Home / Urdu Columns / کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں

تحریر: ابراہیم مغل
تحریک انصاف کا 2018ء کے انتخابات کے حوالے سے اس کے اس ایجنڈے کو کہ اسے حکومت مل گئی تو وہ تین ماہ کے اندر اندر ملکی حالات میں ایسی تبدیلی لے آئے گی جو واضح طور پر نظر آئے گی، یکسر ردّ کردینا ممکن نہ تھا۔ اصولاً حکومت ملنے کی صورت میں اسے تبدیلی لانے کے تین مہینے چا ہیں تھے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آچکی ہے اور اسے تبدیلی لانے کے لے تین مہینے دیئے بھی جاچکے ہیں۔ گو ابھی تین مہینے پورے ہونے میں نصف عرصہ باقی ہے لہٰذا آنی تبدیلی کے کچھ تو آثار نظر آنا چاہئیں تھے۔ یہ کس فلسفے کی کتاب میں لکھا ہے کہ جب تک تین مہینے پورے پورے منٹوں اور سیکنڈوں کے حساب سے پورے نہ ہوجائیں تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پہ کوئی انگلی نہ اٹھائے؟ نہیں صاحب نہیں! ایسا نہیں چل سکتا۔ خصوصاً جب مدت پوری ہونے میں نصف حصہ باقی بچا ہو اور کسی مثبت تبدیلی کے اثرات دور دور تک نظر نہ آرہے ہو۔ البتہ ہاں اگر تحریک انصاف کے پاس اگر کوئی جادو کی ایسی چھڑی ہے جس سے وہ اچانک تین مہینے کے آخری منٹ میں تبدیلی لے آئے گی تو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ عوام کے اصل مسائل کیا ہیں؟ وہ ہیں منہ زور مہنگائی کی روک تھام، صحت عامہ کی فراہمی، تعلیمی نظام کی بہتری، روزمرہ زندگی کی سہولیات کی فراہمی میں اضافہ۔ اگر کوئی ان مسائل کو کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہوا دیکھتا رہے اور آخری دنوں تک تین مہینوں کے آخری سیکنڈ تک مدت کے پورا ہونے کا انتظار کرتا رہے تو اس کی عقل پہ ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت تو کچھ یوں ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے، اس کی تعمیر کے لیے ہمارے آبا و اجداد نے قربانیاں دی ہیں، اسے ہم اپنے خون پسینے سے سینچ رہے ہیں۔ اسے ہم یوں نادانی کے ہاتھوں برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقت کو بیان کرنے کے لیے بار بار تلخ ہونا پڑتا ہے تو میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ ایک ذی ہوش محب وطن کا فرض ہے کہ اگر وہ وطن میں بربادی کو آتے دیکھے تو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کلمۂ حق ادا کرے۔ بقول حکیم الامت علامہ اقبال ؂
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنو اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا میں بھی کوئی گِل ہوں کہ خاموش رہوں
بات یوں ہے کہ برائی کو بڑھتے دیکھ کر خاموش رہنا خود بھی برائی کا ذمہ دار ہونے والی بات ہے۔ ہمارے وطن کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے دانشور اور لکھاری برے سے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ یعنی وہ کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں۔ وہ اس پارٹی کی برائی کسی صورت سننا ہی نہیں چاہتے۔ بحث میں پڑے بغیر قارئین میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا کوئی لکھاری یوں وطن کی خدمت کا حق ادا کرسکتا ہے؟ میرا مسئلہ یہی ہے کہ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا پابند نہیں ہونا چاہتا۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی ملک اور عوام کے حق میں کارخیر سرانجام دیتی ہے تو اس کی تعریف کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اگر کوئی پارٹی اس زمرے میں سازش کرتی دکھائی دیتی ہے تو اسے بے نقاب کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں برتتا۔ اگر حکومت، سیاستدان اور عوام کی بطور ایک مثلث بات کی جائے تو اس مثلث کا سب سے اہم مگر سب سے معصوم ضلع عوام ہوتے ہیں۔ معصومیت ہی کی بناء پر ہمارے ملک کے عوام کو اس وقت کی حکومت دھوکا دینے میں کامیاب ہوجاتی رہی ہے۔ مگر اس مرتبہ تو ان سے کہا گیا تھا کہ یہ آخری باری ہے اور ایک بڑی تبدیلی کا ان سے وعدہ کیا تیا تھا۔ تین ماہ کے اندر اندر غربت میں کمی لانے کا وعدہ سرفہرست تھا۔ بتاتا چلوں کہ اگر سالانہ شرح نمو سات فیصد تک اوپر چلی جائے تو ہم غربت کے خاتمے کے لیے پر تول سکتے ہیں۔ مگر ایک ذمہ دار عالمی معیشیاتی ادارے کے سر و ے کے مطابق حالیہ دنوں میں یہ شرح مزید کم ہوکر 4.7 فیصد جا پہنچی ہے۔ اس ادارے کے مطابق حالات کے پیش نظر اس کے 4.3 فیصد تک گر جانے کے امکانات واضح ہیں۔ ان حالات میں ہم وزیر اعظم ہاؤس کی آٹھ بھینسیں بیچ کر بغلیں بجا رہے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ، خزانے کے خالی ملنے کا ماتم کرتے ہوئی آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے کی خبر سنا رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر ہر نئی آنے والی حکومت کی مانند اسد عمر بھی خزانے کے خالی ملنے کی خبر سنا رہے ہیں اور اسے جواز بنا کر مہنگائی کے مزید بڑھنے کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں تو اس میں تبدیلی لانے والی بات کہاں گئی؟ چلیں مان لیا کہ آپ کو خزانہ خالی ملا ہے تو حضور یہ تو بتائیے کہ آپ کو بطور ماہر معاشیات اس کی خبر پہلے سے کیوں نہ تھی ؟ کیا آپ اتنے ہی لاعلم تھے؟ اگر آپ واقعی لاعلم تھے تو معاف کیجئے گا آپ کو یہ عہدہ کیوں سونپا گیا ؟ اگر آپ کو اس کا علم تھا مگر اس کے باوجود آپ نے انتخابات میں جیتنے کی غر ض سے تین ماہ کے اندر اندر مہنگائی میں کمی لانے کا وعدہ کیے چلے جارہے تھے تو پھر آپ عوام کو دھوکا دینے کا مرتکب ہورہے تھے۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ موجودہ حالات میں آپ کتنے بڑے جرم کا مرتکب ہوئے ہیں۔ آپ نے عوام کی معصومیت کو اپنے نشانے پہ لیا ہے۔ 
میں نے اپنے کالموں اور بات چیت میں عمران خان کی مالی کرپشن سے پاک روزمرہ زندگی کی تعریف کی ہے۔ مگر کیا تحریک انصاف کا صرف عمران خان کے مالی کرپشن سے پاک ہونا اس کے اعلیٰ و ارفع ہونے کو ثابت کرتا ہے؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ عمران خان اپنے اردگرد کے عہدیداروں اور حواریوں کے مالی کرپشن میں ملوث ہونے کے بارے میں نہ جانتے ہوں۔ چنانچہ عمران خان کا ان کی جانب سے آنکھیں بند کرلینا بھی اتنا ہی برا ہے جتنا ان حضرات کا مالی کرپشن میں برا ہونا۔ مکافاتِ عمل قدرت کا ایک لگا بندھا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں گالی گلوچ کے کلچر کے داغ بیل ڈالنے کی ذمہ داری تحریک انصاف کے کاندھوں پر ہے۔ آج اسے اس کے جواب کاسامنا ہے تو وہ اعلیٰ اقدار کی باتیں کر رہی ہے۔ عوام کی جانب دیکھتا ہوں تو ان کے نزدیک کسی بھی حکومت کی کامیابی کا پیمانہ مہنگائی کے کم ہونے سے منسلک ہے۔ اور مہنگائی کی صورت یہ ہے کہ نہ صرف وہ بڑھ رہی ہے بلکہ اس کے بڑھنے کا جوا ز بھی پیش کیا جارہا ہے۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ اس کے مزید بڑھنے کی منحوس خبر بھی ہنستے ہوئے دی جارہی ہے۔ اس پہ طرہ یہ کہ کھرے صحافیوں سے توقع رکھی جارہی ہے کہ وہ حکومت کی پہلے تین مہینوں میں کامیابیوں کے گن گائیں۔ لیکن جوگن نہیں گاتے انہیں نشانے پہ لیا جارہا ہے۔ اس طور تحریک انصاف کی حکومت صرف جذبۂ انتقام کی حکومت کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ لیکن اگر سب ہی لکھاری آگ سے ڈر کر اپنا دامن سمیٹنے میں لگ جائیں تو وطن کی مٹی سے کیے گئے وعدہ کا کیا بنے گا ؟ کسی نہ کسی کو تو قلم کی آبرو رکھنا ہی پڑے گی اور کہنا پڑے گا ؂
لکھتے رہے جنوں کی حکایتِ خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

Share your Comments

comments