن سکی اور دوئم خود بیوروکریسی بھی اسی کرپشن او ربدعنوانی کی سیاست کا شکار ہوگئی او ران میں سے بیشتر لوگوں نے اختیارات کو دولت کمانے کا زریعہ بنالیا ۔حکمران طبقات نے بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے کے لیے ان میں خود کرپشن اور مراعات کی وہ چھوٹ دی جو محض قومی خزانے کی بربادی اور ضیاع کا سبب بنا ۔ایسی بات نہیں کہ ہمارے پاس بیوروکریسی میں اچھے اور قابل لوگ موجود نہیں ،بلکہ مسئلہ ان کو سیاسی بنیادوں پر پیچھے رکھنے سے جڑا ہے ۔
اس ملک میں پچھلے تین دہائیوں میں بیوروکریسی کے تناظر میں جتنے بھی عوامی سروے ہوئے ا س میں عوام او ران اداروں او ران سے وابستہ لوگوں کے درمیان اعتماد سازی کا ایک بڑا بحران نظر آتا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بیوروکریسی اس حد تک مضبوط ہے کہ وہ سیاسی نظام پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے ۔بلکہ یہاں تو حکمرانی کا ایسا نظام متعارف کروایا گیا کہ خود حکومت نے اپنی منتخب حکومت، ارکان اور وزیروں کے مقابلے میں بیوروکریسی پر زیادہ انحصار کرکے حکمرانی کے نظام کو چلایاجو خود سیاسی نظام کی کمزوری کا سبب بنا۔بیوروکریسی کا نظام کا براہ راست تعلق عوام کے مفادات اور ان کو بہتر اور زیادہ سے زیادہ سہولیات پہنچانے سے جڑ ا ہے ۔لیکن یہ ہی ادارے اگر لوگوں کے مفادات کے تناظر میں بوجھ بن جائیں اور یہاں سے لوگوں کا زیادہ استحصال ہوتو یہ خود بڑا سوالیہ نشان ہے ۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہوگا جب بڑے بڑے سرکاری افسران جو گریڈ 19تا22کے ہیں کو دی جانے والی مراعات بہت زیادہ بادشاہت اور شاہانہ انداز پر مبنی ہے ۔اب جو بیورورکریسی کو دی جانے والی یا حاصل شدہ مراعات سامنے آرہی ہیں اس پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کہ ریاست کے ملازم کو عوام کے ٹیکسوں پر اس قدر شاہانہ انداز فراہم کرکے کس کی خدمت کی جارہی ہے ۔اچھی بات ہے کہ عمران خان کی حکومت نے ان تمام دی گئی مراعات کا سروے کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے میرٹ او رمنصفانہ بنیادوں پر سامنے لایا جاسکے ۔کیا ایک سرکاری بیوروکریٹ کئی کنال پر مبنی مکان اور اس کی دیکھ بھال کے لیے کئی درجن سرکاری ملازم او رکئی گاڑیوں کے ساتھ رہنا چاہیے، اس کا فیصلہ خود مجموعی طور پر بیوروکریسی کے اپنے ادارے کو کرنا چاہیے کہ وہ کس حد تک انصاف کررہے ہیں۔
مسئلہ بیوروکریسی کو دی جانے والی مراعات یا آسانیوں کا نہیں بلکہ بلاوجہ پروٹوکول ، شاہانہ اخراجات اور بڑے محلات پر مبنی مکانات کا ہے ، جو قومی خزانے پر بوجھ بھی ہے او رہمارے جیسے غریب اور معاشی بدحال ممالک میں غلامانہ اور نو آبادیاتی ذہنیت کی بھی عکاسی کرتی ہے ۔جب ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس ملک میں اداروں کی خود مختاری ایک بڑا بحران ہے تو اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت او راداروں میں موجود لوگوں کو ایک پیچ پرہونا چاہیے۔مسئلہ حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان مقابلہ بازی او رجنگ کا نہیں بلکہ قومی مسائل کے ادراک او رفہم کو سمجھنے کا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کیسے ادارہ جاتی عمل کو مضبوط بنانا ہے ۔ان اصلاحات کے لیے حکومت اور بیوروکریسی میں ایک بڑی مشاورت کی ضرورت ہے تاکہ دونوں فریقین ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھ کر آگے بڑھیں اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست کو مضبوط بنائیں ۔