Home / Rizwan Razi Columns / پچاس لاکھ گھروں کا خواب! کتنا خواب کتنی حقیقت

پچاس لاکھ گھروں کا خواب! کتنا خواب کتنی حقیقت

تحریر: رضوان الرحمن رضی 
وزیراعظم جناب عمران خان نے ایک خطاب کے ذریعے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے آغاز کا اعلان کیا جس اعلان میں انہوں نے اچھے دنوں کی امید میں برے دن دیکھنے اور برداشت کرنے کی نوید سنائی۔ گھر سازی کی صنعت دنیاکے کسی معاشرے کا ایک بنیادی اقتصادی اشاریہ سمجھی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں گھرسازی کے اعداد و شمار آنے پر ایک غلغلہ سا مچ جاتا ہے۔ اگر زیادہ گھروں کے تعمیر کی خبر ہوتو باقی اقتصادی اشارئیے بہتری کی جانب مائل ہو جاتے ہیں، اور اگر یہی اعدادوشمار خراب ہوں تو اقتصادی اشارئیے تنزلی کی جانب رواں دواں ہوجاتے ہیں۔ یہی حال یورپین یونین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کا بھی ہے۔ گھرسازی کی صنعت چلنے سے کم از کم 122صنعتیں چلتی ہیں۔ یوں معیشت میں پیسہ گھومتا ہے اور نئی دولت تخلیق پاتی ہے۔ ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردگان کی عوام میں موجود فیصلہ کن حمائت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی ایک دہائی قبل انہوں نے سرکار کی طرف سے گھر تعمیر کر کے لوگوں کو دینے کے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت سات سال میں چار لاکھ گھر بنائے گئے۔ ترکی ترقی کے لحاظ سے بھی یورپ کا حصہ ہی تصور ہوتا ہے ، اس لئے یہ مسلم ممالک میں سے ترقی یافتہ ترین معیشت کا حامل ہے اور اس کا جی ڈی پی حجم میں ہمارے جی ڈی پی سے کوئی چھ گنا بڑا ہے۔ لیکن اس ملک نے بھی چار لاکھ گھروں سے زیادہ کا رسک نہیں لیا۔ اب اگرہم اپنی معیشت کی طرف نظر ڈالیں تو سوا تین سو ارب ڈالر کی جی ڈی پی کی کیا اتنی سکت ہو گی کہ وہ اگلے پانچ سال میں اس قدر رقم ان گھروں کے منصوبے کے لئے مختص کر سکے۔ کچھ ستم ظریف تو یہ کہتے ہیں کہ جس طرح بلئن ٹری سونامی کا مور بھی تمام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر، جنگل میں ناچا تھا، اسی فارمولے کے تحت نئے گھر بنانے کے لئے بھی (فیصل آباد کے علاوہ) دوردراز جگہوں کا انتخاب بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ چند سو گھر بنا کر اپنی کامیابی کا شوروغوغا مچا دیا جائے۔ اب یہ بات پوری طرح کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ بلئن ٹری سونامی کے لئے محض چوبیس کروڑ درخت لگانے کا بجٹ جاری ہوا جب کہ اس میں سے بڑے بڑے سکینڈلز موجودہ سپیکر قومی اسمبلی (ماوتھ ٹو ماتھ ابلاغ والے) اور موجودہ وزیردفاع کے خلاف ابھی تک زیر تفتیش ہیں ۔ اس وقت جس شرح سے ہماری معیشت ترقی کر رہی ہے تو ملک بھر میں سالانہ آٹھ لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ اتنے ہی گھر سالانہ تعمیر نو یا تزئین نو کے عمل سے گذرتے ہیں۔آٹھ لاکھ گھروں میں سے لوگ یا نجی ادارے محض ساڑے چار لاکھ گھر سالانہ ہی بنا پاتے ہیں اور یوں ساڑھے تین لاکھ کی کمی ہر سال گھروں کی مجموعی کمی میں جمع ہوتی چلی جاتی ہے۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ ان خود بخود بننے والے گھروں کو بھی بلئن ٹری سونامی کے درختوں کی طرح اپنی گنتی میں شامل کر کے کامیابی کا شور مچا دیا جائے گا۔ لیکن بات اس پر شائد ختم نہ ہو سکے۔ ایک دوست جو حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کرکے واپس پہنچے ہیں انہیں وہاں پر اس منصوبے کے انچارج جناب انیل مسرت سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے ہمارے علم میں اضافہ فرمایا کہ جناب انیل مسرت صاحب وہاں کے ایک نامی گرامی وارداتئے ہیں، اور اس وقت ان کے خلاف سات کروڑ پاونڈ سے زائد کے ایک بینک ڈیفالٹ کی تحقیقات چل رہی ہیں، کوئی دن جاتا ہے کہ موصوف اس قضئیے میں ہی دھر لئے جائیں۔ انہیں یاتو رقم واپس کرنا ہوگی یاپھر دیوالیہ ہوکر قرقی کا سامنا پڑیگا۔ موصوف شاید اپنے اس دکھ کی دوا کے لئے اپنے پرانے دوست عمران خان کے ملک پدھارے ہیں، دروغ برگردن راوی۔ میاں نواز شریف تو ارشاد بھٹی کے بچوں کا دودھ پی گیا تھا لیکن پی ٹی آئی نے تو بلے کو ہی دودھ کی رکھوالی کے لئے بٹھا دیا ہے۔ 

Share your Comments

comments