istanbul escort escort bayan escort istanbul istanbul escort yalıkavak
Home / Urdu Columns / میاں شہباز شریف کا مستقبل

میاں شہباز شریف کا مستقبل

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف جو کہ خود کو پنجاب کا خادم اعلیٰ کہلوانا پسند کرتے ہیں، اپنے ترقیاتی کاموں میں ترجیحات کو طے کرتے ہوئے انہیں بروئے کار نہ لاسکے۔ مثال کے طو رپر ان کی پہلی ترجیح ہیلتھ کیئر کا شعبہ ہونا چاہیے تھا، دوسرے نمبر پہ تعلیم کا، تیسرے نمبر پہ انصاف کا اور پولیس وغیرہ کا۔ مگر محض اس بناء پر ان کے دیگر ترقیاتی کام، جس میں ذرائع آمد و رفت کو بہتر بنانے کی غرض سے میٹرو کا منصوبہ، اوور ہیڈ برج کے منصوبے، انڈر پاس کے منصوبے اور شاہراہوں کے منصوبے وغیرہ شامل ہیں کے کریڈٹ سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب ان کی ذاتی دلچسپی اور ذاتی محنت وغیرہ کے بغیر ممکن نہ تھا۔ شمالی لاہور کے حد درجہ بگڑے ہوئے معاملات کو ٹھیک کرنا ہرگز آسان کام نہ تھا۔ مگر انہوں نے اسے ٹھیک کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور سرخرو ہوئے۔ شمالی لاہور کے شہری چشم دید گواہ ہیں کہ وہ وہاں سڑکوں پہ جمع شدہ پانی پہ بارہا پائنچے اٹھا کر ننگے پاؤں چلے۔ آج خصوصاً لاہور اگر یورپ کے خوبصورت شہروں کو شرما رہا ہے تو یہ میاں شہباز شریف کی ذاتی کاوش اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ پنجاب کے دوسرے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ اس وقت شہباز شریف کی نظریں لاہور میں اورنج ٹرین کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پہ مرکوز ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ اورنج ٹرین کے منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد لاہور کا کیا رنگ ہوگا، ایک مشکل امر ہے۔ شہباز شریف، شریف خاندان کے ایک انتہائی اہم ستون ہیں۔ آج کل شریف خاندان انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ سپریم کورٹ کی ترتیب دی ہوئی جے آئی ٹی کے سامنے خاندان کے افراد کو پیش ہونا پڑ رہا ہے۔ ماہ رواں کی سترہ تاریخ کو شہباز شریف کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ وہ ایک منفرد مگر دلکش رنگ کے سوٹ اور ہیٹ کے ساتھ پیش ہوئے۔ وہ ہمیشہ سے اپنے لباس کے بارے میں دلفریب اور دلچسپ حس رکھتے ہیں۔ چنانچہ پانامہ لیکس کے اس مقدمے کو بھگتنے کے لیے جس طور چھوٹے میاں صاحب نے لباس کا انتخاب کیا اس میں ان کی حس مزاح نمایاں تھی۔ مگر بھلا ہو ہمارے ملک کے نقادوں کا کہ وہ تنقید کرنے میں منفی پہلو اجاگر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ اس منظر میں انہوں نے چھوٹے میاں صاحب کے سوٹ اور ہیٹ ہی کو نشانہ بنا ڈالا۔ یہ کسی طور صحت مند رجحان نہیں۔ ا لبتہ ملک کے سنجیدہ اہل نظر ان سب سطحی امور کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ سوچنے پہ مجبور ہیں کہ شریف خاندان کی آئندہ آنے والے دنوں میں اقتدار سے محرومی کی صورت میں میاں شہباز شریف جیسے اعلیٰ منتظم پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا مستقبل کیا ہوگا؟ تاہم اس مسئلے پہ غور کرنے سے پہلے ان کے 27 جون سے شروع ہونے والے روس کے دورے کا ذکر کرلیا جائے۔ اس بارے میں ان سے کچھ گزارشات مندرجہ ذیل ہیں:
تو پہلی گزارش میاں شہباز سے یہ ہے کہ دیگر منصوبوں کے علاوہ وہ روسی حکومت سے ایٹمی بجلی پلانٹ کی خریداری کا معاہدہ کریں۔ یہ پلانٹ تین سے چار ہزار میگا واٹ بجلی پید اکرنے کا اہل ہونا چاہیے۔ اس پلانٹ کی تنصیب فیصل آباد میں اس طور کروائیں کہ وہ فاسٹ ٹریک پہ دو سے تین سال میں مکمل ہوجائے۔ اس پلانٹ کے طفیل فیصل آباد کی انڈسٹری کو پانچ سے چھ روپے یونٹ بجلی فراہم ہونی چاہیے۔ اس سے پاکستان میں پروڈکشن بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری برآمدات کو بھی سہارا ملے گا۔ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ ہماری برآمدات گرتے گرتے اب خطرناک حد تک نچلی سطح پہ پہنچ چکی ہیں۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ ہر سال ہمارا 20 سے 25 ہزار ٹن کینو روس جاتا ہے۔ کوشش کیجئے کہ آنے والے کینو سیزن میں ہمارا دو لاکھ سے تین لاکھ ٹن کینو وہاں جائے۔ تیسری عرض یہ ہے کہ روس میں ہمارے ہاں سے نومبر اور دسمبر میں گڑ اور شکر بھیجی جاتی ہے۔ کوشش کیجئے کہ ہم آئندہ سے وہاں ڈیڑھ سے دو لاکھ ٹن گڑ اور شکر بھیج سکیں۔ اس سے جہاں ہمارے آنے والے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا وہیں اپنے ملک کے گنے کے کاشتکاروں کی کمر سیدھی ہوسکے گی۔ چوتھی گزارش آپ کے اپنے صوبے پنجاب سے متعلق ہے۔ اس وقت صوبے میں بیوروکریسی نے کرپشن کا اتوار بازار لگایا ہوا ہے۔ پنجاب کی بیوروکریسی کے چار سے پانچ بابو ایسے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے عوام کی کھال اتارنے میں بری طرح جتے ہوئے ہیں۔ تو وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں کہ خدارا اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیر کر ان بابوؤں کا صفایا کریں۔ بہت تکلیف سے لکھنے پہ مجبور ہوں کہ لاہور میں آپ کے مقرر کردہ ڈی سی او نے تو کرپشن کے ایسے ایسے نت نئے طریقے ایجاد کرلیے ہیں کہ اگر اس کے پر فوری طور پر نہ کاٹے گئے تو پنجاب کے دارالحکومت میں شورش اس مشکل وقت میں حد درجہ بڑھ جائے گی۔
مندرجہ بالا گزارشات وزیر اعلیٰ میاں شہباز کے گوش گزارنے کی میری حوصلہ افزائی ان کے تین چار روز پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال، قصور کے اچانک دورے سے ہوئی۔ میاں شہباز شریف نے یہ دورہ اس قدر خفیہ رکھا کہ ان کے ساتھ موجود ان کے سٹاف کو بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کا رخ کس جانب ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے کی بناء پر ڈی ایم ایس کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ حق کی کہوں کہ یہ ہے وہ توقع جو ہم ملک کے سب ہی بڑے عہدیداروں سے رکھتے ہیں۔ ملک کے اداروں میں کرپشن کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ چھوٹے ملازمین کو کم تنخواہ دا کرکے بڑی تنخواہ کے کاغذات بھی دستخط کروالیے جاتے ہیں۔ ان چھوٹے ملازمین کی داد رسی کہیں نہیں ہوتی۔ مگر وزیر اعلیٰ نے اپنے دورے کے موقع پر یہی مثال دہاں سامنے آنے پر فوری حکم نامہ جاری کیا کہ ڈی پی او انکوائری کرکے فوری رپورٹ پیش کرے۔ ملک کے خیر خواہ اخبار نویس اور کالم نگار جہاں نااہلی کی بناء پر اعلیٰ عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، وہاں اپنے فرائض کی جانفشانی سے بجا آوری پر اعلیٰ عہدیداروں کو خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کرپشن اور نااہلی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنائے بغیر میں نہیں رہ سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بارے میں میں خود کو رب جلیل کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہوں جس نے مجھے یہ توفیق دی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی عہدیدار کے احسن اقدامات سامنے آئیں، ان کو سراہنے میں کوتاہی برتنے پر خود کو قصوروار سمجھتا ہوں۔تو میاں شہباز کے اعلیٰ اقدامات کو سراہنا اور ان سے ملک کے مفاد کے بارے میں گزارشات کرنا ہی اس کالم کو لکھنے کی وجہ بنا ہے۔
مختصراً یہ کہ صرف پنجاب ہی کو نہیں بلکہ پورے ملک کو میاں شہباز شریف کی ضرورت ہے۔ مگر وہ تو اس شریف خاندان کا اہم حصہ ہیں جس کی حکومت کے خاتمے کی خبریں گرم ہیں۔ بے شک اس حکومت کے خاتمے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، مگر جو تجزیے سامنے چلے آئے جارہے ہیں ان سے آنکھیں پھر لینا کسی کالم نویس کا خاصہ نہیں ہوسکتا۔ گویا کالم نویس کو کچھ امور فرض کرتے ہوئے آگے بڑھنا پڑتاہے۔ اسی پس منظر کے ساتھ سوال اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی سبکدوشی کی صورت میں عنان حکومت کس کے ہاتھوں میں جائے گی؟ اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا مستقبل کیا ہوگا؟ جیسا کہ اوپر لکھا ہے کہ میاں شہباز شریف ہیلتھ کیئر، تعلیم اور انصاف اور پولیس وغیرہ کے شعبوں سے انصاف نہیں کرسکے، مگر یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ اس جانب کوئی توجہ تھی ہی نہیں۔ بلکہ ان کی لگن، محنت اور جانفشانی دیکھتے ہوئے ان شعبوں میں بہتری کی امید رہی ہے۔ خلاصہ یہ کہ وزیر اعظم نواز شریف کی سبکدوشی کی صورت میں میاں شہباز شریف کی خدمات کو فراموش کردینا، نہ صرف ان سے بلکہ پورے ملک و قوم سے زیادتی ہوگی ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آئندہ بھی بے شک کسی بھی سیاسی پارٹی کی یا کسی قسم کی بھی حکومت آئے میاں شہباز شریف کو اس میں اہم کردار دیا جائے۔

About Faisal Kamal

Share your Comments

comments