Home / Urdu Columns / غیر سنجیدہ سیاست سے گریز کی پالیسی

غیر سنجیدہ سیاست سے گریز کی پالیسی

مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com
اگر پاکستان نے حقیقی معنوں میں اپنے داخلی اور خارجی سطح پر سیاسی ، سماجی اور معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے تو اسے مجموعی طور پر اپنی موجودہ سیاسی روش کو خیر آباد کہنا ہوگا۔ کیونکہ جو بحران پاکستان کو درپیش ہے اسے سنجیدگی اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ ہی نمٹا جاسکتا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ریاست، حکومت ، اداروں اور دیگر اہم سیاسی ، انتظامی اور قانونی فریقین کے درمیان ایک غیر سنجید ہ سیاست کو غلبہ حاصل ہے ۔ ہماری زیادہ تر توجہ کا مرکز قومی معاملات سے نمٹنا کم اور ایک دوسرے پر الزام تراشی یا سیاسی سکورنگ کا معاملہ زیادہ بالا دست ہوگیا ہے ۔اس طرز کی سیاست میں اگر کوئی سنجیدہ سیاست کا امکان بھی پیدا ہو توو ہ اسی سیاسی محاز آرائی یا ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے کی سیاست کا شکار ہوجاتا ہے ۔
پاکستان میں موجود تمام فریقین جن کا براہ راست تعلق سماج کی تشکیل او راسے موثر او رجاندار بنانے سے جڑ ا ہے وہ سب اپنے اپنے طرز عمل میں غیر سنجیدہ سیاست میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ہم بنیادی طور پر نظام کی تبدیلی کے خواہش مند ہیں ۔لیکن ہمارے مباحث او رفکری مجالس ادارہ جاتی یا نظام کے مقابلے میں شخصیات کی حمایت اور مخالفت میں تقسیم نظر آتے ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہماری ترجیحات میں نظام کم اور شخصیات زیادہ ہیں۔ شخصیات کے گرد اپنا دائرہ بنانا کوئی بری بات نہیں ۔لیکن بعض اوقات اس طرز کا طرز عمل انسانوں کو شخصیت پرستی میں گرفتار کردیتا ہے اور اس سوچ وفکر میں انسان کا سچ پیچھے اور شخصیت کی بالادستی اوپر آجاتی ہے ۔
ہماری پارلیمنٹ، فکری مجالس، ٹی وی ٹاک شوز، تعلیمی اداروں کے مباحث کا مجموعی کردار سیاسی بنیادوں پر تقسیم نظر آتا ہے اور یہ گہرائی کافی بڑھ گئی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم دوسروں کی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دینے ، سننے ، سمجھنے یا اس پر مباحث کرنے کی بجائے محض اپنے سچ کے خول میں قید رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔وہ لوگ جنہوں نے فکری طور پر معاشرے میں ذہن سازی کرنی تھی یا رائے عامہ تشکیل دینی تھی جب وہ خود ہی لعن طعن، عدم برداشت، تعصب اور غیر ضروری بحثوں میں الجھیں گے تو اہم معاملات کا پس پشت جانا فطری امر بن جاتا ہے ۔قوموں کی تشکیل میں اصل کردار اس کے اہل دانش او ران کی دانش کا ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک متبادل راستہ دیتا ہے ۔
پاکستان کی مجموعی حالت کو دیکھیں تو اس میں کسی رومانوی کہانی کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اگر ہم اپنی ہی ریاست یا حکومت کے سرکاری اعداو وشمار کو دیکھیں تو نتیجہ سامنے آجائے گا کہ ہم سیاسی ، سماجی او رمعاشی درجہ بندی میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ۔ سماجی شعبہ کی مفلوج حالت ایک سنگین بحران کی نشاندہی کرتی ہے ۔امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی خلیج او ر طبقاتی بنیادوں پر معاشرے کی جکڑ بندی ظاہرکرتی ہے کہ قوم میں اجتماعیت کا پہلو کمزور اور انفرادی ترقی یا سوچ کو کیسے بالادستی حاصل ہوگئی ہے ۔تعلیم، صحت جیسے بنیادی نوعیت کے شعبوں سے ریاست او رحکومت کی دست برداری او راس پر نجی شعبہ کا مافیا پر مبنی قبضہ نے عا م ، کمزور او رمحروم طبقات کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم کردیا ہے ۔
نوجوان طبقہ جو عددی تعداد میں بہت بڑھ گیا ہے ۔ اس میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں فریق شامل ہیں ان کے لیے ہمارے پاس آگے بڑھنے کے مواقع بہت کم ہیں ۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں ، لیکن روزگار نہیں ۔ حکومتی اور ریاستی سطح پر ایسی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی جو ظاہر کرسکے کہ کچھ برسوں میں یہ نوجوان لڑکے او رلڑکیاں اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کے دھارے میں بھی شامل ہوسکیں گے ۔نوجوانوں کے چہروں پر پھیلی مایوسی ، غیر یقینی او رہیجان کی کیفیت سے واقعی ڈر لگتا ہے اور خطرہ ہے کہ یہ لوگ اپنا حق نہ ملنے کی صورت میں انتہا پسندی سمیت ایسے مسائل کا شکار ہوجائیں گے جو ریاست کے نظام میں خطرات پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔
سیاسی ، معاشی پالیسیاں طبقات کے اندر گھری نظر آتی ہیں ۔ ایسی پالیسیاں جو عام انسانوں کو کھڑا کرسکے اس کا بڑا واضح فقدان ہے ۔مثال کے طور پر ہم پڑھے لکھے بے روزگاروں کا تو ماتم کررہے ہیں لیکن کیا حکومتی سطح پر ایسی پالیسی بھی ہے جو لوگ پڑھ نہیں سکے ان کے بارے میں بھی غور وفکر کرتی ہے کہ ان کا کیا کرنا ہے ۔قرضوں اور سود میں ڈوبی معیشت، بری طرز حکمرانی او رسیاسی اقراپروری پر چلنے والا نظام ان ہی لوگوں کو فائدہ یا ریلیف دے سکتا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں اختیار یا طاقت رکھتے ہونگے ۔ کمزور لوگ کدھر جائیں او رکون ان کا ہاتھ پکڑے یہ وہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو آج ہمارے اہل دانش اور حکمران طبقا ت میں کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے ۔
ہم جتنے مرضی ترقی او رخوشحالی کے دعوے کرلیں لیکن اس بنیادی فہم سے غافل نہ ہوں کہ بہت تیزی سے ملک میں حکومت ، ریاست اور عوام میں نہ صرف خلیج بڑھ رہی ہے بلکہ اعتماد سازی کے بحران نے بھی ایک دوسرے کو لاتعلق کردیا ہے ۔یہ جو تصور ہے کہ ہمیں اجتماعیت کے ساتھ مل کر حالات کا مقابلہ کرنا ہے بہت کمزور ہے ۔کیونکہ ہماری ساری پالیسی انفرادی سطح کی عکاسی کرتی ہے ۔جس تیزی سے ہمارے میڈیا میں عام آدمی کے مسائل کی بجائے ریٹنگ کی سیاست کے تناظر میں نان ایشوز کی سیاست ہورہی ہے وہ واقعی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔جن مسائل پر سنجیدگی سے مباحث ہونے چاہیے اس پر خاموشی اور ریٹنگ نہ ہونے کا طعنہ دے کر بحث کے دروازے بندکرنا مسائل میں اور زیادہ اضافہ کا سبب بن رہا ہے ۔ یہ جو نئی نسل میں عدم برداشت بڑہ رہا ہے اس کی جہاں سیاسی او رمعاشی محرکات ہیں وہیں میڈیا نے بھی ان لوگوں کے اہم ترجیحی مسائل سے کنارہ کشی اختیا رکی ہوئی ہے ۔
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی حیثیت سپریم ادارہ کی ہے ،حکومت ایسی پالیسیاں سامنے لاتی ہے جو کسی ایک طبقہ سے ہٹ ایسی پالیسیاں سامنے لاتی ہے جوسب کے قابل قبول ہو۔ لیکن لگتا ہے کہ پارلیمنٹ سمیت سارا حکمرانی کا نظام ملفوج ہے ۔ بیوروکریسی میں ایک بڑی انتظامی سرجری کے بغیر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکے گا۔ ایک طاقت ور طبقہ ہے جو ہر شعبہ میں موجود ہے اور وہ موجودہ روائتی حکمرانی کے نظام کو اپنے مفاد کے لیے طاقت سمجھتا ہے ۔اس لیے یہ طبقات خود ایک بڑی تبدیلی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ،تاکہ ان کے ذاتی مفاد کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔
سیاسی جماعتوں، میڈیا ، سول سوسائٹی ، علمی و فکری دانش گاہیں ، حکمرانی کے نظام میں شامل فریقین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر واقعی کچھ تبدیل کرنا ہے تو موجودہ حکمت عملی سے کچھ نہیں ہوسکے گا۔ملک میں تبدیلی کے لیے ایک بڑی سیاسی اور معاشی حکمت عملی سمیت مزاحمت کی ضرورت ہے ، مزاحمت سے مراد بندوق اٹھانا نہیں بلکہ ریاستی وحکومتی نظام پر ایک بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرنا یا بیدار کرنا ہوگا ۔ اہل دانش کو اپنے موجودہ کردار پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور طاقت ور طبقات کا ترجمان بننے کی بجائے عام آدمی کی سیاست کو ترجیح دینی ہوگی ۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمیں مسائل میں فریق بن کر مسائل کو اور زیادہ بگاڑ کا حصہ نہیں بننا بلکہ ہمیں مسائل کے حل کی طرف پیش رفت بھی کرنی ہے او راس کا حصہ بھی بننا ہے ۔ اپنی دانش کو حکمران ؂طبقات کی خوشنودی یا اپنے مفاد تک محدود کرنے کی بجائے اسے معاشرے کی موثراور شفاف تشکیل کی طرف بڑھانا ہوگی ۔یاد رکھیں سماج کو تبدیل کرنا او راسے عوامی امنگوں میں لانا بغیر کسی سیاسی تبدیلی او رجدوجہد کے ممکن نہیں۔ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو انسانوں پر سرمایہ کاری کو اولین فوقیت دیتا ہو۔ انسانون پر سرمایہ کاری سے مراد انسانوں او ربالخصوص کمزور طبقات کو اس شکل میں کھڑا کرنا ہے کہ وہ اپنی ترقی کا راستہ خود تلاش کرسکیں ۔
کرپشن، بدعنوانی او رکڑا احتساب کا نظام ہی معاشرے میں پھیلے ہوئی گندگی کو صاف کرنے میں کلیدی کردا ر ادا کرسکتا ہے ،لیکن یہ بلاتفریق ہونا چاہیے۔حکمرانی کے نظام میں عام آدمی کو شامل کرکے ہی اپ اس نظام حکمرانی میں اس کی اپنی سیاسی ملکیت کے تصور کو اجاگر او ر مضبوط کرسکتے ہیں ۔اس کے لیے ہمیں مجموعی طور پر اپنے پورے سیاسی ،سماجی ، قانونی اور معاشی نظام کا پوسٹ مارٹم کرکے اس میں بنیادی نوعیت کی ترجیحات لانی ہوگی ۔ یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم پورے نظام کو نئے سرے سے Re-Structure and Re-defineکریں ۔لیکن اس کے لیے ایک مضبوط سیاسی نظام ، سیاسی قیادت اور ایک فعال میڈیا و سول سوسائٹی درکا رہے جو موثر حکمرانی کے نظام کو تشکیل دینے میں عوام کو ساتھ ملاکر کلیدی کردار ادا کرسکے۔

Share your Comments

comments