istanbul escort escort bayan escort istanbul istanbul escort yalıkavak
Home / Urdu Columns / سانحہ احمد پور شرقیہ پر قوم اشکبار

سانحہ احمد پور شرقیہ پر قوم اشکبار

تحریر: راؤ شکیل

سانحہ احمد پو ر شر قیہ کے باعث پو ری قو م اشکبا ر ہے اور ہر دل خون کے آنسو رورہا ہے ۔ اس المنا ک سا نحہ پر اظہا ر افسو س کیلئے الفا ظ نہیں ۔اس سانحہ پر قوم کا ہر فر د افسر دہ ہے۔یہ ہماری تاریخ کا المناک باب ہے ،جس کی وجہ سے ہر آنکھ اشکبار ہے۔ پنجاب حکومت کی اپیل پر پاکستان بھر میں سانحہ احمد پور شرقیہ کے باعث عیدالفطر انتہائی سادگی سے منائی گئی ۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کے زیر تحت تمام سرکاری تقاریب منسوخ کردی گئیں جبکہ شہداء احمد پور شرقیہ کے ورثاء کے ساتھ اظہار یک جہتی کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے عید بہاول پور میں ادا کی۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نوا ز شریف اپنا طبی معائنہ منسوخ کر کے خصوصی طور پر بہاول پور پہنچے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ سانحہ احمد پور شرقیہ کے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کے ساتھ عید کے روز اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے اور انہوں نے شہداء کے ورثاء کے ساتھ عید کا دن گزارا تاکہ متاثرین کا کچھ غم کم ہو سکے۔
سانحہ احمد پور شرقیہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 190 تک جا پہنچی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے عیدکے روزوزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کے ہمراہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں سانحہ احمد پور شرقیہ کے زخمیوں کی عیادت کی۔وزیر اعظم محمد نواز شریف اوروزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سانحہ احمد پور شرقیہ کے زخمیوں اور ان کے لواحقین کو بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں دس دس لاکھ روپے کی مالی امداد کے چیک دئیے۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمی ہونے والے افرادکے علاج معالجے کے لئے ہر طرح کے وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کے لیے فرانزک لیب میں سائنسی بنیادوں پر کام کیاگیا اور پنجاب حکومت نے پنجاب فرانزک لیب کی 9 ذیلی برانچیں ہر ڈویژن میں قائم کر دی ہے۔ پنجاب حکومت کے متعلقہ اداروں نے سانحہ کی اطلاع ملنے کے بعداجتماعی اقدامات اورمشترکہ کاوشیں کیں تاکہ متاثرین کے دکھوں کا مداوا کیا جاسکے جو کہ لائق تحسین ہیں،اسی طرح سانحہ احمد پور شرقیہ کے زخمیوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے آرمی اور پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو کاموں میں حصہ لیا۔ حادثے کے زخمیوں کو وزیر اعلیٰ کے ایک ہیلی کاپٹر اور3 آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے منتقل کیا گیاہے۔
سانحہ احمد پور شرقیہ کے نتیجہ میں زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لئے بھرپور اور موثر ریسکیو کا عمل وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی براہ راست نگرانی میں مکمل ہوا اور اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا ذاتی ہیلی کاپٹرزخمیوں کی صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے برن یونٹس میں منتقلی کے عمل میں مصروف عمل رہا۔ان ایام میں وزیر اعلیٰ پنجاب ریسکیو کے عمل کی نگرانی کے لئے بہاول پور میں قیام پذیر رہے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر وفاقی وصوبائی وزرا،سیکرٹریز ، ڈی جی ریسکیو 1122 ودیگر اعلیٰ حکام فوری طور پر لاہور سے بہاول پور جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور مقامی ڈویژنل ایمرجنسی سروس ریسکیو1122، محکمہ ہیلتھ ودیگر اداروں کی معاونت سے متحرک اور فعال ریسکیو آپریشن کے ذریعہ زخمیوں کو فوری طور پر بہاول وکٹوریہ ہسپتال اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال بہاول پور میں منتقل کیا گیا۔آپریشن میں ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122کی59ایمبولینسز اور 120افسران واہلکاروں سمیت دیگر فلاحی اداروں نے اس ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ۔ ابتدائی طور پر سی ایم ایچ بہاول پور میں 35مریض شفٹ کئے گئے جن میں سے 20زخمیوں کو لاہور اور 8کو الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں بذریعہ C-130منتقل کیا گیا۔
وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر ملتان کا برن یونٹ کچھ عرصہ قبل مکمل ہوا ہے اور اس برن یونٹ میں جھلسنے والے 58 افراد کو لایا گیا۔ یہ برن یونٹ جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے وزیر اعلی شہباز شریف کی جانب سے جدید طبی سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے اہم اقدام ہے اور اس کا شمارخطے کے بہترین برن یونٹ میں ہوتا ہے جہاں مریضوں کو نہ صرف بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ ڈاکٹر اور عملہ بھی ان کی نگہداشت کر رہا ہے ۔ بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے سرجیکل یونٹ میں 20مریض جبکہ شعبہ بچہ سرجری وارڈ میں 5زخمی بچے زیر علاج ہیں۔مریضوں کے علاج معالجہ ، نگہداشت اور دیکھ بھال کے لئے اعلیٰ طبی ماہرین اور پیرامیڈیکل سٹاف طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ آخری مریض کی صحت یابی تک علاج معالجہ کا عمل جاری رہے گا۔ سانحہ احمد پور شرقیہ 70 برس کی ناخواندگی کا منطقی شاخسانہ ہے ۔ اگر احمد پور شرقیہ کے کسان ناخواندہ اورغریب نہ ہوتے تو اس طرح پٹرول بھرنے کی وجہ سے اپنی قیمتی جانیں نہ گنواتے۔بدقسمتی سے کرپشن نے ملک میں گزشتہ70سال سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جس سے امیر اور غریب میں تفاوت پیدا ہوئی ہے ۔ لالچ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اس المناک سانحہ پر قوم اشکبار ہے اور ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے اوراس المناک سانحہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ریسکیو1122، انتظامیہ، پولیس، پاک فوج اور محکمہ صحت سمیت متعلقہ محکموں کی جانب سے ریسکیوسرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیااور سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد ریسکیو سرگرمیوں میں تمام اداروں کی اجتماعی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری اداروں اور سیاسی قیادت کے باہمی تعاون سے سانحہ احمد پور شرقیہ کا ریسکیو آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے اوراس ضمن میں مقامی انتظامیہ، طبی عملے اور منتخب قیادت نے اجتماعی کاوشیں کیں۔
صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں اس وقت ماڈرن برن یونٹ کام کر رہے ہیں جن میں جناح ہسپتال لاہور 74 بیڈز ‘ نشتر ہسپتال ملتان 74 بیڈز ‘ الائیڈ ہسپتال فیصل آباد 55 بیڈز‘ مئیو ہسپتال 8 بیڈز ‘ شیخ زید رحیم یار خان 24 بیڈز ‘ سروسز ہسپتال 30 بیڈز ‘ جنرل ہسپتال لاہور 20 بیڈز ‘ چلڈرن ہسپتال لاہور 24 بیڈز اور ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی 20 بیڈز پر مشتمل ہے جہاں آگ سے جھلسنے والے مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔جب کہ صوبہ کے تمام ہسپتالوں میں سرجیکل علاج کے لئے سہولیات میسر ہیں۔ جدید سہولیات سے مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے پنجاب حکومت ہسپتالوں میں ہمہ قسم کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔پنجاب حکومت کی تمام تر ہمدردیاں سانحہ احمد پور شرقیہ کے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ ہیں اورجن کے پیارے اس المناک حادثے میں دنیا سے چلے گئے ہیں،پوری قوم انکے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اس انتہائی المناک اور افسوسناک واقعہ میں کئی افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔سانحہ بہاولپور کے شہداء کو 20 لاکھ اور زخمیوں کو 10 لاکھ ر وپے امداد دی جا رہی ہے۔ سانحہ کے دوران زخمی ہونے افراد کو دوران علاج جاں بحق ہونے کی صورت میں بھی 20 لاکھ روپے ہی دئیے جائیں گے ۔اس رقم سے اُن کے دُکھوں کاازالہ تو نہیں کیا جا سکتاپر لواحقین کی حوصلہ افزائی ہوگی۔واقعہ کی تحقیقات کے لئے حکومتی ٹیم انکوائری کر رہی ہے اور جلد ہی اس کی رپورٹ سامنے پیش کی جائے گی اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے عوام میں شعور اجاگر کرنا ہو گا ۔ تب ہی ہم ایک روشن خیال اور سلجھی ہوئی قوم بن سکتے ہیں۔

About Asif Khalil

Share your Comments

comments