Home / Rizwan Razi Columns / آئی ایم ایف کے سامنے یہ فیصلہ ہمیں کرنے کا اختیار ہے کہ پہلے جوتے یاپیاز؟

آئی ایم ایف کے سامنے یہ فیصلہ ہمیں کرنے کا اختیار ہے کہ پہلے جوتے یاپیاز؟

تحریر: رضوان الرحمن رضی
پاکستان کا اپنے مالیاتی مسائل کے حل کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی مسئلہ نہیں، پاکستان ایک درجن مرتبہ پہلے بھی اس کے پاس جا چکا ، اور عالمی مالیاتی فنڈ قائم بھی اسی مقصد کے لئے کیا گیا تھا،، اورآئی ایم ایف کے پاس ایک درجن مرتبہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ایک درجن مرتبہ اس کو خیرباد بھی کہا ہوگا؟ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں کیوں کہ اس کا پروگرا م ہوتا ہی تین سال کے لئے ہے۔ لیکن اس کو امرت دھارا ثابت کرنے لئے رو بہ عمل پارٹی، یعنی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز نے تو جعل سازی کی حد ہی کردی ہے، یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے اور ان کی جہالتوں اور خباثتوں کا مظہر۔ پی ٹی ٓئی ٹرولز کی جانب سے ایک جعلی ڈیٹا ٹیبل سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2013 سے لے کر 2018 تک پاکستان نے آئی ایم ایف سے 24ارب ڈالر قرض لیا۔ عقل کے ان اندھوں کو نوید ہو کہ کچھ ہی سال قبل جب یونان نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیاتو پوری یورپین یونین اس کے قدموں میں بیٹھ کر منت ترلا کرنے لگی بات اس پر طے ہوئی کہ یونان کو منہ مانگا قرض دیا جائے تاکہ وہ ڈیفالٹ ڈیکلئر نہ کرے۔ اور یونان نے منہ سے مانگ کر 16 ارب ڈالر لئے تھے اب اگر خان کے معاشی جاہلین کی چوبیس ارب ڈالر والی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب تو یہی بنتا ہے ناں کہ(میرے منہ میں خاک) پاکستان دیوالیہ پن سے بھی آگے جا چکا ؟ بس یہی وہ شہتابیاں اور مہابونگیاں ہیں جن سے میرے جیسوں کا ’’تراہ‘‘ نکلا ہوا ہے۔ جس وزیر اعظم کو ’’جاری کھاتوں کے خسارے‘‘(کرنٹ اکاونٹ خسارے) اور ’’تجارتی خسارے‘‘ کے درمیان فرق کا علم نہ ہو اور وہ لائیو بیٹھ کر قوم کو بھاشن دے کہ اس معیشت کی حالت کیا ہے؟ تو اس حالت پر اپنا سر پیٹنے کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ابھی کچھ ہی دن جاتے ہیں کہ میاں نواز شریف ،بے نظیر بھٹو ، یوسف رضا گیلانی ، وزرائے اعظم ہوتے تھے، ان کو جب بھی معاشی حوالے سے کوئی بات پوچھی جاتی وہ اسے وزیر خزانہ کو ریفر کر دیتے کہ وہ جواب دیں گے۔ لیکن یہاں تو کمانڈو کے ورثا بیٹھے ہیں اور جن کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ انہیں ’’سب پتہ ہے‘‘۔ کمانڈو سے یاد آیا کہ مشرف، زرداری،اور نوازشریف کا دور بھگتانے والے جناب ڈاکٹر وقار مسعود المعروف آئی ایم ایف والی سرکار ، موجودہ حکومت کی بھی آئی ایم ایف میں جانے کی عرضی لکھنے پر ملازم ہو گئے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے اگلے دن ہی موصوف ایک نجی ٹی وی چینل پر ’’گذشتہ ادوار‘‘ کی معاشی پالیسیوں کے بخئے ادھیڑتے پائے جا رہے تھے، جن کے وہ خود مدیر رہے تھے ۔ان کے علاوہ ٹی وی اینکر، فرخ سلیم، جناب رزاق داود، جناب ڈاکٹر عشرت حسین، جناب ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بھی حکومت کی اقتصادی ٹیم میں چھلانگ لگا دی ہے۔ شنید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں جناب ڈاکٹر سلمان شاہ بھی ادھر پہنچ سکتے ہیں۔ یعنی جو کام یہ سب لوگ مل کر کریں گے، وہ حافظ اسحاق ڈار اکیلے ہی کیا کرتے تھے۔ حکومت جس دھوم دھڑکے کے ساتھ بینڈ باجوں اور شہنائیوں کے ہمراہ آئی ایم ایف کے پاس پہنچی ہے، اور جس طرح امریکیوں نے ہمیں دیکھتے ہی شور مچانا شروع کردیا ہے، تو اس کا نتیجہ بہت واضح ہے۔ جو کچھ بھی ملے گا بہت سخت شرائط پر ملے گا۔ ڈالر میں دیہاڑی لگانے والوں کی اگلی دیہاڑی کس میں ہو گی، آپ کو عنقریب پتہ چل جائے گا۔ لیکن آئی ایم ایف کی سب سے پہلی شرط، چین کو پاکستان سے نکالنا ہے جس کا اظہار وال سٹریٹ جرنل کی آج کی خبر سے ہو بھی گیا ہے۔ اور اگر ہم چین کو نکالیں گے تو اس کی انیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے تو ساقط ہو جائیں گے یعنی ان انیس ارب ڈالر کا سود ہم ادا کر رہے ہوں گے جب کہ ان منصوبوں کا فائدہ ہماری معیشت کو نہیں ہو رہا ہو گا، یعنی سو جوتے بھی سو پیاز بھی۔ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار تو جناب وزیر اعظم کے پاس ابھی ابھی باقی ہے کہ پہلے کیا کھانا ہے، جوتے یا پیاز؟ 

Share your Comments

comments