Home / Bongi Naama / خبریں اُن کی تبصرے کاکے کے

خبریں اُن کی تبصرے کاکے کے

خبر
عوامی جمہوریہ چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہونے والی چائنا ریلوے کنسٹرکشن کمپنی نے کہا ہے کہ اس نے اپنے پاکستانی پارٹنر’ ’ظاہر خان اینڈ برادرز‘ ‘ کے ساتھ مل کرایک ارب چھیالیس کروڑ ڈالر مالیت کی 1152 کلومیٹر طویل لاہورتا کراچی موٹروے کی تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ مہینے ہی لاہور تا کراچی موٹروے کی تعمیراتی سرگرمیوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ موٹرویز پاکستان کا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی حکومت ان اثاثوں کی تعمیر و مرمت کے لئے خصوصی انتظام کرے گی ۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف 36 ارب روپے مالیت کی ایم ۔9 موٹروے (کراچی تا حیدرآباد) منصوبے کا پہلے ہی افتتاح کرچکے ہیں۔ جس کے لئے بھی غیر ملکی کمپنیوں کا ہی انتخاب کیا گیا ہے۔سڑکوں کی بات ہو رہی ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے گذشتہ مہینے فیصل آباد تا ملتان (M-4)موٹروے کے تعمیراتی کام کا بھی افتتاح کیاہے۔
یاد رہے کہ ان موٹرویزکی تعمیر’’پاک چین اقتصادی راہداری ‘‘منصوبے کا حصہ ہے ۔جس کے تحت پاکستان کا شمالی ہمسایہ چین پاکستان میں 36 ارب ڈالر کی منصوبہ بندی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت بلوچستان میں گوادر کے مقام پر بننے والی گہرے پانیوں کی بندرگاہ کو 3000 کلومیٹر دور چین کے شہر ژنجیانگ سے ملانا مقصود ہے۔ اقتصادی راہداری میں تیل اور گیس کی پائپ لائنز بچھانے کے علاوہ ریلویز کی تعمیر اور بحالی بھی شامل ہے ۔
تبصرہ :
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی اس خبر سے بین الاقوامی منڈی میں یقینناً پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر پیدا ہوگا۔ لیکن یہ بات ایک عام سے بھیجے (دماغ )میں شاید نہ سما سکے کہ ریلوے تعمیر کرنے والی اس کمپنی کو موٹروے کی تعمیر کا ٹھیکہ کیوں دیا گیا۔ موٹروے کی تعمیر اور ریلوے پٹڑی کی تعمیر اگرچہ ملتے جلتے کام ہی ہیں لیکن آپ کو کیسا لگے گا اگر کوئی یہ کہے کہ وہ اپنے دل کی اوپن ہارٹ سرجری دانتوں کے ایک ڈاکٹر سے کروانے جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں اس چینی کمپنی کی پاکستانی شراکت دار کمپنی (ظاہر خان اینڈ برادرز) بھی پاکستان میں ایک غیر معروف نام ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ لاہور تا اسلام آباد موٹروے جنوبی کوریا کی کمپنی ڈائیوو سے تعمیر کروانے کے بعد جب راولپنڈی سے پشاور ( M-1)کا ٹھیکہ ترکی کی کمپنیوں کو دیا گیا تھا تو ترکی کی کمپنی نے بڑے آرام سے اپنا رزقِ حلال نکال کر آگے یہ ٹھیکہ کم منافعے پر پاکستانی تعمیراتی کمپنیوں کو دیا اور لمبا مال بنا کر بغیر منصوبہ مکمل کئے یہاں سے بھاگ نکلی تھی اور پاکستان کو بین الاقوامی عدالتوں میں بے جا مقدمہ بازیوں میں اُلجھا دیا تھا۔ بعد میں ترک کمپنی کے اس ادھورے کام کر مکمل کرنے کے لئے انہی پاکستانی ٹھیکے دار کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیم بنایا گیا جس نے یہ منصوبہ مکمل کیا تھا۔ اس کنسورشیم میں بیس کے قریب کمپنیاں شامل تھیں۔ لیکن ’’ظاہر خان اینڈ برادرز‘ ‘ نامی کوئی کمپنی ان بیس کمپنیوں میں شامل نہیں تھی ۔یعنی یہ کبھی بھی پاکستان کی بیس بڑی کمپنیوں میں شمار نہیں ہوتی رہی۔
اگر فراڈمیں یکتا اور معروف چینی کمپنیوں کی طرف سے یہ کوئی چمتکار ہے تو اس کا نوٹس لینا ان اداروں کا کام ہے جن کے دونوں اداروں’ ’این ایل سی(NLC)‘‘ اور ’’فرنٹئیر ورکس آرگنائیزیشن(FWO) ‘‘ کو اتنے بڑے منصوبے سے باہر کردیا گیا ہے۔ اس کمپنی کے دبئی میں واقع دفاتر کا حدود اربعہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ کہیں وہ اسحاق ڈار صاحب کے بیٹوں کے ہمسائے یا کرائے دار ہی نہ نکل آئیں۔
ویسے بھی جنرل جنجوعہ کو پاک بھارت مذاکرات کا چارج مل جانے کے بعد اب بے کار بیٹھی سائبر بریگیڈ کو کسی کام تو لگانا ہے۔ اس لئے انہیں اس منصوبے میں کیڑے نکالنے کا نیک کام سونپ دیا جائے تو بہت سوں کو نومبر تک سکون مل جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبریں اُن کی تبصرے کاکے کے
کاکا فسادی

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments