Home / Rizwan Razi Columns / چوہدری پرویز الہیٰ اور ملک ریاض گٹھ جوڑ

چوہدری پرویز الہیٰ اور ملک ریاض گٹھ جوڑ

تحریر: رضوان رضی

تخت پڑی، ضلع راولپنڈی کے ہزاروں کنال اراضی کا مقدمہ جس میں چودھری پرویز الٰہی نے ناجائز طور پر محکمہ جنگلات پنجاب کی کئی سو ایکڑ اراضی ، بحریہ ٹاون کو الاٹ کی اور اس کا عوضانہ (خبردار کسی نے اسے رشوت کہاتو) بحریہ ٹاون کی سینکڑوں فائلوں کی صورت میں وصول کرکے یہ فائلیں مارکیٹ میں بیچ کر رزق حلال بنا کر سپین میں محلات بنائے اور ساتھ ساتھ سپین میں ہی سولر پلیٹس بنانے والی فیکٹری بھی لگائی ایک الگ مقدمہ ہے جب کہ اسی طرح مبینہ طور پرزرداری صاحب کا اومنی گروپ ،جس کے اوپر ایک سو ایک ارب روپے کی منی لانڈری کا الزام ہے اور میں رقم کی آمد اورروانگی بحریہ ٹاون کے بینک کھاتوں سے ہوتی ہے ، ان دونوں مقدمات میں نظاہر کوئی قدر مشترک نظر نہیں آتی لیکن محض ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے، پاکستان میں پراپرٹی کی دنیا کے سامری جادوگر ، جناب ریاض ملک کا نام۔چوں کہ دونوں مقدمات میں یہ متبرک نام تھا اس لئے آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ کس طرح ریاست پاکستان کے چنگاڑتے دھاڑتے لتاڑتے اور تاڑتے ادارے ایک دم سے سرکس کے سدھائے ہوئے جانور کی طرح خاموش ہو کر ایک سائیڈ پر بیٹھ گئے ہیں۔ ماسٹر پلان کے مطابق راولپنڈی میں محکمہ جنگلات کی اس زمین پر کسی طور کی آبادی نہیں بسائی جا سکتی تھی، یہ بات گورے نے بیسویں صدی کی ابتدا میں بنائے گئی ماسٹر پلان میں طے کردی تھی ،لیکن دیدہ دلیری یہ ہوئی کہ نہ صرف یہ زمین ملک ریاض کو منتقل کی گئی ، بلکہ اس پر بحریہ ٹاون بنا کر لوگوں کو بیچ کر کھربوں روپے کھرے کر لئے گئے، اس امر کے خلاف یہ مقدمہ کئی سال چلا اور پھر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، جواد ایس خواجہ نے وہ تاریخی فیصلہ دیا جس کے تحت یہ ساری سرزمین بحریہ ٹاون سے واپس لے کر یہاں دوبارہ سے جنگلات لگانے کی ہدائت کی گئی۔ جج صاحب کی اس گستاخی کی ان کو اس قدر سزا دی گئی کہ اس ملنگ جج کی شخصیت پرسلمان اکرم راجہ جیسے جعلی شخص کے ذریعے خوب کیچڑ اچھالا گیا ۔ ہمارے ٹی وی میڈیا اینکرز اور اینکریوں کو اس امر کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ یہ مالک کی ہڈی کے لئے کسی حد تک گرسکتے ہیں، یہ اینکرز اور اینکریاں چلتے چلتے کبھی کبھار ، جنرل راحیل شریف پر فقرہ اچھال کر ان کی شان میں گستاخی کر دیتے ہیں ناں، تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ راحیل شریف نے ڈی ایچ اے سٹی اسلام آباد کے لوٹے گئے پیسے ، ملک ریاض سے برآمد کر کے ڈی ایچ اے کو واپس کروائے تھے۔ اسی طرح ان اینکروں اور اینکریوں (اور ایک جگہ تو میاں بیوی دونوں نے ) جسٹس خواجہ کی خوب خوب عزت اچھالی، بس آپ سمجھ لیں سامری جادوگر کی رسائی اور اس کا اثر کہاں تک ہے؟ سامری جادوگر کے خلاف ہونے والے تمام مقدمات ایک ایک کرکے نیب کو بھجوائے جا رہے ہیں، اگر کوئی ادارہ ہچر مچر کرے تو نیب میں بیٹھے ریاض ملک کے راتب خور اس محکمے کو خود فون کر کے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر ان سے مقدمات کی فائل منگوا لیتے ہیں اور پھر ملک صاحب کی ذات والا با صفات کو تما م آلائشوں سے پاک کرکے اپنے لئے بحریہ ٹاون میں نئی سہولتوں کا اہتمام کر دیتے ہیںیوں وہ الزامات ٹائیں ٹائیں فش ہو جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا مقدمے میں سے اول الذکر مقدمے کو چیف جسٹس صاحب نے اپنے ہاتھ مبارک سے ختم کیا ہے جب کہ دوسرا مقدمہ نیب کو بھیج دیا ہے، جہاں اس مقدمے کا بے چینی سے انتظار ہو رہا ہے۔ یہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کاہر چیف جسٹس اپنے دور کے آخری دنوں میں ہی ریاض ملک کے مقدمے پر ہاتھ کیوں ڈالتا ہے؟ اور پھر اس بھاری پتھر کو چوم کر اپنے گھر کی راہ لیتا ہے۔ مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آئی، ٓپ کو سمجھ آ جائے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔