Home / Rizwan Razi Columns / ابراج کا کھوج کہیں پاکستان میں ہی نہ آنکلے۔

ابراج کا کھوج کہیں پاکستان میں ہی نہ آنکلے۔

رضوان الرحمن رضی 
نظام زرکا امام ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ صاحب بہادر ، ہرکام بہت صفائی اور احتیاط سے کرتا ہے۔اپنے گندے کام (ڈرٹی جابز) اپنوں اور غیروں کوآوٹ سورس کردیتا ہے، جس کے لئے اسے عالمی منڈی میں ہمہ وقت راتب خور دستیاب رہتے ہیں۔اس لئے وہ ہرغیر ملکی سرزمین سے سرخروہوکر نکلتاہے، جب کہ اپنے پیچھے اپنے وفادارن کی ایک فوج ظفر موج چھوڑآتا ہے جو اس کے جانے کے بعد بھی امریکہ کے ناقدوں اور دشمنوں کے خلاف مصروف عمل رہتے ہیں اور ان کو ہالی ووڈ سے نظریاتی کمک بھی دستیاب رہتی ہے۔ افغانستان کی پہلی جنگ میں جب امریکیوں نے مالیاتی لین دین کرنا تھا، جس کے ذریعے اُس وقت پانچ ارب 20کروڑ ڈالر (صرف ) پاکستان کے حصے میں بھی آئے تھے، تو اس مالیاتی ترسیل کے لئے مختلف ادارے وجود میں لائے گئے ۔ امریکن ایکسپریس بینک کی برانچز توپاکستان میں پہلے سے موجود تھیں لیکن افغانستان سے بھیجی گئی منشیات کی ’’غلیظ کمائی ‘‘کی لین دین کے لئے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس (بی سی سی آئی )کو وجود میں لایا گیا، اور اس کے سہولت کا راماراتی عرب بنے۔ حیرت انگیز طور پر جیسے ہی روس نے افغانستان سے مراجعت اختیار کی تو اسی کام کو الزام بنا کر برطانیہ کے ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ نے بی سی سی آئی کی آخری رسومات کا اہتمام فرما دیا۔ لیکن جب اس نے افغانستان پر دوبارہ خود حملہ کیا تو امریکن ایکسپریس کی باقیات جو اب ’’جے ایس بینک‘‘ کا نام اختیار کر چکی تھیں ، ان کو پاکستان میں مقامی آپریشن کے لئے استعمال کیاگیا، جب کہ غیر ملکی لین دین کے لئے سٹی بینک کا استعمال ہوا۔ پاکستان میں سے اب امریکیوں کے اپنے فیصلے کے باعث سٹی بینک کا وجود ختم کیا جا چکا۔ لیکن جو رقوم امریکی دھڑادھڑ عطا فرما رہے تھے اور جن کو ’’کھڈے لائن‘‘لگا کر انہیں جعلی بل تھمائے جا رہے تھے، ان رقوم کا کیا کیا جاتا؟ اس کام کے لئے ابراج کیپیٹل جیسے ادارے وجود میں لائے گئے۔ یہاں آغا حسن عابدی صاحب کی جگہ اسی آزمائے ہوئے قبیلے کے عارف نقوی صاحب دستیاب تھے، حیرت اس وقت ہوئی ،جب نئے منتخب ہونے والے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان ہم سے 34ارب ڈالر لے گیا اور کیا کرایا کچھ بھی نہیں تو اس وقت بہت سے لوگوں کا ماتھا ٹھنکا کیوں کہ پاکستان کی وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک کھاتوں کے مطابق تو ہمیں محض 18 ارب ڈالر ملے تھے۔ باقی 15 ارب ڈالر کہاں گئے؟ اس کا جواب تب مل گیا جب ابراج کیپیٹل کی تحلیل کا عمل شروع ہوا تو اس کے کل اثاثوں کی مالیت 15ارب ڈالر تھی ۔ ابراج کیپیٹل کی دیوالگی کی نوبت کبھی بھی نہ آتی، اگر پانامہ کا قضیہ منصہ شہود پر نہ آتا۔ جیسے ہی پانامہ کا ڈرامہ منظر عام پر آیا اور اس پر جس طرح پاکستان میں الٹی زقندیں (ٹپوسیاں یا پٹوسیاں ) بھری گئیں تو بہت سے نامعلوم افراد کو یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ بات بڑھتے بڑھتے ان کے خفیہ خزانوں تک نہ آجائے توانہوں نے اپنی رقوم ابراج سے نکالنا شروع کردیں جس کے نتیجے میں ابراج کو خودکودیوالیہ قرار دینے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہا۔ لیکن اس ادارے کے کاغذات و دستاویزات اس لئے بھی منظر عام پر نہ آسکیں کیوں کہ اس ادارے کو بل گیٹ نے بھی ایک ارب ڈالر دیا تھا اور اس نے اس کی طرف سے ابراج کے خلاف امریکی عدالت سے لیکویڈیشن (تحلیل ) کا آرڈر حاصل کرکے اس کے تمام نظام اور دستاویزات پر اپنے بندے بٹھا دئیے۔ ابراج کے سربراہ عارف نقوی کی ایک ای میل صرف امریکی اخبار ، وال سٹریٹ جرنل میں خبر بننے کے لئے کیسی پہنچی ، اس کے لئے اب کوئی آئن سٹائن ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس سے پہلے جب یورپ میں گستاخانہ کاڑتونوں کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر داعش کے نام پر تخریب کاری کی وارداتیں بڑھنے لگیں تو فرانس کی حکومت نے تمام بے نامی جائیدادوں کے مالکان کا سراغ لگانے اور ان کو منظر عام پر لانے کا اعلان کردیا۔ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ(جو ایک ریٹائرڈ جرنیل بھی تھے) بھاگم بھاگ فرانس پہنچے ، اس عمل کو رکوایا اور اسکے بعد یورپ میں داعش کی کارروائیوں کے نام سے سرگرمیاں حیرت انگیز طور پر ختم ہو گئیں۔ اب ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ ابراج کا سربراہ پاکستان میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں پر سرمایہ کاری کیوں کر رہا تھا؟ تو سیدھا سا جواب ہے، جن لوگوں نے ابراج میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی ان ہی کا پیسہ تھا اور وہ ان کا فنڈ مینیجر ہونے کی وجہ سے ان کا حکم ماننے کا پابند تھا ۔پس ثابت ہوا کہ ابراج کے پاس جن کا پیسہ تھا یہ وہی عناصر تھے جو پاکستان میں نو گیارہ کے وقت سیاہ و سفید کے مالک تھے ، جب اس ملک پر امریکی ڈالر ساون کی بارش کی طرح برس رہے تھے۔ اور اب وہ پی ٹی آئی کو ہر قیمت پر اقتدار میں لاناچاہتے تھے۔ 
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے 

Share your Comments

comments